’نشے کی لت اور گھر والوں کی نفرت نے قبرستان میں رہنے پر مجبور کردیا‘

پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں 70لاکھ کے قریب لوگ منشیات کے عادی تھے تاہم ایک اندازے کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

انسداد منشیات مہم پنجاب کے کنسلٹنٹذوالفقار حسین کے مطابق اس وقت چرس، افیون، ہیروئن، شیشہ، شراب، کوکین اور نشہ آور امپورٹڈ چیونگ گم کا نشہ استعمال ہو رہا ہے (اے ایف پی فائل)

 

لاہور کے علاقے میاں میر میں رہنے والے نشے کے عادی رضوان علی (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس لت سے اپنی زندگی اس قدر تباہ کر لی کہ اب نہ سر پر چھت ہے اور نہ بہن بھائیوں کا پیار۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے والد ایک انجینیئر تھے اور وہ تین بہن بھائی ہیں، انہیں نشے کی لت میٹرک میں سگریٹ سے شروع ہوئی اور کالج میں داخلہ لینے کے بعد دوستوں کے ساتھ چرس اور شیشہ پینا شروع کردیا۔ ’شوق کب مجبوری میں بدل گیا پتہ ہی نہ چلا۔ کچھ عرصے بعد ایک دوست نے ہیروئن پینے کی طرف راغب کیا اور آہستہ آہستہ کبھی کبھار ہیروئن کی عادت مستقل ہوگئی۔‘

رضوان کے مطابق انہوں نے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو گھر والوں کے اصرار پر بھی یونیورسٹی داخلہ نہیں لے سکے، جب ان کی شادی کی گئی تو گھر والوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں۔

رضوان نے بتایا کہ انہوں نے پرائیویٹ نوکری بھی کی لیکن جب نشے کی عادت بڑھ گئی اور والدہ بیماری کی حالت میں فوت ہوئیں تو وہ نوکری چھوڑ کر گھر کا سامان بیچنے پر آگئے، دو سال بعد بیوی نے بھی خلا لے لی۔ ان کے والد نے تین لاکھ روپے خرچ کر کے ان کا علاج کروایا لیکن وہ اس علت سے نجات نہ پاسکے، والد کی وفات کے بعد بھائی نے رضوان کو گھر سے نکال دیا۔

’نشے کی لت اور گھر والوں کی نفرت کے باعث زندگی میں ہی قبرستان کو رہائش بنا رکھا ہے۔‘

رضوان اب بھیک مانگ کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم اس سے جمع پیسے بھی وہ نشے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ’اب تو لگتا ہے زندگی صرف نشہ کرنے کے لیے رہ گئی ہے، معلوم نہیں کب مر کر لاوارث لاش بن جاؤں۔‘

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کے بازاروں یا گلیوں کے کونوں میں نشہ کرنے والے افراد اکثر عام دکھائی دیتے ہیں۔

رضوان کی طرح نشے کے عادی افراد کی ایسی بے شمار  مثالیں موجود ہیں جن کی نہ صرف سماجی بلکہ ذاتی زندگیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں، پھر بھی وہ اس علت کو ترک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تشویش ناک صورت حال

انسداد منشیات مہم پنجاب کے کنسلٹنٹ ذوالفقار حسین کے مطابق اپریل میں لاک ڈاؤن کے دوران لاہور کی مختلف سڑکوں، باغوں اور پارکوں میں منشیات کے عادی افراد کی 51 لاشیں ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے کیونکہ اس سے قبل ہر ماہ 24 سے 28 منشیات کے عادی افراد کی لاشیں لاہور کے مختلف علاقوں سے ملتی تھیں۔

ذوالفقار حسین کے مطابق اس وقت چرس، افیون، ہیروئن، شیشہ، برشاشا، شراب، کوکین اور نشہ آور امپورٹڈ چیونگ گم کا نشہ استعمال ہو رہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل سید نوید عباس کے مطابق سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں 1993 میں قومی انسداد منشیات پالیسی بنائی تھی جس کے باعث کئی ادارے اور ڈرگ انفورسمنٹ سٹرکچرز وجود میں آئے۔ تاہم ان اداروں کے مابین کوئی موثر میکنزم قائم نہ ہوسکا اور نہ ہی ان اداروں میں کوئی کوآرڈینیشن تھا، جس کے نتیجے میں ڈرگ ٹریفکنگ اور منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج و معالجے کی سہولیات بہت کم اور محدود پیمانے پر دستیاب ہیں۔ 'ایک اور انسداد منشیات پالیسی 2010 میں بنائی گئی تھی، جس کے تحت منشیات کے خاتمے کے وفاقی اور صوبائی اداروں کو اضلاع کی سطح پر کام کرنا تھا تاکہ پاکستان میں منشیات کی سمگلنگ سے نمٹا جاسکے۔'

نوید عباس کا کہنا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرانے کے لیے ان کے خاندان کو خود ہی کوشش کرنا پڑتی ہے اور نجی اداروں میں علاج پر لاکھوں روپے لگتے ہیں جو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔

منشیات کا بڑھتا استعمال

پنجاب میں انسداد منشیات مہم کے کنسلٹنٹ ذوالفقار حسین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے ادارے یو این او ڈی سی اور وزارت نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013 کے قومی سروے کے مطابق 70لاکھ کے قریب لوگ پاکستان میں منشیات کا استعمال کرتے تھے، جس میں شراب کا استعمال کرنے والے افراد کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

تاہم ایک اندازے کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ذوالفقار حسین نے کہا کہ نشے کی کئی اقسام آچکی ہیں اور خطرناک بات یہ ہے کہ گلی محلوں کے علاوہ تعلیمی اداروں میں بھی نشہ آور اشیا کا استعمال ہونے لگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد منشیات پروگرام کے تحت منشیات کی روک تھام پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے لیکن عملی طور پر اس میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا اقوام متحدہ کی جانب سے 26 جون کو انسداد منشیات کا دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جبکہ اس پر قابو پانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی ناگزیر ہوچکی ہے۔

عادی افراد کو ہمدردی کی ضرورت

منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے ایک نجی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر محمد شاہ ذیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گذشتہ دو سالوں میں 1500 سے زائد منشیات کے عادی افراد کا علاج کر چکے ہیں، جن میں چرس، شراب، آئس، ہیروئن وغیرہ کے عادی افراد شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاج سے 50 فیصد افراد ہی اس عادت سے نجات حاصل کر سکے جبکہ باقی دوبارہ شروع ہوگئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کس نشے کے استعمال میں اضافہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہیروئن اور آئس کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ’یہ دونوں نشے سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں، ان کے بعد انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی تعداد گو کہ کم ہے لیکن وہ تو بالکل موت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ علاج سے زیادہ نشے کے عادی افراد کو گھر والوں کی توجہ چاہیے لیکن بیشتر خاندان اس عادت کو نہ چھوڑنے والوں کو دھتکار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں جسمانی، جزباتی، جنسی بدسلوکی، معاشی بدحالی اور احساس کمتری منشیات کے استعمال میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد شاہ ذیب نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کو علاج سے زیادہ ان کے ذاتی مسائل کے حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جتنے مریض ان کے پاس لائے جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کو خاندان دوبارہ ان کے حال پر تنہا چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوبارہ اس جانب راغب ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان