پشتو کی گلوکارہ کو کاغذ کا سہارا کیوں لینا پڑا؟

ہمارے ہاں ایک روایت چلی ہے کہ ہم فن سے تو محبت رکھتے ہیں لیکن فنکاروں سے نفرت اور انہیں برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔

زرسانگہ نے سرائے نورنگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں انکھ کھولی اور بیس سال کی عمر میں پہلا گانا’دہ بنگڑی وال پہ چولہ مہ زہ‘ گا کر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔(سوشل میڈیا)

وہ ایک جادوئی آواز تھی جو کبھی کانوں میں رس گھولتی اور دلوں کو محصور کرتی۔ فضاوں میں گونجتی تھی تو ان کی مدھ بھری آواز پر مر مٹنے والے خوشی سے جھوم اٹھتے تھے۔ لیکن آج اسی آواز کو انہی کانوں کو اپنا دکھڑا سنانے اور انہیں دلوں کو دھڑکانے کے لیے کاغذ کے ایک ٹکڑے کا سہارا کیوں لینا پڑرہا ہے؟

یہ سوال پشتو کی معروف گلوکارہ زرسانگہ کے بڑے بیٹے  شہزادہ نے ایک انٹرویو کے دوران اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک چھوٹے سے ویڈیو کلپ میں پچھتر سالہ زرسانگہ حکومت، مخیر حضرات اور خصوصاً اپنے پرستاروں سے مالی مدد کی اپیل کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ویڈیو میں ایک پلے کارڈ اٹھائے ملکہ صحرا زرسانگہ اپنا فون نمبر دکھا کر لوگوں سے مدد کی اپیل کرتی ہیں۔

شہزادہ نے حسرت بھری آواز میں پوچھا، 'پچپن سال پر محیط موسیقی کی دنیا میں خدمات انجام دینے پر کیا یہی صلہ ملنا تھا ہمیں؟' شہزادہ جو اپنی والدہ کے ساتھ طبلہ نوا زکی حیثیت سے اپنا گزر اوقات کررہے ہیں، کہتے ہیں ماں کی بگڑتی صحت اب ان کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ  موسیقی کی دنیا میں اپنا سفر مزید جاری رکھ سکیں۔

زرسانگہ نے سرائے نورنگ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں انکھ کھولی اور بیس سال کی عمر میں پہلا گانا 'دہ بنگڑی وال پہ چولہ مہ زہ' گا کر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مدھر آواز موسیقی کی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنا گئی۔ انہیں 1991 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اپنی منفرد آواز کی وجہ سے ملکہ صحرا کا خطاب پایا۔اپنی فنی زندگی میں ہزاروں کی تعداد میں گیت گائے جس میں بیشمار اب بھی زبان زد عام ہیں۔

پچپن سال تک دلوں پر راج کرنے والی یہ آواز اب غربت کے نیچے دبتی جارہی ہے۔ دو سال قبل پشاور میں اپنا گھر بیچ کر زرسانگہ اب کوھاٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ٹپیاو میں زندگی کی تلخ راتیں صبح کر رہی ہیں۔گرتی صحت کے ساتھ ساتھ آواز بھی روز بروز گرتی جارہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے ہاں ایک روایت چلی ہے کہ ہم فن سے تو محبت رکھتے ہیں لیکن فنکاروں سے نفرت اور انہیں برے القاب سے یاد کرتے ہیں۔عرصہ دراز تک فن کی خدمت کرکے بھلا دینے والی یہ واحد شخصیت نہیں ہے۔مجھے یاد ہے جب میں 2003 میں پشتو کی ایک مشہور گلوکارہ باچہ زرین جان کے گھر پہنچا تو وہ زاروقطار رونے لگیں۔ پشاورکے مضافات میں ایک تنگ وتاریک گلی میں واقع دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں موت کا انتظار کرتی باچہ زرین جان اپنی بے بسی اور حکومت کی بے حسی پر اتنا روئیں کہ مجھے بھی حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بے حسی پر رونا آیا۔

باچہ زرین جان سریلی آواز کے ساتھ ایک خوبصورت شکل کی مالک بھی تھیں جنہوں نے پشتو دھنوں پر بنے ایسے رسیلے گیت گائے جو آج تک لوگوں کی دل ودماغ پر نقش ہیں۔ اسی طرح گلنار بیگم اور کشور سلطانہ جیسی گلوکاروں کو بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہی کرب سے گزرتے دیکھا۔کم و بیش یہی گلہ مشہور گلوکار ہدایت اللہ نے بھی حکومت وقت سے کیا تھا۔ ہدایت اللہ پشتو کے پہلے گلوکار تھے جنہوں نے پہلے پشتو فلم 'یوسف خان شیربانو' کے لیے پہلا گیت گایا تھا اور بعد میں ان گنت لازوال گیت گائے جو اب بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

معاشرے اور حکومت کی اس بے حسی پر کسی کو رونا آئے نہ آئے لیکن یہ سوال ضرور ایک بہ شعور انسان کے زہن میں گردش کرے گا کہ کیا واقعی موسیقی روح کی غذا ہے؟ انہی تلخ حقایق کو دیکھتے ہوئے یقیناً اس کو اس کا جواب نفی میں ملے گا۔ اگر موسیقی واقعی روح کی غذا ہے تو پھر اپنی روح کو فرحت اور تازگی بخشنے والی ان آوازوں کو ہم زندہ رکھنے کی بجائے مروا کیوں دیتے ہیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی