عمران خان کا پیغام: پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

سب اقتدار میں آتے، دربار سجاتے، ایوانوں کے مزے لوٹتے اور اگلے انتخابات کی تیاریوں میں لگ جاتے تھے لیکن اس سوال کا جواب ہمیشہ تشنہ رہ جاتا کہ ملک کا پیسہ آخر کھایا کس نے؟

چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پبلک ہونا بھی اہم پیش رفت ہے (پی آئی ڈی)

پاکستانی قوم ایک زمانے سے یہ نوحے سن رہی ہے کہ ملک لٹ گیا، برباد ہو گیا، ہم جو جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپان جیسے ممالک کو معاشی مدد فراہم کرتے تھے خود اس حد تک کمزور ہو گئے کہ 2018 میں جب عمران خان کی حکومت بنی تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں خود بھی اس بات کو مانتی تھیں کہ انتخابات کے نتیجے میں جو بھی حکومت میں آئے گی اسے بڑے سخت حالات کا سامنا ہو گا۔ عمران خان نے پچھلے چند سالوں میں سب کو یہ بات رٹا دی تھی کہ گذشتہ حکمرانوں نے ملکی خزانہ خالی کر دیا ہے۔

ویسے تو سابق حکمرانوں نے بھی اس بات کا شور بڑا مچایا کہ ملک میں ان سے پہلے والوں نے بڑی کرپشن کی لیکن کسی نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ اصل میں ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے والے تھے کون اور ان کے خلاف کارروائی کیا کی گئی؟

سب اقتدار میں آتے، دربار سجاتے، ایوانوں کے مزے لوٹتے اور اگلے انتخابات کی تیاریوں میں لگ جاتے تھے لیکن اس سوال کا جواب ہمیشہ تشنہ رہ جاتا کہ ملک کا پیسہ آخر کھایا کس نے؟

پانامہ کی آف شور کمپنیاں آئیں اور نواز شریف کو جب تیسری مرتبہ اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تو اس سے عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کو مزید تقویت ملی جس کے نتیجے میں وہ 2018 کے انتخابات میں وزیر اعظم بن گئے۔ اس وقت سے لے کر اب تک عمران خان پر تنقید کے بڑے نشتر برسائے گئے، انہیں یکے بعد دیگرے مختلف مشکلات کا سامنا رہا، کبھی معاشی بحران، کبھی مودی سرکار کا دیوانہ پن اور نتیجتاً ہندوستان کے ساتھ جنگ، کبھی کشمیر کا کرفیو، کبھی آٹا چینی بحران اور اب تازہ ترین کرونا (کورونا) کی تباہ کاریاں۔ لیکن ہر مرتبہ عمران خان نے یہ ثابت کیا کہ ان کے اوسان خطا نہیں ہوتے اور یہ کہ وہ مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔

پاکستان کے نظام اور تباہ حال اداروں کو دیکھ کر نہ صرف میڈیا بلکہ دانشوروں اور خود عمران خان کے اپنے بعض ساتھیوں تک کو ہمیشہ شک رہا کہ خان صاحب نے دعوے تو بہت بڑے بڑے کر دیے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کیوں کر ہو پائے گا کیونکہ جن لوگوں کے ساتھ مل کر عمران خان نے کرپٹ بوسیدہ نظام کو بدلنا تھا وہ تو خود حکومتی صفوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ تو عمران خان آخر کیسے نظام بدلیں گے؟

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ عمران خان کہتے ہیں کہ میں کسی کو مال نہیں بنانے دوں گا اور جس نے بنایا اس کو بھی پکڑوں گا جبکہ دوسری طرف ماضی کے وہ حکمران ہیں جو انتخابی ریلیوں میں کرپشن کے خاتمے کے نعرے تو بہت لگاتے تھے لیکن کرسی اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد ان سے پوچھا جاتا کہ حضور کرپشن کا کیا کر رہے ہیں تو جواب آتا کہ کرپشن بہت ہے لیکن اگر اسے ختم کرنے میں لگ گئے تو کام کون کرے گا؟

عمران خان اور ماضی کے حکمرانوں میں یہی فرق ہے کہ جب انہوں نے کرپشن ختم کرنے کی بات کی تو وہ محض ایک نعرہ ثابت ہوئی لیکن خان صاحب نے جب یہی بات کی تو آٹا چینی سکینڈل کی ایسی دھماکہ خیز رپورٹ عوام کے سامنے لے آئے کہ نہ صرف اپوزیشن میں بیٹھے لوگ بلکہ حکومتی صفوں میں دکھائی دینے والے اپنے ساتھی بھی بےنقاب کر دیے۔

نہ انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ خسرو بختیار یا چوہدری برادران کہیں پنجاب میں میری حکومت نہ گرا دیں اور نہ اس بات کا خوف کہ اپنا سب سے بھاری بھرکم ساتھی جہانگیر ترین ناراض ہو گئے تو آنے والے انتخابات پر کہیں اثر انداز نہ ہو جائیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ عمران خان نے ایک حکم یہ بھی دیا کہ کابینہ میں موجود تمام معاونین خصوصی اور مشیران اپنے اثاثے عوام کے سامنے لائیں۔ معاونین اور مشیران کی فوج تو سابق وزرائے اعظم کی بھی رہی ہے لیکن کسی کو ایسا قدم لینے کا حوصلہ نہ ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان کی زندگی سے کرکٹ کا تجربہ نہ تو الگ کیا جا سکتا ہے نہ اس کی اہمیت کم کی جا سکتی ہے۔ 1982 میں پہلی مرتبہ وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان بنتے ہیں اور برطانیہ کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ان کی قیادت میں ٹیم پہلی مرتبہ انگلینڈ کو ہوم پچ پر شکست دے دیتی ہے۔ اس وقت بھی پہلی مرتبہ کپتان بننے والے عمران خان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کھیلنا جانتے ہیں۔

اس لیے آج جو کہتے ہیں کہ عمران خان کے پاس تجربہ نہیں، وہ سیاستدان نہیں، پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے، سمت کا تعین نہیں ہو پا رہا تو وہ تمام لوگ یکسر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اور وہ تمام لوگ یہ بھی جان لیں کہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے والے عمران خان سیاست بھی خوب جانتے ہیں اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ بلے باز کو کب کیسی گیند کرانی ہے اور اپنی سیاست کی سمت بھی انہوں نے بخوبی ظاہر کر دی ہے جو یہ ہے کہ نہ خود کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا اور جنہوں نے کھایا ہے ان کو پکڑوں گا بھی۔

لہذا۔۔۔پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے عوام کے سامنے آنے سے پہلے بڑے لوگ کہتے رہے کہ یہ رپورٹ سامنے نہیں لائی جائے گی۔ اب جب یہ رپورٹ سامنے لائی جا چکی ہے تو مجھے پوری امید ہے کہ اس پر ایکشن بھی ضرور لیا جائے گا۔

پاکستان کے لیے کرونا وائرس تو نیا ہے لیکن کرپشن کا وائرس نہ جانے کب سے اسے گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ آج اس کے تدارک کے لیے چینی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کر کے ایک بےمثال آغاز کیا گیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ احتساب کا یہ تسلسل قائم و دائم رہے اور جس طرح آٹا چینی کے معاملے میں آڈٹ ہوا ہے اسی طرح دیگر تمام صنعتوں کا بھی آڈٹ کیا جائے۔ جس جس نے بھی وطن عزیز میں لوٹ مار کی ہے ان سب کی پکڑ ہو۔ جو سلسلہ آج سے شروع ہوا ہے اسے اب کسی طور تھمنا نہیں چاہیے کیونکہ یہی نیا پاکستان ہے اور یہی حقیقی تبدیلی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ