کرونا وائرس نے روسی صدر کو کیسے متاثر کیا؟

روس میں آئین میں ترمیم کے لیے ووٹنگ ہونی تھی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ اگر ووٹنگ ہوجاتی تو صدر ولادیمیر پوٹن مزید دو مرتبہ صدارت سنبھال سکتے تھے۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح روس میں بھی کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے سیاسی حالات پر اثر پڑا ہے۔ روسی حکومت کی رائے میں وائرس سے لڑنے کے لیے عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی مدد کریں کی بجائے مقابلے پر اتر آئی ہیں۔

لیکن صدر ولادی میر پوٹن کی اپنی حکومت بھی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ روس میں آئین میں ترمیم کے لیے ووٹنگ ہونی تھی لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ اگر ووٹنگ ہوجاتی تو صدر پوٹن مزید دو مرتبہ صدارت سنبھال سکتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب روسی عوام خوش نہیں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی مالی امداد کی جائے جبکہ کرونا وائرس کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار پر بھی انہیں شک ہے۔

ایک طرف روسی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں 20 لاکھ سے زائد کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں لیکن دوسری جانب لیبارٹریوں کی انتظامیہ کہتی ہیں کہ جتنی تیزی سے ٹیسٹ ہو رہے ہیں اتنی تیزی سے رپورٹس نہیں بنائی جا رہیں۔

روس میں اب تک 62 ہزار سے زائد لوگوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں اور 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

روس کے بعض لوگوں نے کرونا وائرس سے بچنے کی خاطرگاؤں کا رخ کیا ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس گاؤں میں مکان ہیں، ان کے لیے شہر چھوڑنے کی یہ زحمت، رحمت ثابت ہو رہی ہے۔

اگرچہ ملک میں لاک ڈاؤن نہیں ہے لیکن لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود سماجی دوری اختیار کریں، دوسری صورت میں سزاؤں کا سامنا کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا