کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا: عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کے مطابق 'شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے پھیلا ہے اور یہ کہ اس وائرس کو کسی لیب میں یا کسی دوسری جگہ پر رد و بدل کر کے یا مکمل طور تیار نہیں کیا گیا۔' 

 (اے ایف پی)

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بالآخر تصدیق کر دی ہے کہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے کرونا وائرس کی ابتدا چین سے ہی ہوئی تھی جہاں یہ چمگاڈروں اور درمیان کے کسی اور جانور سے انسان میں پھیلا تھا۔

روئٹرز کے مطابق عالمی ادارے صحت کی ترجمان فدیلہ چائب نے منگل کو جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ میں بتایا: 'تمام دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے نئے کرونا وائرس کی ابتدا گذشتہ سال کے آخر میں چین میں چمگادڑوں میں ہوئی تھی۔'

تاہم عالمی ادارے نے اس خدشے کی تردید کی کہ اس وائرس کو کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان کی حکومت یہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ وائرس وسطی چین کے ووہان شہر کی ایک لیبارٹری سے پھوٹ پڑا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے بتایا: 'شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے پھیلا ہے اور یہ کہ اس وائرس کو کسی لیب میں یا کسی دوسری جگہ پر رد و بدل کر کے یا مکمل طور تیار نہیں کیا گیا۔' 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں مزید کہا: 'یہ عین ممکن ہے کہ کرونا وائرس جانوروں سے پیدا ہوا ہو۔'
ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا نے انسانوں میں منتقلی سے قبل کس جانور کے ذریعے یہ چھلانگ لگائی ہے تاہم یہ بات یقینی ہے اس وائرس کا اس دوران کوئی اور جانور میزبان رہا ہو گا۔

اس سے قبل امریکی صدر نے عالمی ادارے صحت پر چین کی طرف داری کا الزام لگاتے ہوئے اس کی امداد معطل کر دی تھی۔

صدر ٹرمپ بارہا یہ الزام لگا چکے ہیں کہ یہ وائرس چین کی کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا اور چین نے اس کی سنگینی کے حوالے سے دنیا کو کافی عرصہ بے خبر رکھا۔

امریکہ نے چین کو دھمکی دی ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے شفاف معلومات فراہم نہ کی گئیں تو بیجنگ کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
جرمنی اور دیگر مغربی ممالک نے بھی چین پر شفاف معلومات مہیا کرنے پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب چین ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات اٹھائے تھے اور دنیا کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق