توہم پرستی کے سائے میں سال کا پہلا سورج گرہن کیسا تھا؟

بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ سے لے کر مغربی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں اتوار کو لوگوں نے 2020 کے پہلے سورج گرہن کے نظارے کیے۔

بھارت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ سے لے کر مغربی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں اتوار کو لوگوں نے 2020 کے پہلے سورج گرہن کے نظارے کیے۔

سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔

سورج گرہن ہمیشہ چاند گرہن سے تقریبا دو ہفتہ قبل یا اس کے بعد ہوتا ہے ، جب چاند زمین کے سائے میں چلا جاتا ہے۔

پاکستان میں اتوار کو صبح 9 بج کر 26 منٹ پر سورج کو گرہن لگنا شروع ہوا۔  سکھر اور اس کے گردو نواح میں مکمل سورج گرہن لگا جبکہ باقی علاقوں میں جزوی گرہن نظر آیا۔ اکثر مقامات پر سورج کے گر روشنی کا ہالا 'رنگ آف فائر' بھی دیکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیرس آبزرویٹری کے ماہر فلکیات ڈیلی نے خبر رساں ادارے  اے ایف پی کو بتایا کہ سورج گرہن زمین کی سطح کے صرف دو فیصد حصے سے نظر آیا۔

ہر برس کی طرح اس سال بھی سورج گرہن کے موقع پر توہم پرستی کے چند واقعات ضرور دیکھنے کو ملے، خصوصاً سوشل میڈیا پر لوگ اس حوالے سے بات کرتے نظر آئے۔

ان میں سب سے اہم سورج گرہن کے دوران کھانا پکانے یا کھانے سے اجتناب کرنا ہے۔ اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ سورج گرہن کے دوران خارج ہونے والی شعاعیں کافی خطرناک ہوتی ہیں تاہم ان سے کسی کھانے کے زہریلا ہونے کے شواہد نہیں ملتے۔

اسی طرح لوگوں میں ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ حاملہ خواتین کو سورج گرہن کے دوران باہر نہیں نکلنا چاہیے تو یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس احتیاط میں تمام لوگوں کو شامل کرنا چاہیے، کیونکہ سورج گرہن کے دوران نکلنے والی الٹرا وائلٹ اور انفراریڈ شعاعیں ہر کسی کو متاثر کرتی ہیں اور ان سے سب کو بچنا چاہیے، صرف حاملہ خواتین کو نہیں۔

پاکستان خصوصاً کراچی کے ساحل سی ویو پر کچھ لوگوں کی جانب سے معذور بچوں کو سورج گرہن کے دوران مٹی میں دبانے کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے، جس کا مقصد یہ تھا کہ ان بچوں کی حالت میں بہتری آسکے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا