کشمیر غزہ بن رہا ہے

ایک کشمیری صحافی کے مطابق بھارتی حکومت نے کرونا کا فائدہ اٹھا کر ایک نئے قانون کے نفاذ سے کشمیریوں کا قافیہ مزید تنگ کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر کے عوام گذشتہ برس سے محصور ہیں (اے ایف پی)

اس وقت پوری دنیا کرونا (کورونا) وائرس کے قہر سے جھوجھ رہی ہے۔ کھربوں کی معیشتیں زمین بوس ہونے لگی ہیں، تجارت تباہ حال ہے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ہسپتالوں میں تدفین کے لیے ترس رہا ہے لیکن اس صورت حال کے باوجود بھارتی حکومت کشمیریوں پر زور زبردستی کی پالیسی میں ذرا بھی کمی نہیں لا رہی ہے۔

حال ہی میں جموں و کشمیر پر اب ایک ایسا قانون مسلط کر دیا گیا ہے کہ جس کا مقصد سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ’مسلم اکثریتی کردار کو ختم کر کے غیرمسلموں کو وہاں آباد کرنا ہے تاکہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے جس کے لیے وہ گذشتہ سات دہائیوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

اقامتی قانون یا ڈومیسائل لا کو اختتام مارچ کو جاری کیا گیا جس کو ریاست کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے ایک سازش سے تعبیر کیا ہے اور کشمیر کو ایک کالونی میں تبدیل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

آپ کو یاد ہوگا گذشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی آئین میں شامل آڑیکل 370 اور 35اے کو ختم کر کے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کیا گیا اور ریاستی باشندوں کو حاصل سٹیٹ سبجیکٹ اور خصوصی حیثیت سے محروم کر دیا گیا۔ اس کے خلاف قومی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین، سول سوسائٹی کے ارکان، نوجوانوں اور بچوں کو جیل میں بند کر کے پوری ریاست کو چھ ماہ تک محصور رکھا گیا۔ ترسیل کے تمام ذرائع کو بند کر دیا گیا تاکہ عوام کی آواز کو دبایا جاسکے۔

اب جو نیا اقامتی قانون لاگو کیا گیا ہے اس کی رو سے بھارت کے باشندے کشمیر میں زمین جائیداد کے مالک ہوسکتے ہیں، نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں اور تجارتی ادارے زمین خرید کر اپنی صنعتیں قائم کرسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلبا سات برس کی رہائش کے بعد اگر دسویں یا بارہویں جماعت کے امتحان میں داخل ہوئے ہوں گے تو وہ بھی شہریت حاصل کرسکتے ہیں یا بھارت سے آنے والے ملازمین کے بچے بھی شہریت کے حقدار بن سکتے ہیں۔ پھر کوئی بھی باہر کا ملازم کشمیر میں دس برس رہنے کے بعد وہاں جائیداد خریدنے کا اہل ہوسکتا ہے۔

یعنی کشمیر کی جو اپنی خصوصیت تھی اس کو سرے سے ختم کر کے غیر کشمیریوں کو یہاں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے لیے ہندوتوا سے جڑی جماعتیں سن 1947 سے تاک میں بیٹھیں تھیں۔

حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بھارت کے اس قانون کو بربریت اور جابریت قرار دیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ بھارت کشمیر میں دوسرا غزہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی وبا سے لڑ رہی ہے بھارت کشمیریوں کے سروں پر نئے قوانین لادھ رہا ہے۔ حتی کہ دہلی کی آشیرباد سے جو حال ہی میں نئی پارٹی وجود میں لائی گئی ہے وہ بھی اس قانون کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوگئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


عوامی حلقوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ کرونا سے لڑنے اور علاج ومعالجے پر توجہ دینے کی بجائے بھارتی حکومت کشمیریوں کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے اور اس نے منظم طریقے سے ان کی نسل کشی کے تمام اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔
جموں و کشمیر کے عوام گذشتہ برس سے محصور ہیں۔ انٹرنیٹ کی سہولت اب بھی میسر نہیں ہے۔ شبانہ چھاپوں اور نوجوانوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ معیشت مفلوج کر دی گئی ہے۔ اب جب سے کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہے لوگ انتہائی  سہمے ہوئے اور خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ صحت کا شعبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے، مسلسل پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ڈاکٹر ہمیشہ دباو میں رہتے ہیں۔ اب کرونا کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، غرض ہر طرح سے وہ مصیبت میں پھنس گئے ہیں اور اس پر ہندوتوا کی یہ پالسیاں۔۔۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام اقامتی قانون کے خلاف اف بھی نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف بات کرنے کی اجازت دی گئی۔
ایک کشمیری صحافی کے مطابق ’بھارتی حکومت نے کرونا کا فائدہ اٹھا کر کشمیریوں کا قافیہ مزید تنگ کر دیا ہے جس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی ادارے خاموش تماشائیوں کی طرح ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پانچ اگست کے فیصلے کی طرح پھر بھارتی حکومت کو دوسرا غزہ بنانے کی مہلت دے رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ