کیا ٹرمپ کے مخالف امیدوار اس بدامنی کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں گے؟

کرونا وبا کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے والے جو بائیڈن حالیہ دنوں امریکہ میں بدامنی پر ٹرمپ کی پرتشدد سوچ کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں گے یا نہیں، جانیے اس رپورٹ میں۔

امریکہ کے سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امید وار جو بائیڈن۔  (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو زیادہ تر وقت ٹوئٹر پر گزارا، جس دوران وہ امن وامان کے قیام اور ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف پولیس کی زیادہ سخت کارروائی پر زور دیتے رہے۔ دوسری جانب سابق نائب صدر جوبائیڈن نے ریاست ڈیلاویئر میں واقع اپنے آبائی قصبے وِلمنگٹن کا دورہ کیا اور بعض مظاہرین سے بات چیت کی۔ 

اس سے پہلے انہوں نے ٹوئٹر پر گذشتہ ہفتے سیاہ فارم امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر مایوس ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جوبائیڈن پیر کو وِلمنگٹن میں کمیونٹی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ اُن کی محدود پیمانے پر لوگوں سے قریبی رابطے کی حکمت عملی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار خود کوصدارتی انتخاب سے پانچ ماہ پہلے کس طرح پیش کرتے ہیں۔

وہ ٹرمپ کی طرح مضطرب رہنے کے برعکس سکون اور اہلیت پر زور دے رہے ہیں۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جس کا ٹرمپ کی بلند اور مسلسل گونجنے والی آواز کے مقابلے میں دب جانے کا خطرہ موجود ہے۔

ایک ایسے وقت پر جب امریکی قوم نے حالیہ دنوں میں درجنوں پرتشدد واقعات دیکھے، بائیڈن زیادہ ترعوامی نظروں سے اوجھل رہے۔

ریاست فلوریڈا سے کانگریس کی ڈیمرکریٹ رکن وال ڈیمنگز نے کہا ہے کہ بائیڈن کے پاس کوئی عہدہ نہیں۔ 'یقیناً اُن کے ہاتھ میں اس طرح کا میگا فون نہیں جو اس وقت وائٹ ہاؤس میں موجود شخص کے پاس ہے۔ 'میرا یہ خیال ضرور ہے کہ لوگوں کو اس انتہائی کڑے وقت میں کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جو انہیں سکون دے سکے۔'

 ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو بس اس یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا آدمی موجود ہے جو سمجھ بوجھ رکھتا ہے، جو یہ کہنے کے لیے تیار ہے کہ ہاں ہم مسائل کا شکار ہیں اور وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم بھی ہو۔

بائیڈن وال ڈیمنگز کو نائب صدر کا الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔ تاہم یقین دہانی کے لیے موجود ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ سابق نائب صدر کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرونا وبا نے انہیں محدود کر دیا ہے پھر بھی وہ عوامی عہدے کے بغیر سوشل میڈیا کی طاقت کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ڈیمنگز کا کہنا ہے کہ جلد ہی مہم شروع ہونے کے بعد صورت حال میں بہتری آئے گی۔

بائیڈن گذشتہ جولائی میں نظام انصاف میں اصلاحات کا ایک منصوبہ سامنے لائے تھے لیکن اُس کے بعد سے انہوں نے کوئی تازہ اور منصوبے سے متعلق تجویز متعارف نہیں کروائی۔ مئی کے شروع میں انہوں نے 'سیاہ فام امریکہ کے لیے منصوبہ' جاری کیا تھا، جس میں معیشت اور تعلیم پر زور دیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں میرُووانا کو جرائم کی فہرست نکالنا شامل ہے۔

خاتون رکن کانگریس وال ڈیمنگز نے کہا کہ انہوں نے کانگریس میں سیاہ فام ارکان کے کاکس اور دوسرے ڈیموکریٹک قانون سازوں کے ساتھ مل کراصلاحات کے منصوبے میں مدد کے لیے منصوبہ بنا رکھا ہے۔ تاہم وہ اس کی تصدیق یا تردید نہیں کریں گی کہ انہوں نے جوبائیڈن کی مہم میں اس معاملے پر بات کی ہے۔

 وال ڈیمنگز نے کہا کہ انہوں نے صدارتی مہم کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ 'ہم مل کر کام کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔'  ان کا کہنا تھا کہ ہم تجاویز پر غور کریں گے اور سفارشات تیار کریں گے۔

تاہم فی الحال ڈیموکریٹس وقت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قوم کا سیاسی رجحان اُن کی طرف ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جوبائیڈن ہر ویک اینڈ پر ٹیلی ویژن پر نہیں آئے لیکن انہوں نے ٹرمپ سے پہلے منیاپولِس شہر میں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت پر بات کی اور مظاہرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

ٹرمپ فلوئیڈ کی موت پر خطرے کی گھنٹی بجاتے اور اُن کے خاندان سے ہمدردی ظاہر کرتے رہے۔ انہوں نے ٹویٹس کر کے مظاہرین کو دشمن بنایا اور سیاسی حریفوں کی تضحیک کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مظاہروں کے پیچھے موجود بائیں بازو کی تحریک اینٹیفا کو دہشت گرد قرار دے دیں گے۔

بائیڈن کے بعض ساتھی، جنہیں نجی سطح پر پارٹی حکمت عملی پر بات کرنے کی اجازت نہیں، کہتے ہیں کہ صدارتی مہم کے دوران یہ بہترین منصوبہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ جو چاہیں انہیں کرنے دیا جائے۔

بعض ڈیموکریٹس، جنہوں نے ماضی میں کرونا وبا کے دوران زیادہ دکھائی نہ دینے پر بائیڈن پر تنقید کی، کہا کہ اب وہ درست اقدامات کر رہے ہیں۔

پارٹی کے لیے حکمت عملی بنانے والے ڈیموکریٹ جیمز کاروِیل نے کہا کہ انہیں یقین ہے بعض ڈیموکریٹ ارکان صورت حال پر سیاست کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار یں جو اب سمجھ میں آ رہی ہے۔

 بات یہ نہیں کہ جوبائیڈن کون ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا وقت ہو جو کھل کر بات کرنے کا ہو لیکن میرا خیال ہے کہ اس وقت سادگی ہی کھل کر بات کرنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ