2026 ٹرمپ کے لیے مشکلات لا سکتا ہے

بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے صدر کی طرح نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر 2025 کو فلوریڈا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

امریکہ کے لیے آنے والا سال جشن کا سال ہو گا۔ ایک بڑا جشن۔ پہاڑ پر آباد روشن شہر، ’حق خود ارادیت کا عظیم تجربہ‘، جیسا کہ بانی رہنما ایلگزینڈر ہیملٹن نے کہا تھا، اس سال 250 سال کا ہونے جا رہا ہے، اور شاہی خاندان اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے بحر اوقیانوس کے پار پرواز کر کے آئے گا۔ جارج سوم سے چارلس سوم تک۔ ہیپی برتھ ڈے امریکہ۔

اور ٹرمپ کے حقیقی ’سٹائل‘ میں فوجی پریڈیں، فلائی پاسٹس، مارچنگ بینڈز اور وائٹ ہاؤس کی میزبانی میں اب تک کی سب سے بڑی پارٹی ہو گی۔ وہ تمام سالگرہیں جن کے آخر میں صفر آتا ہے، اکثر خود احتسابی اور غور و فکر کا دور ساتھ لاتی ہیں۔ یہ سال بھی مختلف نہیں ہو گا، اور غور کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے صدر کی طرح نہیں ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جو بین الاقوامی نظام تشکیل دیا تھا، اسے وہ اس کی شکل بدل رہے ہیں۔

ٹرمپ نے حکومت کے تقریباً تمام شعبوں پر اس طرح کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے خلاف بانی رہنماؤں نے سختی سے خبردار کیا تھا۔ سول سوسائٹی حملوں کی زد میں ہے۔ کارپوریٹ امریکہ خوفزدہ دکھائی دیتا ہے۔ میڈیا دباؤ میں ہے۔ سیاسی مخالفین پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ دوستوں کو معاف کیا جا رہا ہے۔ اور یہ سب امریکی جمہوریت کی حالت کے بارے میں کچھ بہت ہی گہرے سوالات پیدا کرتا ہے۔

ہم آنے والے سال میں ’امریکی انفرادیت‘ کے بارے میں بہت کچھ سنیں گے، لیکن یہ انفرادیت تمام غلط وجوہات کی بنا پر ہے۔ یہ امریکہ کے مستقبل اور ’آزاد دنیا‘ کے لیڈر کے طور پر اس کی پوزیشن کے حوالے سے بڑے سوالات ہیں۔ لیکن کچھ چھوٹے سوالات بھی ہیں جو ٹرمپ کے اختیار کو کمزور کر رہے ہیں، اور یہ کہ 2026 کیسے گزرتا ہے، یہ بہت اہم ہو گا۔

ٹرمپ کی دوسری مدت کے ایک سال بعد، سیاسی اور سماجی منظرنامے پر ان کے مکمل غلبے اور آہنی گرفت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔

آئیے بنیادی باتوں کی طرف واپس چلتے ہیں، اور اس طرف کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام سے کیا وعدہ کیا تھا۔ وہ ’دلدل کو صاف کرنے‘ والے تھے، یاد ہے؟ وہ وہ آدمی تھے جو خود غرض اشرافیہ کا مقابلہ کرنے اور محنت کش امریکیوں کے لیے کھڑے ہونے والے تھے۔

لیکن کیا ہوا؟ انہوں نے خود کو کرپٹو، ٹیک اور اے آئی کے ارب پتیوں کے گھیرے میں لے لیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ انہیں خوش رکھنے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں، جبکہ زیادہ سے زیادہ عام امریکی اپنے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔

اور ایپسٹین فائلز کا کیا ہوا؟ گذشتہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ اچانک ان تمام دستاویزات کو جاری کرنے سے ہچکچانے لگے جن کے بارے میں ’ماگا‘ اشرافیہ نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں عام کیا جائے گا۔ ’امریکہ فرسٹ‘ کی اہم حامیوں میں سے ایک مارجری ٹیلر گرین کے ساتھ ان کے اختلاف کا مذاق اڑانا آسان ہے، لیکن ان کا ٹرمپ کے خلاف ہو جانا اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ایپسٹین فائلز پر خاموش رہنے سے انکار کر دیا، اور ان کی ہٹ دھرمی ان فیصلہ کن عوامل میں سے ایک تھی جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی سب سے ناپسندیدہ چیز یعنی ’شرمندگی‘ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔ گرین خاموشی سے نہیں گئیں۔ ان کے مطابق، ٹرمپ نے فون پر ان پر چیختے ہوئے کہا کہ اگر فائلیں جاری کی گئیں تو ان کے دوستوں کو نقصان پہنچے گا۔ شاید خود ٹرمپ کو بھی (اگرچہ، یقیناً، وہ ایپسٹین کے حوالے سے کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے ہیں)۔

یہ شاید ہی کسی ایسے شخص کی دلیل ہو جو ’دلدل کو صاف‘ کر رہا ہو۔ درحقیقت، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ اس دلدل کی سب سے بڑی مخلوق ہیں۔ اس معاملے میں ٹرمپ نے خود کو رائے عامہ کے بالکل غلط رخ پر پایا ہے۔

لیکن سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ ایسی ترقی کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس پر شواہد ملے جلے ہیں۔

کچھ لوگوں کی جانب سے کی گئی خوفناک پیش گوئیاں کہ محصولات امریکی معیشت کو ایک اور مندی میں دھکیل دیں گے، پوری نہیں ہوئیں۔ اور امریکہ کے تازہ ترین جی ڈی پی کے اعداد و شمار، جو 4.3 فیصد کی سالانہ شرح نمو ظاہر کر رہے ہیں، نے یقیناً ریچل ریوز کو حسد میں مبتلا کر دیا ہو گا۔

پھر سٹاک مارکیٹ ہے جو مصنوعی ذہانت کے بلبلے کے پھٹنے کی ناگزیر باتوں کے باوجود ان خدشات کو رد کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اس کے باوجود 2026 میں داخل ہوتے ہوئے، عوامی جذبات کے اشارے غلط سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ امریکی مہنگائی کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ بجا طور پر خوفزدہ ہیں کہ اب جبکہ کووڈ کے دور کی سبسڈیز ختم کر دی گئی ہیں، ان کے ہیلتھ انشورنس پریمیم کا کیا بنے گا۔ کچھ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی انشورنس پالیسیوں کی لاگت راتوں رات تین گنا بڑھ گئی ہے۔

دوبارہ، ماگا کے حلقے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ٹرمپ کو بتا رہے ہیں کہ وہ اپنی ترجیحات میں غلطی کر رہے ہیں۔

آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق گذشتہ سال کا سرکاری لفظ شاید ’ریج بیٹ‘ (rage bait) رہا ہو، اور صدر لوگوں کو اکسانے میں خاصے ماہر ہیں، لیکن وہ لفظ جو انہیں غصے میں لاتا ہے وہ ’استطاعت‘ (Affordability) ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ لفظ غائب ہو جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ گھرانوں کو درپیش کسی بھی مسئلے کا الزام ڈیموکریٹس پر لگائیں۔ انہوں نے اسے دھوکہ قرار دینے کی کوشش کی۔ لیکن ’استطاعت‘ 2026 میں سب سے اہم مسئلہ بننے جا رہا ہے۔

اور اب مشکلات کے شکار، بکھرے ہوئے ڈیموکریٹس کو ایک ایسی دلیل مل گئی ہے جس سے وہ اپنے سیاسی مخالفین کو پچھاڑ سکتے ہیں۔ یہ کیوں اہم ہے؟ اس سال نومبر میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے، اور اس دوران ایوان نمائندگان کی تمام اور سینیٹ کی ایک تہائی نشستوں کے لیے دوبارہ انتخاب ہو گا۔

اگر ٹرمپ کانگریس کا کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو ان کے لیے زندگی بہت مشکل ہو جائے گی۔ حکومت کرنا کوئی تفریح نہیں رہے گی۔ ان پر ہر طرف سے حملے ہوں گے، جبکہ پرعزم رپبلکنز سوچ رہے ہوں گے کہ 2028 کے لیے یہ موقع انہیں مل سکتا ہے۔

اگر 2026 برا گزرا، تو یہ وہ لمحہ ہو سکتا ہے جب ٹرمپ اور ٹرمپ ازم زوال کا شکار ہو جائیں۔ لیکن وہ دنیا کے سب سے بڑے سیاسی ’اسکیپولوجسٹ‘ (بچ نکلنے کے ماہر) ہیں، اس لیے میں اس پر شرط نہیں لگاؤں گا۔

ایک پیش گوئی میں ضرور کرتا ہوں: وہ ہماری نظریں اپنی طرف جمائے رکھیں گے، اور ہم اندازے لگاتے رہیں گے کہ آخر آگے کیا ہونے والا ہے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر