کرونا وائرس: قرنطینہ میں زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے

خدارا ان واٹس ایپ میسجز پر اندھا یقین مت کریں جو کہتے ہیں سازش بےنقاب ہوگئی کرونا کوئی وائرس نہیں۔ جائیں اور خود ایکسپو سینٹر جا کر دیکھ لیں۔

آئسولیشن سے پہلے کی زندگی (عدیل جعفری)

تیس اپریل کو بیگم صاحبہ کی کرونا (کورونا) کی رپورٹ پازیٹیو کیا آئی روز اس وبا کی خبریں چلا چلا کر بےحس ہو جانے والا میں یکدم اس مجسمے کی مانند ہوگیا جسے مصور اپنے شاہکار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ اب آنے والے دن مشکل کے ساتھ ساتھ سخت ترین بھی نظر آ رہے تھے۔

سب سے پہلے اپنے ڈائریکٹر نیوز کو باخبر کیا کیونکہ اب میرا دفتر آنا ناممکن تھا اور ہم سب گھر والوں کو اپنے ٹیسٹ کروانے لازم تھے۔ انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی بات نہیں اپنے گھر والوں کے ٹیسٹ کرواؤ، جس کے لیے انہوں نے ڈی سی ساؤتھ سے خود بات کرنے کا کہا۔ میں نے سب سے پہلا فون مرتضیٰ وہاب کو کیا جو کہ بند ملا، واٹس ایپ کیا جو ڈیلیور نہیں ہوا، آخر میں ناامید ہو کر ایک ٹیکسٹ میسج کیا جس میں صرف یہ لکھا کہ ’ایمرجنسی پلیز کال۔‘

یہ سب کام گاڑی چلاتے ہوئے کیے جارہے تھے۔ صحافی ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ رہتا ہے۔ ہم ہسپتال سے رپورٹ لے کر گھر جا رہے تھے۔ بیگم میرے ساتھ تھیں جو بار بار صرف یہ پوچھ رہی تھیں کہ کس کو کر رہے ہیں؟ گھر جا کر کر لیجئے گا، مگر اتنا سکون کہاں سے لاتا؟

گھر پہنچا تو زاہد صاحب کا فون آیا کہ بن قاسم پارک رش کرو۔ ان کی بات ہوگئی تھی۔ میں نے امی کو تیار ہونے کا کہا کہ اتنے میں مرتضیٰ وہاب کی کال آئی اور انہوں نے بھی بالکل اطمینان سے رہنے اور اپنی ٹیم بھیجنے کا کہا۔ ٹیم گھر آگئی سب لوگوں کے ٹیسٹ ہوگئے۔ ترجمان سندھ حکومت اس دوران مکمل رابطے میں رہے اور رپورٹس جلد سے جلد شیئر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اس دوران کئی دوستوں کی کالز بھی آتی رہیں جو آنے والے اس کٹھن وقت میں ساتھ رہنے اور بالکل نہ گھبرانے کی صلا دے رہے تھے۔ میں نام نہیں لکھ سکتا کیونکہ ایک لمبی فہرست ہے جو حوصلہ ٹوٹنے نہیں دے رہی تھی۔

تین مئی: میں قرنطینہ میں ہی ہوں۔ شام کے چھ بجتے ہیں اورسندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے فون آیا کہ آپ کی رپورٹس کچھ ہی دیر میں آپ سے شیئر کی جائیں گی۔ یہ ایک ایسا فون تھا جس نے دل کی دھڑکنیں تتر بتر کر دی تھیں۔ ایک ہی فون کرتے کہ آپ کی رپورٹس آگئی ہیں۔۔۔ خیر ۔۔ فون آگیا۔۔۔ جی، ڈی سی فلاں بات کر رہا ہوں کچھ تفصیلات لیں اور رزلٹ شیئر کرنے شروع کر دیئے۔ میں میرا گیارہ ماہ کا بیٹا پازیٹیو تھے۔ امی، ابو اور کمیل (میرا چھ سال کا بیٹا) نگیٹیو تھے۔ فون پر رپورٹس اس طرح شیئر کی جا رہی تھیں جیسے کلاس ٹیچر بچوں کی حاضری لیتا ہو۔ جیسے۔ علی حسن پازیٹیو، حسن افتخار نگیٹیو، سب ایک ساتھ بیٹھے تھے اور اپنا اپنا رزلٹ سننے کے لیے بےتاب تھے۔

اب اگلا فون مرتضیٰ بھائی کا تھا جنہوں نے رپورٹس کا بتایا اور مشورہ دیا کہ بڑے بیٹے کو اس کی نانی کے گھر چھوڑ دیا جائے۔ میرے جواب میں مایوسی عیاں تھی کہ بچے کی نانی امریکہ میں رہتی ہیں۔ جس کے بعد مرتضیٰ بھائی بھی اوہ کہ کر چپ ہوگئے۔ دفتر کے اعلیٰ حکام سے رپورٹس شیئر کی۔ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔

کمیل حسن، پاپا تھوڑی بڑی کہانی کر دیں۔ کہانی اور لوری سنے بغیر نہ سونے والا بچہ۔ پاپا اچھا میں برش کر کے آیا آپ کہانی سوچ کر رکھیں۔ کون سی کہانی کمیل، میرا سوال روز ہوتا اور وہ کہتا پاپا کسی کی بھی سنا دیں مگر بڑی ہونی چاہیے۔ چاہے آپ کو صبح چھ بجے ہی آفس کیوں نہ جانا ہو کہانی مس نہیں ہوسکتی۔ اتنی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اب اس بچے کو کیسے سمجھائیں کہ بیٹا اب آپ ہمارے ساتھ 14 دن تک نہیں رہیں گے۔۔۔یہ ایک نہایت مشکل اور سخت ترین کام تھا۔

دروازہ بند ہوا اور کمیل حسن دادا دادی کے حوالے۔ دروازہ بند ہوتے ہی کمیل حسن کے چیخنے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ پاپا دروازہ کھولیں، مجھے اندر آنا ہے۔ اب یہ ایک ایسی صورت حال تھی جس سے نمٹنے کے لیے کوئی ترکیب نہیں سوجھ رہی تھی۔۔۔ بہت سمجھایا: ’بیٹا آپ سٹرونگ ہیں پاپا ویک ہیں۔ آپ کی رپورٹ اچھی آئی ہے پاپا، ماما اور علی کی اچھی نہیں آئی۔‘ مگر سب بےسود۔ اس کی صرف ایک ہی رٹ تھی۔ ’پاپا دروازہ کھولیں۔‘ واٹس ایپ ویڈیو کال پر بات کرنے کو بھی مسترد کر دیا۔ وائس نوٹ پر ایسے جذباتی میسجز کہ آپ کہیں سب دفع کرو اور کمرہ بچے کے لیے کھول دیں۔

اگر اکیلا میں ہوتا کمرے میں تو شاید یہ جذباتی کام کر دیتا لیکن میرے ساتھ کمرے میں ایک ڈاکٹر ماں بھی تھی جو سارے جذبات کو ایک طرف رکھ کر فیصلے کر رہی تھی۔ کل رات بھی چھ فٹ دور بیٹھا اور ساری احتیاطی تدابیر کے بعد کہانی سنی اور بلی کی طرح شکل بنا کر کہنے لگا پاپا تھوڑی بڑی کر دیں۔

چھ مئی: آج کمیل حسن کی سالگرہ ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ گھر میں بیٹے کی سالگرہ ہوگی اور اماں پاپا ہی شامل نہ ہوسکیں گے۔ خیر کیک بھی کٹے اور سیلیبریشن بھی ہوئی۔ ایک کیک خالہ کی طرف سے تھا جو امریکہ میں رہتی ہیں، دوسرا کیک ابو جی (کمیل اپنے دادا کو کہتا ہے) لے آئے۔ بریانی، پیزا اور براونیز کمیل کی مامی لے آئیں۔

والدین کے بغیر سالگرہ۔


سب کچھ اچھی طرح ہوجانے کے بعد دروازہ پر دستک ہوئی اور کمیل حسن سامنے تھے۔ مجھے پتا نہیں کیوں غصہ آ رہا تھا دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا دروازہ کھولا اور غصے سے کہا کیا مسئلہ ہے کمیل؟ تو اس نے مسکرا کر کہا اماں سے بات کرنی ہے۔ اماں نے پیار بھرے لہجے میں مخاطب ہو کر کہا کیا ہوا میرے گڈے کو؟ تو وہ مسکرا کر پوچھنے لگا: ’اماں میں اندر کب آ سکوں گا؟‘ کمیل کی اماں نے اسی پیار بھرے لہجے میں جواب دیا: ’بیٹا میرا اگلے ہفتے ہمارے ساتھ ہوگا، انشااللہ۔‘ اماں صبح صبح؟ کمیل نے پوچھا۔ اماں نے کہا ہاں بیٹا۔ آپ مجھے دادی کے کمرے سے اٹھا کر لے جائیں گی؟ کمیل کی باتوں میں جوش بڑھتا جارہا تھا، وہ بولے جا رہا تھا پھر دادی کہیں گی میرا کمی کہاں گیا (کمیل کو گھر میں سب پیار سے کمی کہتے ہیں)۔

سحری میں مرتضیٰ وہاب صاحب کا خیریت پوچھنے کا میسج بھی آیا تھا۔ آج پانچواں دن ہے قرنطینہ میں رہتے ہوئے۔ جب بھی کبھی کسی چیز کی ضرورت پڑی عون نے بھائیوں سے بڑھ کر کیا۔ میرے قریبی دوستوں نے اس مشکل کی گھڑی میں میرا کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔ کئی ایسے دوست جن سے رابطہ نہیں تھا ان کی بھی کالز آنا اور خیریت لینا ایسے وقت میں بہت سودمند لگ رہا تھا۔

روزانہ رات کے معمولات میں سٹیم لینا اور پورے کمرے کو ڈس انفیکٹ کرنا لازمی تھا۔ یہ وہ کام تھے جو ہم کبھی نہیں بھولتے تھے۔ میں چائے نہیں پیتا یہاں تک کہ ناشتے میں بھی نہیں، مگر کورونا نے مجھے چائے پینے تک مجبور کر دیا تھا۔ ناشتے میں چائے، رات کو سوتے ہوئے کافی یہ سب معمول بنا لیا تھا۔ کوئی دوا تو تھی نہیں تو بس جتنا پڑھ رہے تھے احتیاط کر رہے تھے۔ اس کا واحد حل سماجی فاصلہ اختیار کرنا تھا۔

نو مئی: دن کے ساڑھے تین بج رہے ہیں۔ اس کورونا کا جہاں نقصان تھا وہیں فائدہ یہ بھی تھا کہ بہت سے لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آ چکے تھے۔ کچھ تو نام نہاد ایسے بھی تھے کہ ان کو لگتا تھا کہ فون بھی کیا تو آواز ہی سے کرونا منتقل نہ ہو جائے۔ امی پر اچانک سے سارے گھر کا کام آگیا تھا، ملازمہ کام چھوڑ گئی تھیں۔ تو گھر کے سارے کام اور ساتھ ہم تین لوگوں کی الگ ذمہ داری۔

اس سب کو دیکھتے ہوئے بھی الحمد اللہ کسی اپنے نے اس مشکل وقت میں ساتھ نہ دیا۔ ہمارے چاہنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ سوسائٹی سے ایک صاحب افطاری لیے گھر پہنچ گئے۔ درجن بھر لوگ جمع ہیں اور افطاری کی منتقلی کو براہ راست دیکھ رہے ہیں اور حیران ہیں کہ ہمارے گھر یہ افطاری کون لے کر آگیا، ہم تو کورونا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے دفتر کے ایک سینیئر اور قابل احترام عمران غوری صاحب نے آئسولیشن میں وقت گزارنے کے لیے ایک ٹی وی سیریز ’منی ہیسٹ‘ بتائی تھی۔  

12 مئی: ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن (سیاسی طور سے) اور اسی دن سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے کال آتی ہے۔ آپ کا دوسرا ٹیسٹ آج ہے اور ٹیم پہنچنے والی ہے۔ دھڑکنیں تیز ہوگئیں کیوں کہ میں ٹیسٹ، خون اور ریپر سے سرنج کے کھلنے کی آواز سے ہر ممکن دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بل بجتی ہے اور ایک لڑکا اندر آ کر ٹیسٹ لے کر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد میں نے لیب کے ڈاکٹر کو مطلع کر دیا کہ بھائی ٹیسٹ ہوگیا ہے رزلٹ جلدی فراہم کر دیجئے گا۔

اب دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی ہر جگہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دی جاتی ہے کہ ٹیسٹ ہوگیا ہے دعا کریں۔ ٹیسٹ کے بعد ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے سر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔ اب رات نہیں گزر رہی تھی کہ اگلے دن شام کو رزلٹ آنے تھے۔ کروٹیں بدلتے بدلتے یاد نہیں کب آنکھ لگ گئی۔ فجر کی نماز میں بھی وہی دعا کہ یا اللہ۔۔۔۔

13 مئی: اب میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے گھر میں گھومنا شروع ہوگیا تھا جس پر بیگم کا کہنا تھا کیا ہوگیا ہے؟ ابھی رپورٹ نہیں آئی ہے۔ جواب میں میں نے کہا کہ اللہ خیر کرے گا رپورٹ صحیح آئے گی۔ گیارہ بج کر تیرہ منٹ پر موبائل پر میسج آیا۔۔۔ نہیں چیک کیا ۔۔۔ روز آتے ہیں کرونا سے بچاؤ کے۔۔ اگنور کر دیا۔ گیارہ بج کر بیس منٹ پر بیگم کے نمبر پر میسج آتا ہے۔ وہ چیک کرتی ہیں اورایک گھبرائی ہوئی آواز میں کہتی ہیں۔ عدیل لیب سے میسج آیا ہے کہ اپنی رپورٹس چیک کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔

میں نے کہا میرے پاس کیوں نہیں آیا۔ موبائل اٹھایا تو میسج تو آیا ہوا تھا دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ یہ کوئی عام رپورٹس نہیں تھیں۔ دل ڈوب رہا تھا۔ اس دوران کمیل نے مسئلے مسائل شروع کر رکھے تھے۔ پاپا کب میں اندر آؤں گا؟ میں نے کہا چپ تو کرو۔۔۔یہاں جان پر بنی ہوئی ہے مجھے نہیں یاد میں نے کیا کچھ کہا ہوگا مگر وہ اس نازک وقت میں اپنا رونا روتا رہا۔

علی حسن کی رپورٹ چیک کی Not Detected دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اب میں رلیکس تھا۔ بیگم کی چیک کی وہی رزلٹ اس کے بعد اپنی دیکھا تو بھی وہی رزلٹ تھا۔ آہستہ آہستہ سب کوخبر کرنا شروع کیا اور دعاؤں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس سب کو لکھنے کا مقصد صرف ایک تھا کہ کرونا کو ہلکا نہ لیں۔ حکومت جو کہہ رہی ہے اس پر عمل کریں۔ سماجی فاصلوں کا خیال کریں اوربلا ضروت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ ورنہ اللہ نہ کرے کہیں آپ کو بھی ان سب حالات سے نہ گزرنا پڑے۔ اور آخر میں خدارا ان واٹس ایپ میسجز پر اندھا یقین مت کریں جو کہتے ہیں سازش بےنقاب ہوگئی کرونا کوئی وائرس نہیں۔ جائیں اور خود ایکسپو سینٹر جا کر دیکھ لیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ