کرونا لاک ڈاؤن: 'بڑے عرصے بعد پہلی بار بہار آئی'

گذشتہ کئی دہائیوں سے موسم سرما کے فوری بعد موسم گرما شروع ہوجاتا تھا مگر اس سال لاک ڈاؤن کے باعث سردی کا موسم ختم ہونے کے باوجود ابھی تک گرمیاں نہیں آئیں اور ہمارے پاس بہار کا موسم آیا ہے: سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات ڈاکٹر غلام رسول

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن جاری ہے، جس کے تحت ملک کے اکثر شہروں کی مارکیٹیں، سرکاری دفاتر، تعلمی ادارے اور تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ شہروں کے اندر اور ایک شہر سے دوسرے شہر کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہے۔

اس لاک ڈاؤن کے باعث جہاں معشیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سماجی اور انسانی نفسیات پر منفی اثرات دیکھنے میں آئے ہیں، وہیں ماحول، موسم، جنگلی حیات اور فصلوں پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

محکمہ موسمیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کے وہ شہر جن کا فضائی آلودگی کے حساب سے دنیا کے بدترین شہروں میں شمار ہوتا تھا، اب وہ دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق: 'گذشتہ کئی دہائیوں سے موسم سرما کے فوری بعد بہار کی بجائے موسم گرما شروع ہوجاتا تھا مگر اس سال لاک ڈاؤن کے باعث ہم نے دیکھا کہ سردی کا موسم ختم ہونے کے باوجود ابھی تک موسم گرما شروع نہیں ہوا ہے اور دو دہائیوں میں پہلی بار ہمارے پاس بہار کا موسم آیا ہے، جسے لوگ انجوائے کر رہے ہیں۔'

انہوں نے اس چیز کا کریڈٹ لاک ڈاؤن کو دیتے ہوئے مزید بتایا کہ آلودگی میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور موسم کا پیٹرن نارمل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے سربراہ حماد نقی خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا : 'لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ کے بند ہونے کے باعث ایندھن کا استعمال کم ہوا ہے جس سے خاص طور پر شہروں میں ہوا کی کوالٹی کئی یورپی شہروں کی نسبت بہت بہتر ہوگئی ہے۔'

ایک سوال کے جواب میں حماد نقی خان نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کا جنگلی حیات پر کوئی اثر ہوا ہے، یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا مگر یہ فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ کئی جگہوں پر وہ پرندے جو پہلے نظر نہیں آتے تھے، وہ اس لاک ڈاؤن کے بعد نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات