'عمار علی جان ففتھ جنریشن وار کے شکار ہیں'

لاہور کے تعلیمی ادارے فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی (ایف سی کالج) نے تاریخ کے پروفیسر عمار علی جان کو مستقل نوکری سے برخاست کر دیا۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

(ٹوئٹر)

لاہور کے تعلیمی ادارے فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی (ایف سی کالج) نے تاریخ کے پروفیسر عمار علی جان کو مستقل نوکری سے برخاست کر دیا۔ گذشتہ ہفتے ادارے نے پروفیسر پرویز ہود بھائی کا کانٹریکٹ بھی بڑھانے سے انکار کیا تھا لیکن بعد ازاں ساتھ معاملات یہ طے پائے کہ وہ ایک سیمیسٹر مزید پڑھائیں گے۔

عمار علی جان نے ہٹائے جانے کا اعلان ٹوئٹر پر کرتہ ہوئے لکھا کہ انہیں انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ ایف سی کالج میں مزید نہیں پڑھا سکیں گے۔

انہوں نے لکھا کہ اس سال کے آغاز میں ان کا کانٹریکٹ اسسٹنٹ پروفیسر سے تبدیل کر کے وزیٹنگ فیکلٹی کر دیا گیا تھا لیکن اب وہ بھی نہیں رہا۔

تقریبا تیرہ ٹوئٹس کی سیریز میں عمار علی جان نے لکھا کہ 2016 میں پاکستان آنے کے وقت وہ ملک کی کسی سرکاری یونیورسٹی سے وابستہ ہونا چاہتے تھے۔ انہوں نے لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی میں پڑھایا لیکن دونوں ہی مواقع پر انہیں 'قومی سلامتی' کی حفاظت کا بہانہ بنا کر نکال دیا گیا۔

'اس موقعے پر کچھ قریبی دوستوں اور ہمدرد اساتذہ نے مجھے ایف سی کالج میں ایک نوکری کے بارے میں بتایا۔ ایف سی کالج نے مجھے موقع دیا کہ میں کسی حد تک مالی استحکام حاصل کر سکوں، اپنا علمی نوعیت کا کام کر سکوں اور مسلسل سرکاری پوچھ گچھ سے کچھ دور رہ سکوں۔ بالآخر میں پاکستان میں پرسکون محسوس کر رہا تھا۔

لیکن طلبہ یکجہتی مارچ کے وقت یہ پھر سے تبدیل ہونے لگا، مجھ پر انتشار پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ مارچ کے بعد مجھ پر غداری کا مقدمہ بنا دیا گیا اور میرے ایک سابق شاگرد عالمگیر وزیر کو گرفتار کر لیا گیا۔

نامعلوم افراد نے مجھے نوکری سے نکالنے کے لیے ایف سی کالج انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

مجھے کہا گیا کہ ہر قسم کی عوامی سرگرمیاں بند کر دوں کیونکہ ایف سی کالج انتہائی ’حساس‘ صورت حال میں ہے اور متنازع ہونا نہیں برداشت کر سکتا۔

میں نے کہا کہ میرے خلاف ایک مقدمہ بغاوت کا بنایا گیا ہے جب کہ میرا سابق طالب علم ملک میں تعلیمی اصلاحات اور طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر جیل میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان حالات کے ہوتے ہوئے میں اس شاگرد کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا، خاص کر جب ریاست کی جانب سے ایک شدید کریک ڈاؤن جاری ہے۔

عمار جان نے لکھا میں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کو طلبہ اور اساتذہ کے مسائل اجاگر کرنے چاہئیں، نہ کہ ریاستی تحفظات ہی ہمارے آگے دہرا دیے جائیں۔

میں غلط تھا اور مجھے بتایا گیا کہ یا تو میں خاموش ہو جاؤں یا پھر یہ نوکری چھوڑ دوں۔

میں نے دوسرے آپشن پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایف سی کالج سے میری بہت خوبصورت یادیں وابستہ ہیں جہاں مجھے طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے بے انتہا محبت ملی جو مجھ سے سیکھنے کے متمنی تھے اور مجھے چیلنج بھی کرتے تھے۔

میں اس وقت کے لیے شکرگزار ہوں جو میں نے یہاں گزارا۔ یہاں موجود عمارتیں، لان، کیفے اور میرا چھوٹا سا دفتر، یہ سب خوبصورت یادیں جو مجھے ابھی سے بہت پرانی لگنے لگی ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر تھریڈ میں مزید لکھتے ہوئے بتایا، میرا خیال ہے کہ پاکستان میں بطور استاد میرا سفر ایف سی کالج کے ساتھ اس افسوسناک انجام پر ہی ختم ہو گیا ہے۔

بعد ازاں متعدد جگہ پر انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت دی اور کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ جو لوگ اس ملک کو چلا رہے ہیں وہ لوگوں کو اپنا کام کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔

اس موقعے پر معروف صحافی ریما عمر کا ردعمل یہ تھا کہ عمران خان ہمیشہ پاکستانیوں کو باہر ملک سے واپس بلانے کی بات کرتے ہیں تاکہ وہ یہاں اپنے لوگوں کی خدمت کر سکیں، اب یہ سب کچھ ان کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

ابن حسن نامی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ عمار جان ففتھ جنریشن وار کا شکار ہوئے ہیں۔

تیمور نامی صارف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ استاد کیا پڑھانے کے لیے ہوتے ہیں یا شاگردوں کو ریلیوں پر لے جانے کے لیے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹیاں تعلیم کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ کمیونسٹ یا مارکسسٹ سرگرمیوں کے لیے۔ 

ایک اور صارف امجد نے عصر حاضر کے مشہور عرب شاعر نزار قبانی کی ایک نظم لکھی جس کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ سوال پوچھنا گناہ ہے!

زاہد نامی صارف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم کی حمایت کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ سب ہوا ہے۔ 

بھارتی ماہر اطفال ڈاکٹر وجے شنکر کا کہنا تھا کہ پاکستان ہو یا انڈیا، کہانی ہر جگہ ایک ہی ہے۔

معروف مصنف اور مورخ علی عثمان قاسمی نے اس امر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اکیڈیمیا میں علی جان جیسے سیاسی بالغ نظر اور پختہ رائے رکھنے والے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس