میں کرونا سے مرنا نہیں چاہتا

کرونا میں مبتلا ہو کر محسوس ہوا ہے کہ زندگی میں بہت سے کام ایسے ہیں جو ابھی مجھے کرنے ہیں۔

فائل فوٹو (روئٹرز)

کرونا (کورونا) وائرس کے ساتھ کم و بیش دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ زندگی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ کرنے کے بہت سے کام ہیں جو اب پتہ نہیں ہو بھی پائیں گے یا نہیں۔

رات کو جب میں چھت پر ٹہلتا ہوں تو سامنے والی سڑک پر میرے احباب چہل قدمی کر رہے ہوتے ہیں، مجھے دیکھ کر وہ اپنے موبائلوں کے لائٹیں آن کرتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم آپ کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ زندگی جو پہلے برق رفتاری سے گزر رہی تھی اب رینگنے پر آ گئی ہے۔ صبح صبح اٹھتے ہی فیس بک پر مرنے والی خبروں کا تانتا بندھا ہوتا ہے۔

سوچتا ہوں کہ کسی روز ہم بھی فیس بک کی ایک چھوٹی سی خبر بن جائیں گے۔ دو چار سو تعزیتی کمنٹس کر کے احباب چپ ہو جائیں گے۔ ہمارے پا س کون سی منصور حلاج کی سی سچائی ہے جسے آنے والا زمانہ یاد رکھے گا۔ انا الحق کی صدائیں کتنی ہی بار اندر ہی اندر اٹھیں اور گم ہو گئیں۔ زمانے کو اب فکر فلسفہ کی نہیں روٹی روزی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اب صرف انہی کا فلسفہ رہ گیا ہے جن کے درباروں پر بھوکوں کو دو وقت کا کھانا ملتا ہے۔ باقی سارے مفکر اپنے اپنے مجسموں میں کھڑ ےکھڑے سوکھ چکے ہیں۔

راولپنڈی کی گلیوں کی خاک ایک عرصے سے چھان رہا تھا مگر اب عمر کی پانچویں دہائی میں یہ راستے مجھ پر کھلنے لگے ہیں ۔ مجھے اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں سو سال پہلے والی زندگی فلم کی طرح چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہندو، سکھ، مسلمان ایک دوسرے سے متضاد مذہبی عقائد کے باوجود سینکڑوں سال سے ایک سماج میں بندھے ہوئے تھے۔ کتنے ہی خاندان تھے جو الگ الگ مذاہب کے باوجود ایک دوسرے کو بھائی بہنوں کی طرح چاہتے تھے۔ مگر پھر کیا ہوا۔ نفرت کا کاروبار کیسے شروع ہوا؟

میں نے راولپنڈی کی تاریخ کو ایک نمونے کے طرح کھنگالا ہے۔ میں ایک ایسے کردار تک پہنچ گیا ہوں جسے انگریز نے سرحد سے صوبہ بدر کر دیا تو وہ راولپنڈی آ کر بس گیا۔ بس یہاں آ کر اس نے مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کو پاش پاش کر دیا۔ ان کے کردار پر پیر مہر علی شاہ گولڑہ جیسی ہستیاں بھی معترض رہیں۔ 1926 میں راولپنڈی میں خوفناک فسادات کے پیچھے بھی یہی صاحب تھے جب شہر میں پونے تین سو کے قریب دکانیں جلا کر راکھ میں تبدیل کر دی گئی تھیں۔ 16 افراد مارے گئے تھے شہر میں کرفیو لگ گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگریز جانتا تھا کہ چنگاری کہاں سے پھوٹ رہی ہے مگر اس نے جان بوجھ کر پہلو تہی کی جس کی وجہ سے ایسے کردار وں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مسجد شہید گنج اور تحریک خلافت میں بھی اس کردار نے آگ لگائی۔ علامہ اقبال نے راولپنڈی کے واقعات کی وجہ سے ہی محمد علی جناح کو ولایت سے خط لکھ کر بلایا تھا۔ اگر راولپنڈی میں 1926 کے فسادات نہ ہوتے تو 1947 کے فسادات بھی شاید نہ ہوتے، اور اگر فسادات نہ ہوتے تو ہجرت نہ ہوتی اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو نفرت کا کاروبار آج تک آر پار کو بھسم نہ کر رہا ہوتا۔

تاریخ مجھ پر اپنے اسرار آہستہ آہستہ کھول رہی ہے مگر اب کرونا آ گیا ہے۔ میں سرحد کے اس طرف جا کر بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں سوچی سمجھی سکیم کے تحت لڑایا گیا تھا اور اسی سوچی سمجھی سکیم کے تحت آج تک لڑایا جا رہا ہے۔ جب تک یہ لڑائی ہے نہ تمہاری نسلوں کا کوئی مستقبل ہے نہ ہماری نسلوں کا، آئیں اس تاریخ کو اپنے اپنے ابواب سے نکال دیں اور دوبارہ سے امن اور محبت سے رہنے لگ جائیں۔

اسلام آباد کے ایوانوں میں بھی گھومتے مجھے تین دہائیاں ہو چلی ہیں اور اب آ کر پتہ چلا ہے کہ منظر وہ نہیں ہوتے جو چینل دکھاتے ہیں اور خبریں وہ نہیں ہوتیں جو اخبار چھاپتے ہیں۔ اپنے ملک کی زبوں حال معیشت اور پے در پے سیاسی بحرانوں کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سب کچھ یہاں نہیں ہوتا یہاں سے بالا بالا کہیں اور ہوتا ہے۔ 1974 میں تہران دنیا کا واحد دارالحکومت تھا جہاں سب سے زیادہ بلند عمارتیں بن رہی تھیں۔ ایران ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے والا تھا مگر پھر کیا ہوا۔ تہران کے گلی کوچوں میں اٹھنے والی چنگاریاں آج تک سرد نہیں ہوئیں۔ کابل کی رونقیں کدھر گئیں۔ کراچی کی روشنیاں کیوں چندھیا گئیں۔ سی پیک آج کہاں ہے اور اس کو بنانے والے کہاں ہیں؟ پاکستان کے وسائل کون لوٹ رہا ہے؟

تعلیم اور صحت میں ہونے والا کھلواڑ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم گولہ بارود پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ آئی ایم ایف اور عالمی بنک کیسے ہمیں لوٹ رہے ہیں؟ اس کے لیے ایک الگ کتاب لکھنے کا ارادہ ہے جس میں عالمی سامراج کو بے نقاب کیا جائے۔

سامراج کے خلاف لکھی گئی نظموں کی کتاب بھی تیار ہے جو یقیناً ہمارے اندر اور باہر کی اشرافیہ کو ہضم نہیں ہوگی۔ میں منصور حلاج نہیں ہوں۔ نہ ہی میں کسی بڑی سچائی کی کھوج میں ہوں۔ میں تو چھوٹی چھوٹی سچائیاں اپنی قوم کو بتانا چاہتا ہوں۔ چاہے ان کی پاداش میں بھلے مجھے سولی پر لٹا دیا جائے مگر میں کرونا سے مرنا نہیں چاہتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ