کرونا ایمرجنسی: 'اٹلی کے ڈاکٹر صرف قابل ہی نہیں، ہمدرد بھی ہیں'

عالیہ صلاح الدین کے مطابق کرونا وائرس کا شکار تقریباً ڈیڑھ لاکھ اطالوی مریضوں نے اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔

اطالوی میڈیا میں یہ بات زیر بحث ہے کہ اگر اٹلی کا صحت کا نظام اتنا اچھا ہے تو یہاں کرونا (کورونا) وائرس سے اتنی اموات کیوں ہوئیں، وینٹی لیٹرز کیوں کم پڑگئے اور کیا ڈاکٹروں کے پاس آلات مکمل تھے؟

اٹلی میں مقیم صحافی عالیہ صلاح الدین کے مطابق اس صورت حال میں بھی جس بات میں کوئی اختلاف رائے نہیں، وہ یہاں کے ڈاکٹروں کی قابلیت اور ان کی خدمات ہیں، جنہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا، جن کے پیارے آخری وقت میں ان کے ساتھ نہیں تھے اور بڑی تعداد میں ڈاکٹروں نے اپنی جانوں کی بھی قربانی دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک اطالوی شہری مطیعو بونیکی سے ویڈیو چیٹ کی، جو خود بھی کرونا وائرس کا شکار ہوئے اور میلان کے ایک پبلک ہسپتال میں 13 دن گزار کر واپس آئے ہیں۔

عالیہ کے مطابق مطیعو بتاتے ہیں کہ اس پوری ایمرجنسی میں جو بات انہیں ہمیشہ یاد رہے گی وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کا سلوک تھا کہ اس خوف کے ماحول میں بھی انہیں لگا کہ وہ صرف قابل نہیں بلکہ ہمدرد ہاتھوں میں ہیں۔

بقول عالیہ: مطیعو جیسے ڈیڑھ لاکھ مریضوں نے اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔ یہ سب جادو سے نہیں ہوتا، اس میں ریاست کردار ادا کرتی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس صورت حال میں اٹلی سے کیا سیکھا جاسکتا ہے۔

عالیہ کے مطابق مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ایک ویلفیئر سٹیٹ کوئی بے معنی لفظ نہیں ہے اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اگر ہسپتالوں میں بستر اور وینٹی لیٹرز نہیں ہیں تو یہ ٹیکس چور کا قصور ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا