کشمیر: سوشل میڈیا پر حکومت، فوج مخالف مواد پر مقدمات، گرفتاریاں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں سمیت عام شہریوں کو بھی سوشل میڈیا پر حکومت، سرکاری افسران اور فوج کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا ہے۔

تحصیل لیپہ ویلی میں  ایک مقامی مجسٹریٹ سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات کے درمیان مسابقتی پول کروانے پر پابندی عائد کر چکے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تین شہروں میں نصف درجن کے قریب افراد کے خلاف حالیہ دنوں میں مقدمات درج ہوئے اور ان کی گرفتاریاں ہوئیں ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر حکمرانوں اور سرکاری افسران کے خلاف توہین آمیز اور کردار کشی پر مبنی مواد شیئر کرتے ہیں۔

اس سب کی ابتدا رواں سال کے آغاز میں کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2020 نامی قانون کے نفاذ کے بعد اس وقت ہوئی جب سرحدی ضلع نیلم ویلی میں ایک سٹیزن جرنلسٹ کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ 'وصی خواجہ' کے نام سے مشہور صحافی خواجہ وسیم ایوب پر حکومت پاکستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، پاکستانی فوج اور حساس اداروں کے خلاف 'نفرت کے بیج بونے' کے الزامات عائد کیے گئے۔

تاہم خواجہ وسیم ایوب کا دعویٰ ہے کہ وہ ضلع نیلم کی پولیس اور ڈپٹی کمشنر کی مالیاتی بدانتظامیوں اور ماورائے قانون اقدامات پر آواز اٹھاتے رہے ہیں، جس کی بنا پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

اس سلسلے میں تازہ ترین اقدام ضلع کوٹلی میں ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی جانب سے اس وقت سامنے آیا، جب انہوں نے تحصیل کھوئی رٹہ کی حدود میں کسی جنازے کی اطلاع سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اس سلسلے میں کھوئی رٹہ کے پولیس سٹیشن میں ایک شہری کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق الیاس نامی شہری نے پابندی کے باوجود اپنے تایا کی وفات کی خبر سوشل میڈیا پر شائع کی۔ کھوئی رٹہ پولیس کے گلفراز نامی اہلکار نے ٹیلی فون پر اس ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کی ہے تاہم ان کے بقول ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

اس حوالے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم کے ترجمان راجہ وسیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت نے فیک آئی ڈیز کو بنیاد بنا کر نفرت، سنسنی پھیلانے اور دہشت گردی کو بڑھاوا دینے یا ان کی تشہیر کرنے کے خلاف قانون سازی کی ہے جو دنیا بھر میں موجود ہے۔

راجہ وسیم کہتے ہیں کہ ’یہ صرف سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جہاں تک اظہار رائے کا تعلق ہے تونہ صرف  آزادی اظہار رائے بلکہ معلومات تک رسائی کو بھی آئین میں ڈال دیا گیا ہے۔ ’سوشل میڈیا پر جتنی آزادی ہمارے کشمیر میں ہے اتنی تو پاکستان میں بھی نہیں۔‘

کسی کے خلاف ایف آئی آر ہونا حکومتی پالسیی نہیں ہے۔ جن کے خلاف ایف آئی آر ہوئی ہے ان سے زیادہ حساس معلومات لوگ شیئر کرتے رہتے ہیں۔

کھوئی رٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر نسیم عباس نے ٹیلی فون پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر جنازے کی اطلاعات شائع کرنے پر پابندی انتظامیہ کی جانب سے اس علاقے میں اجتماعات کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ کرونا (کورونا) وبا کے پھیلاو کو روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا: 'ہم ہنگامی صورت حال سے نمٹ رہے ہیں۔ ریاست میں ایمرجنسی نافذ ہے اور ان حالات میں تو بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہو جاتے ہیں۔'

نسیم عباس کے بقول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کریمنل لا (ترمیمی) ایکٹ 2020 میں پاکستان میں نافذ سائبر قوانین کو شامل کر لیا گیا ہے اور اب انتظامیہ کے پاس اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر پر پابندی عائد کر دے۔

اس سے قبل ایک اور تحصیل لیپہ ویلی میں بھی مقامی مجسٹریٹ سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات کے درمیان مسابقتی پول کروانے پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت ایک عرصے سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور اب اس میں پولیس اور انتظامیہ کے علاوہ محکمہ اطلاعات بھی شامل ہو گیا ہے۔ اگرچہ حکومت ان اقدامات کو غلط خبریں اور افواہیں روکنے کے سلسلے میں ایک پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ تاہم عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ حکومت مخالف موضوعات پر رائے کا اظہار کرنے والے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی زبان بندی کی ایک کوشش ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چند روز قبل انگریزی اخبار ڈان کے ساتھ منسلک سینیئر صحافی اور سینٹرل پریس کلب مظفرآباد کے صدر طارق نقاش کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں ان کی ایک ٹویٹ کو بنیاد بنا کر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور ہونے والی اس پٹیشن پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صحافتی تنظمیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سینٹرل پریس کلب مظفرآباد کے صدر سجاد میر نے اس حوالے سے کہا: 'سینیئر صحافی طارق نقاش کے حوالے سے توہین عدالت کی درخواست باعث حیرت ہے۔ ہم اس درخواست کو معزز عدلیہ کے خلاف سازش تصور کرتے ہیں، جس کا واحد مقصد ریاست کے دو ستونوں کا ٹکراؤ ہے۔'

اس بارے میں جب وزیراعظم کے ترجمان راجہ وسیم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک طارق نقاش کی بات ہے تو عدلیہ کے معاملات کے ساتھ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

کشمیر کی حکومت پہلے ہی پریس فاؤنڈیشن نامی ادارے کے قیام اور اس کے اختیارات کو بتدریج بڑھا کر میڈیا پر سینسر شپ کا ایک غیر مرئی حصار قائم کر چکی ہے اور اب کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2020 کے ذریعے سوشل میڈیا پر اظہار رائے پر بھی بندشیں لگائی جا رہی ہیں۔

کریمنل لا ایکٹ میں حالیہ ایک ترمیم کے ذریعے پاکستان میں نافذ سائبر کرائم ایکٹ کے ابتدائی مسودے کو شامل کرکے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی گئی ہے اور اب بعض سرکاری افسران پر الزام ہے کہ وہ اس قانون کو ذاتی مقاصد کے لیے بے جا طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

اس قانون پر عملدرآمد کے لیے پولیس تمام اضلاع میں 'سوشل میڈیا سرویلنس سیل' قام کر چکی ہے جن کا بظاہر مقصد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، مذہبی و سیاسی منافرت پھیلانے والے مواد اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر نظر رکھنا ہے تاہم بعض کارکنوں کا خیال ہے کہ حکومت اس اقدام کے ذریعے اختلافی بیانیے کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خود بھی سوشل میڈیا کے ایک سرگرم صارف رہ چکے ہیں تاہم اپنی حکومت کے ابتدائی عرصے میں ہی ایک بیان کے ذریعے وہ سوشل میڈیا کو 'گٹر میڈیا' قرار دے کر اسے 'قابو میں رکھنے' کے انتظام کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ وکلا نے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف استعمال ہونے والے کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2020 نامی اس قانون کو مقامی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور عدالت نے ان کی پٹیشن باقاعدہ سماعت کے لیے منظور بھی کرلی ہے۔

​​​اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے والے ایک وکیل قاضی عدنان قیوم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رواں سال نافذ ہونے والے سائبر قوانین کی بعض شقیں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور ان قوانین کو بنانے کے لیے آئینی طریقہ کار بھی اختیار نہیں کیا گیا۔

ان کے بقول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آئین میں 13ویں ترمیم کے بعد سائبر کرائم اور موصلاتی آلات کے استعمال سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار وزیر اعظم پاکستان کو منتقل ہو گیا ہے اور اس نوعیت کے قوانین وزیر اعظم پاکستان وفاقی کابینہ کے ذریعے بنا سکتے ہیں جبکہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ان قوانین کو کریمنل لا ایکٹ کا حصہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'جب تک یہ قوانین آئینی طریقہ کار کے تحت بنا کر ان پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ اتھارٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اور ان میں سے انسانی حقوق سے متصادم شقیں نکالی نہیں جاتیں، یہ قوانین غیر آئینی ہوں گے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل