سانولے ہاتھ بھی سفید ہوئے: انڈپینڈنٹ اردو کا مزاحیہ مشاعرہ

اس کرونائی عید پر چھائے تاریک سایوں کو کم کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں نامور مزاحیہ شاعروں کو اپنا کلام سنانے کی دعوت دی۔

اس کرونائی عید پر چھائے تاریک سایوں کو کم کرنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں نامور مزاحیہ شاعروں کو اپنا کلام سنانے کی دعوت دی۔

چونکہ سماجی فاصلے کی وجہ سے روایتی مشاعرہ ممکن نہیں تھا، اس لیے ہم نے یہ مشاعرہ آن لائن منعقد کیا۔

اس میں جوہر آباد خوشاب سے ڈاکٹر بدر منیر، اسلام آباد سے عزیز فیصل، واہ کینٹ سے محمد عارف اور اسلام آباد ہی سے شہباز چوہان نے شرکت کی اور اپنے کلام سے یہ آن لائن محفل گرما دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 نمونۂ کلام پیشِ خدمت ہے:
اپنے اپنے گھروں میں روز و شب
ہم کرونا کے ڈر سے صید ہوئے
دن میں کتنی ہی بار دھو دھو کر
سانولے ہاتھ بھی سفید ہوئے
(ڈاکٹر بدر منیر)
کچھ کے منہ پر لمبی مونچھیں ہوتی ہیں
کچھ کے منہ پر بےبی مونچھیں ہوتی ہے
بندے کو کردار ہی مرد بناتا ہے
ورنہ چوہے کے بھی مونچھیں ہوتی ہیں
شہباز چوہان

زیادہ پڑھی جانے والی ادب