اسرائیل میں اقوام متحدہ کی گاڑی میں نازیبا حرکات کی تحقیقات

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 18 سیکنڈ کی ویڈیو میں تل ابیب شہر کی مصروف سڑک پر ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود ایک شخص کو سرخ لباس میں ملبوس ایک خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یو این ٹی ایس او کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے میں 153 فوجی مبصرین کام کرتے ہیں جو لبنان اور اسرائیل کی سرحد اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کے مشنز میں تعینات ہیں  (تصویر: وکی میڈیا کامنز)

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی شہر تل ابیب میں عالمی ادارے کی گاڑی میں اس کے مبینہ عملے کی جانب سے ایک خاتون کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کی ویڈیو کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس 18 سیکنڈ کی ویڈیو، جو ایک عمارت کی بالکونی سے بنائی گئی تھی، میں شہر کی مصروف سڑک پر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر موجود ایک شخص کو سرخ لباس میں ملبوس ایک خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ گاڑی کی اگلی نشست پر ایک اور شخص براجمان ہے تاہم ویڈیو میں ڈرائیور نظر نہیں آ رہا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجرک نے نیوز ویب سائٹ ’دا نیو ہیومینیٹیریئن‘ (ٹی این ایچ) کو بتایا کہ عالمی ادارے کو یہ ویڈیو دیکھ کر گہرا صدمہ اور افسوس ہوا ہے۔

ترجمان نے کہا: ’ویڈیو میں جو برتاؤ دیکھا گیا ہے وہ گھناؤنا فعل ہے اور یہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کا عملہ جنسی بدسلوکی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔‘

سڑکوں کے نشانات اور ویڈیو کے مقام کی تصاویر کا موازنہ کرکے ٹی این ایچ نے یہ معلوم کیا ہے کہ یہ ویڈیو تل ابیب کی ہیاریکون روڈ پر بنائی گئی تھی۔

اس غیر واضح ویڈیو میں فور بائے فور گاڑی کی نمبر پلیٹ پر یو این ٹی ایس او لکھا ہے جس کا مطلب یونائیٹڈ نیشنز ٹرس سپروائزیشن آرگنائزیشن ہے۔ یہ ادارہ مئی 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے دوران جنگ بندی کی نگرانی کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یو این ٹی ایس او کی ویب سائٹ کے مطابق اس ادارے میں 153 فوجی مبصرین کام کرتے ہیں جو لبنان اور اسرائیل کی سرحد اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کے مشنز میں تعینات ہیں۔

اقوام متحدہ کے جنسی زیادتی اور استحصال کے بارے میں سخت قوانین ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کا عملہ پیسوں کے عوض بھی جنسی تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔

2019 میں اقوام متحدہ نے اپنے عملے اور اس کے جھنڈے تلے قیام امن کی کارروائیوں میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں پر جنسی زیادتی اور استحصال کے 175 الزامات کی تحقیقات کی تھیں جن میں سے 16 افراد پر یہ جرائم ثابت ہوئے تھے۔

اسرائیل میں فلمائی گئی اس ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوسکتا کہ آیا دکھائی گئی جنسی سرگرمی باہمی رضامندی سے انجام دی جا رہی تھی یا اس کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔

تاہم ادارے کے ترجمان سٹیفن نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کا بدعنوانی، فراڈ اور بدسلوکی کی تحقیقات کرنے والا داخلی ادارہ بہت تیزی سے حرکت میں آ چکا ہے اور ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت مکمل ہونے کے قریب ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ تفتیش دو دن پہلے شروع ہوئی تھی اور ’ہم توقع کرتے ہیں کہ عمل بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا