سات سال سے جاری لنچ سروس لاک ڈاؤن کے باعث رک گئی

کراچی کی فاطمہ طارق گھر سے ایک لنچ سروس چلا رہی ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں 23 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، جس کی وجہ سے یومیہ اجرت والا مزدور طبقہ اور چھوٹے کاروباری افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

ان متاثرین میں سے ہی ایک برنس روڈ، کراچی کی رہائشی فاطمہ طارق بھی ہیں۔ فاطمہ ایک شیف ہیں، جنہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹورزئم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ سے شیف کا ڈپلومہ حاصل کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پچھلے سات سال سے وہ اپنے گھر سے لنچ سروس چلا رہی ہیں۔ تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا کام رک گیا ہے کیونکہ نہ سامان آسانی اور وافر مقدار میں دستیاب  ہے اور نہ ہی ڈیلوری رائیڈرز کی سہولت موجود ہے۔ اب ان کا کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

موجود صورت حال میں فاطمہ نے چھوٹے پیمانے پر فلاحی کام کرنے کا سوچا ہے۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے پیسے جمع کیے اور کھانا پکا کر مستحقین تک پہنچا رہی ہیں۔

فاطمہ بتاتی ہیں: ’ہماری کوشش ہے کہ سڑک کے کنارے بیٹھے افراد کی بجائے ان لوگوں تک پہنچیں جو کسی سے مانگ نہیں سکتے۔ سب جانتے ہیں کہ برنس روڈ کراچی کا سب سے قدیم کھانوں کا مرکز ہے اور میں ایسے کئی گھرانوں کو جانتی ہوں جن کا گزر بسر کا کوئی انتظام نہیں، جیسے ویٹراور چھوٹے موٹے کام کرنے والے افراد۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین