سندھ: کاچھو میں بارش، قحط سالی سے متاثر چہرے کھل اُٹھے

کاچھو سندھ کے مغربی حصے میں بلوچستان کی سرحد کے ساتھ پھیلا ہوا علاقہ ہے۔ جو کراچی سے متعصل کھیرتھر نیشل پارک سے شروع ہو کر ضلع جامشورو، دادو سے لے کر شہداد کوٹ کے پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے۔

سندھ کے علاقے صحرائے تھر کے مانند کاچھو بھی بارانی علاقہ ہے (تصویر: آصف جمالی)

صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر کی طرح گذشتہ کئی سالوں سے شدید قحط سالی سے متاثر کاچھو میں غیر متوقع طور پر مئی کے مہینے میں اچانک شدید بارش کے بعد علاقے کی بارانی ندیاں اور برساتی نالے بہنے لگے جس کے باعث پانی کی شدید قلت سے پریشان مقامی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔

مقامی صحافی آصف جمالی نے بتایا کہ جمعرات سے شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ جمعہ کی شام تک جاری رہا جبکہ بارشوں کے باعث مقامی طور پر نئی گاج کے نام سے جانی جانے والے کاچھو کی مشہور بارانی ندی 11 فٹ تک بہنے لگی ہے۔

’کاچھو گذشتہ کئی سالوں سے شدید قحط سالی کا شکار ہے جس کے دوران بارانی ندیاں اور نالے مکمل طور پر خشک تھے جبکہ کاشت کے لیے بے تحاشہ پانی نکالنے کے باعث زیر زمین پانی کی سطح بھی بہت حد تک نیچے چلی گئی ہے جس کے باعث نہ صرف پینے کے پانی کی شدید کمی ہے بلکہ انسانوں کی خوراک اور جانوروں کے چارے کی بھی شدید قلت رہی ہے۔ ایسے میں اچھی بارش کے بعد مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیوں کہ ان بارشوں سے پینے کے پانی، فصلوں اور جانوروں کے چارے کی امید بندھ گئی ہے۔‘

کاچھو سندھ کے مغربی حصے میں بلوچستان کی سرحد کے ساتھ پھیلا ہوا علاقہ ہے۔ جو کراچی سے متعصل کھیرتھر نیشل پارک سے شروع ہو کر ضلع جامشورو، دادو سے لے کر شہداد کوٹ کے پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے۔

کاچھو کا یہ علاقہ پہاڑوں، وسیع میدانوں اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے جس کے مغرب میں سندھ اور بلوچستان کے سرحد پر واقع کھیرتھر پہاڑی سلسلہ، مشرق میں فلڈ پروٹیکشن یعنی ایف پی بند، جنوب میں پاکستان کی میٹھی پانی کے جھیلوں میں ایک منچھر جھیل اور شمال میں جیکب آباد اور بلوچستان کے علاقے کچھی کا صحرائی علائقہ ہے، جبکہ مشرق میں کاچھو کے دریائے سندھ موجود ہے۔

سندھ کے علاقے صحرائے تھر کے مانند کاچھو بھی بارانی علاقہ ہے۔ جب کبھی بھی بارشیں ہوتی ہیں تو اس علاقے کے پہاڑی سلسلوں سے پانی نیچے کے طرف آتا ہے۔ یہاں کے صحرائی علاقوں میں سبزہ اگنے لگتا ہے اور وسیع میدانوں میں مقامی لوگ فصلیں اگانے لگتے ہیں۔

سندھی زبان کے ٹی این نیوز سے وابستہ صحافی آصف جمالی کے مطابق ’کاچھو معدنی دولت سے مالامال ہے اور سندھ کے دیگر خطوں سے یہاں کی ثقافت منفرد ہے جو صحرائے تھر کی طرح بارش سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک مقامی کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ ’اگربارش برسے تو کاچھو امیر ورنہ غریب سے بھی غریب‘، جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہاں بارش کا کیا مطلب ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کاچھو میں نئی مُولا، سالاری، نئی گاج، نئی نلی، جھل مگسی، ککڑانی، ہلیلی، کھندھانی، انگئی نامی ندی نالے بہتے ہیں۔

ماہر موسمیات اور محکمہ موسمیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ تازہ بارشیں مغربی ہواؤں کی وجہ سے شروع ہوئی ہیں۔ پاکستان میں ہواؤں کے دو سلسلے ہیں جن کے تحت بارشیں ہوتی ہیں، ایک مون سون کی بارشیں جو بحر عرب اور بحر بنگال میں بنتے ہیں اور پاکستان میں مشرق کی جانب سے داخل ہوتے ہیں جو بعد میں ایک سسٹم بن کر ہمارے یہاں بارش برساتے ہیں اور دوسرا سلسلہ مغربی ہواؤں کا جو بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم میں بنتا ہے۔ مگر کچھ سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مئی میں بھی وسطی سندھ اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں اس موسم میں بارش ہونے لگی ہے۔‘

’ان علاقوں میں پانی کی شدید قلت تھی اور ان بارشوں کے بعد پانی کی قلت میں کچھ حد تک کمی ہوگی اور اس سال امکان ہے مون سون کی بارشین معمول سے زیادہ ہوں گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ ’موجودہ بارشوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا لاک ڈاؤن بھی ایک سبب ہوسکتا ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن کے باعث ہوا میں آلودگی کی سطح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔‘

صحرائے تھر کی طرح کاچھو میں بھی قحط اور خشک سالی کی ہواؤں کے بعد مقامی لوگوں کی سندھ کے ان اضلاع کے طرف عارضی نقل مکانی کی ایک تاریخ ہے جہاں آب پاشی کے نظام پر زراعت کی جاتی ہے۔

مقامی لوگ قحط سالی سے پریشان ہوکر بیراجی علاقوں میں پڑاؤ ڈالتے تھے جہاں گندم کی فصل تیار ہوتی تھی اور یہ لوگ اجرت پر گندم کی کٹائی کرتے تھے۔  فصل کی کٹائی کرنے والوں کو سندھی زبان میں لاہیارا اور یہ لاہیارے گندم کی فصلیں کاٹنے کے بعد اجرت میں اناج لے کر بارش کی امید لگا کر واپس کاچھو آتے تھے۔ مگر گذشتہ چند دہایوں میں اس عارضی نقل مکانی میں واضح کمی آئی ہے۔

کاچھو کے مقامی رہائشی اور سرگرم غیر سرکاری تنظیم انڈس ریسورس سینٹر یعنی آئی آر سی سے منسلق بخت برہمانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک بارشیں نہ ہونے اور کاشت کاری کے لیے شمشی ٹیوب ویل سے بے دریخ زیر زمین پانی نکالنے سے اب پانی 60 سے 70  فٹ سے بھی نیچے چلا گیا، خاص طور پر جوہی شہر سے متصل علاقے، چھنی، سالاری اور شاہ گودڑو اور دیگر علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

’قحط سالی کے دوران قلت آب کے باعث جنگلی حیات یا تو کاچھو سے ناپید ہوگئی یا بھر دیگر علاقوں کو نقل مکانی کرگئی۔ مگر بارشوں کے بعد سفید تیتر اور گیدڑ، بڑی تعداد میں نظر آنے لگے ہیں۔ جو ایک خوش آئند بات ہے۔‘

محکمہ جنگلی حیات سندھ کے مطابق کاچھو میں تیتر، پٹ تیتر، بٹیر، سرہ، ہرن، لومڑ، گیدڑ، سیڑھ  اور دوسرے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان