عمران خان جا نہیں رہے، مزید مضبوط ہو رہے ہیں!

عمران خان نہیں بلکہ ان کو گرانے کے خواہش مند جا رہے ہیں اور ان کے  جانے کی تاریخ کا تعین اور اعلان لندن اور امریکہ میں کرونا وبا کی صورتحال سنبھلنے پر کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان احتساب اور عوام کا معاشی پہیہ تیز کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی(اے ایف پی)

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اِک قطرہ خوں نہ نکلا

پچھلے تین ہفتے پاکستانی سیاست میں بہت دلچسپ رہے۔ جہاں ایک طرف کرونا (کورونا) وائرس نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو انگلیوں پر نچا دیا، وہیں سیاسی میدان میں بھی خوب بھونچال آئے۔

نومبر، 2019 کو نوازشریف  کو علاج کی غرض سے ان کے ضامن بن کر لے کر جانے والے شہباز شریف، شاید کبھی اتنی جلدی اپنے مخصوص ایکشن میں پاکستان واپس نہ آتے ، اگر ان کو یہاں سیاسی خلا پُر کرنے کی گنجائش نہ نظر آتی۔

شہباز شریف  کا پاکستان آنا تھا کہ جڑ سو چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ عمران خان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے اختلافات شروع ہو گئے ہیں اور میاں صاحب کی پاکستان واپسی اس بات کا عندیہ ہے کہ اگلے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے اور اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی۔

ان سرگوشیوں کا بھلا ہو، انہی کے ذریعے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی پتا چلا کہ ان کے آپس میں اختلافات ہیں۔ کروناوائرس کے ابتدائی دنوں میں ہر صحافی اور تجزیہ کار نے حسبِ توفیق وزیراعظم کو خوب مشوروں سے نوازا۔

کچھ نے تو ایک دن ایک مشورہ دیا اور اگلے دن، اس سے بالکل الٹ مشورہ دے کر عمران خان  کی ذہانت اور یاداشت کو آزمایا۔ چین سے پاکستانی طلبا کو واپس پاکستان نہ بلوانے پر جھگڑنے والے، اس بات پر سیخ پا دکھائی دیے کہ ایران سے زائرین کو واپس کیوں آنے دیا۔

 جب بتایا گیا کہ ایران نے ان کو مزید رکھنے سے انکار کر دیا تھا اور کچھ کے ویزے ختم ہو چکے تھے اور پوچھا گیا کہ اگر وہ وزیراعظم کی جگہ ہوتے تو کیا حکمت عملی اپناتے، تب سے الحمداللہ، طبیعت کو کافی افاقہ ہے۔

اس کے بعد گرا اس مہینے کا سب سے بڑا بم، پچھلے پانچ سال پر محیط چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کی صورت میں، جس میں چینی کے کاروبار سے منسلک بڑے بڑے نام آئے کہ انہوں نے مشترکہ طور پر اربوں روپے کی سبسڈی وصول کی۔

اگرچہ سبسڈی وصول کرنا نہ کل جرم تھا، نہ آج ہے۔ اگر جرم ہے تو محض سبسڈی کی چھتری تلے کاغذی گڑبڑ کر کے مال چھپا لینا اور جب منڈی میں ان اشیا کی مانگ حد سے زیادہ بڑھ جائے تو اس کو دوگنی چوگنی قیمت پر فروخت کر کے عوام کا خون چوسنا اور اپنے خزانوں کا پیٹ بھرنا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 25 اپریل کو تفصیلی فرانزک آڈٹ رپورٹ یہ واضح کرے گی کہ اس مصنوعی بحران کی تخلیق میں بیوروکریسی کس حد تک ملوث تھی اور وزرا اور بااثر بزنس مین کس حد تک اور کہاں کتنی غلط بیانی کی گئی۔

اس سارے شور میں اپوزیشن نے اپنے چند لاڈلے صحافیوں کو ساتھ ملا کر ایک بار پھر 'عمران خان گھر جا رہے ہیں' تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک کا آغاز سینیئر صحافی حامد میر  نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا کہ یہ رپورٹ حکومت نے جاری نہیں کی، بلکہ صحافی محمد مالک نے اپنے پروگرام میں 'لیک' کر دی۔

ان کے اس دعوے کو حکومت نے تو جھٹلایا ہی لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ محمد مالک نے دو روز قبل اپنے پروگرام میں حامد میر کو سامنے بٹھا کر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ رپورٹ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے خود دی تھی۔

اسی طرح سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ سیاسی شخصیت تصور کیے جاتے ہیں، ان کی جانب سے نہایت'غیر سنجیدہ' بیان سامنے آیا کہ میں تو بطور وزیراعظم، ن لیگی دور کی 22 ارب روپے کی چینی کی سبسڈی دینے کا ذمہ دار نہیں، کہ بہرحال یہ فیصلہ کابینہ اور ECC کیا کرتی ہے ،البتہ عمران خان اپنے ڈیڑھ سالہ دور میں چینی پر دی جانے ولی تین ارب  روپےکی سبسڈی کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔

اس بیان نے اپوزیشن کی بوکھلاہٹ اور دوہرے معیار کو مزید عیاں کر دیا اور نتیجتاً ان کی جانب سے کی جانے والی بغیر ثبوت کے پیش گوئیاں عوام کو ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہ لگیں۔

رواں ہفتے میں ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کے دفتر میں دو مزید طاقت ور رپورٹس آن پہنچی ہیں۔ ایک 2008 سے لے کر 2018 تک بیرونی قرضہ انکوائری کمیشن رپورٹ اور دوسری پاور سیکٹر انکوائری کمیشن رپورٹ، جس میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

گیلپ کے تازہ ترین سروے کے مطابق، پاکستان کی %65 عوام موجودہ حکومت کے اقدامات سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ حکومت 'احساس پروگرام' کے تحت 144 ارب روپے خرچ کر کے ایک کروڑ، 20 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزارروپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جو کہ تقریباً پاکستان کی ایک تہائی آبادی ہے۔

علاوہ ازیں، وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے 200 ارب روپے کا ایک نیا عوام دوست منصوبہ حکومت کی جانب سے بہت جلد دیا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان احتساب اور عوام کا معاشی پہیہ تیز کرنے کے لیے کمر کس چکے ہیں اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

جس نے جو کرنا تھا، کر لیا، اب جو کرنا ہے، قانون خود ہی کر لے گا۔ حکومت،  اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اہم ادارے جتنا آج قریب ہیں، اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔

 عوام اور پولیس کے درمیان دیرینہ فاصلہ اس ایک ماہ میں کم ہوتا ہوا دکھائی دیا ہے، جو کہ ہماری قومی یکجہتی کےلیے انتہائی خوش آئند ہے۔

عوامی سروے اور تمام بااثر و رسوخ حکومتی اور دیگر حلقوں کا یکسوئی کے ساتھ عوام کی خاطر دن رات ایک کرنا اور اللہ‎ کی مدد سے حالات بہتری کی جانب لے جانا، قوم کو یہ واضح پیغام ہے کہ'عمران خان نہیں، ان کو گرانے کے خواہش مند جا رہے ہیں۔'

 جانے کی تاریخ کا تعین اور اعلان لندن اور امریکہ میں کروناوائرس کی صورتحال سنبھلنے پر کیا جائے گا۔

 بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر