ایک سیکنڈ میں درجہ حرارت بتانے والا تھرما میٹر کیسے کام کرتا ہے؟

آج کل دنیا بھر میں کرونا وبا کے دوران انسانی درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے انفرا ریڈ تھرما میٹر کا استعمال عام ہو چکا ہے۔

بخار کووڈ۔19 بیماری کی علامات میں سے ایک ہے اور آج کل دنیا بھر میں کرونا وبا کے دوران انسانی درجہ حرارت چیک کرنے کے لیے انفرا ریڈ تھرما میٹر کا استعمال عام ہو چکا ہے۔

یہ کسی کا درجہ حرارت پتہ لگانے کا آسان اور موثر طریقہ ہے۔ انفرا ریڈ تھرما میٹر میں ایک سینسر لگا ہوتا ہے جسے ماتھے کی دائیں طرف تھوڑے فاصلے پر رکھیں تو ٹیمپورل آرٹری کا درجہ حرارت پتہ چل جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسانی جسم سے اس کی گرمائش کے مطابق نکلنے والی انفرا ریڈ ویوز ایک سینسر کے ذریعے بجلی کے سگنل میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور تھرما میٹر ایک سیکنڈ سے بھی کم کے وقت میں اس سگنل کو پڑھتا اور ہمیں ریڈنگ بتاتا ہے۔

تھرما میٹر اس بجلی کے سگنل کو بدل کر ڈیجیٹل فارم میں ہمیں نمبر کی شکل میں دکھتا ہے جو کہ اس وقت جسم کا درجہ حرارت ہوتا ہے۔ اگر کسی کا درجہ حرارت 38 ڈگری سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب اس شخص کو بخار ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا