امیر لوگ بغیر بیماری کے آکسیجن سلنڈر خرید رہے ہیں: ڈیلر

کراچی میں اس کاروبار سے وابستہ علی رضا کے مطابق اسی غیر معمولی رویے کی وجہ سے گذشتہ تین ہفتوں سے پاکستان بھر میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جس سے کرونا وائرس کا شکار ہونے والے ہزاروں مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

(ٹوئٹر)

لوگ تو دھڑا دھڑ آکسیجن سلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر گھر کا کوئی فرد کرونا وائرس کا شکار ہو جائے تو مارا مارا نہ پھرنا پڑے۔

یہ کہنا تھا کراچی سے تعلق رکھنے والے محمد رضا کا جو گذشتہ ایک مہینے سے آکسیجن سے بھرے سلنڈرز کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ بڑے ڈیلرز سے آکسیجن سلنڈر(جنھیں آکسیجن باٹلز بھی کہا جاتا ہے) خرید کر اپنے کلائنٹس کو فروخت کرتے ہیں۔

ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے آلات کا کاروبار کرنے والے محمد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'امیر لوگ بغیر کسی ضرورت یا بیماری کے آکسیجن سلنڈرز خرید رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں بیماری ان کے گھر آ جائے اور آکسیجن نہ ملے۔

نامساعد حالات  کے پیش نظر روزمرہ استعمال اور خورونوش کی اشیا زیادہ خریدنا اور گھروں میں ذخیرہ کرنا ایک معمول کی سرگرمی سمجھی جا سکتی ہے لیکن بیماری کے آنے کے ڈر سے آکسیجن ذخیرہ کرنا کوئی نارمل انسانی رویہ نہیں ہو سکتا۔

اسی غیر معمولی رویہ کی وجہ سے گذشتہ تین ہفتوں سے پاکستان بھر میں آکسیجن سلنڈرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جس سے کرونا وائرس کا شکار ہونے والے ہزاروں مریضوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔'

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کووڈ۔19 کے مریضوں کی حالت بہت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں انہیں معمول سے زیادہ آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے مریضوں کی جان بچانے کے لیے مصنوعی طور پر آکسیجن مہیا کی جاتی ہے۔

باقی دنیا کی طرح پاکستان بھی کرونا وائرس کی وبا کی زد میں ہے۔ تقریبا دو لاکھ پاکستانیوں میں اس مہلک وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جبکہ چار ہزار سے زیادہ اموات بھی ہو چکی ہیں۔

اس وقت پاکستان میں کووڈ۔19 کے مریضوں  کی ایک بڑی تعداد اس حالت کو پہنچ چکی ہے۔ جہاں انہیں زیادہ آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کووڈ۔19 میں مبتلا مریضوں کی بہت بڑی تعداد کو اضافی آکسیجن دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں مصنوعی آکسیجن کم ہے؟

کیا پاکستان میں مصنوعی آکسیجن کم ہے؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے نہیں۔

پاکستان میں فی الحال آکسیجن کی کمی نہیں ہے۔ کمی ہے تو آکسیجن سلنڈرز کی، جس کے باعث ضرورت مندوں تک آکسیجن پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔

اسلام آباد میں آکسیجن فروخت کرنے والے کامران محمد ملک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آکسیجن سلنڈرز کی کمی کی تین وجوہات ہیں۔

1۔ کرونا وائرس کی وبا کے باعث کووڈ۔19 کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ اور ان میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جنہیں مصنوعی آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس سے آکسیجن کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔

2۔ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے علاوہ کووڈ۔19 کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد گھروں پر اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ خوف کے مارے لوگوں کی بہت بڑی تعداد بیماری کی صورت میں بھی ہسپتال کا رخ نہیں کرتے۔ کووڈ۔19 کے ایسے بہت سے مریض گھروں پر ہی آکسیجن کا اہتمام کر رہے ہیں۔

3۔ لوگوں نے بیماری میں مبتلا ہونے کے ڈر سے آکسیجن سلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھنا شروع کر دئیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں اور نجی استعمال میں آنے والے تمام سلنڈرز اس وقت یا تو زیر استعمال ہیں۔ اور یا ذخیرہ ہوئے پڑے ہیں۔ جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سلنڈرز کم ہو گئے ہیں۔

راولپنڈی میں آکسیجن کے ڈیلر رحمت علی کا کہنا تھا: اب ہمارے پاس سلنڈرز ہیں ہی نہیں کہ ہم بیچ سکیں۔ اب جو خالی سلنڈر لاتا ہے ہم انہیں آکسیجن کا بھرا سلنڈر دے دیتے ہیں۔

 کراچی کے محمد رضا نے کہا کہ جون کے مہینے میں انہوں نے تقریبا ایک سو سلنڈر فروخت کیے ہیں اور یہ سارے کے سارے ان لوگوں نے خریدے جو بیماری کے ڈر سے گھر پر آکسیجن رکھنا چاہتے ہیں۔

راولپنڈی کے رہائشی کاشف فہیم (فرضی نام) کے بڑے بھائی گذشتہ مہینے کووڈ۔19 کا شکار ہوئے۔ ماہ رواں کے دوسرے ہفتے انہیں مصنوعی آکسیجن پر ڈال دیا گیا۔

کاشف فہیم کا کہنا تھا کہ جس نجی ہسپتال میں ان کے بھائی زیر علاج ہیں وہاں تقریبا ایک درجن مریض مصنوعی آکسیجن پر ہیں۔

ہمیں ہر وقت فکر لگی رہتی ہے کہ  کہیں ہسپتال کے پاس آکسیجن کم نہ پڑ جائے۔

سلنڈرز کی کمی کیوں؟

کامران محمد ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آکسیجن کے سلنڈرز مینوفکچر نہیں ہوتے۔ نئے سلنڈرز چین سے در آمد کیے جاتے ہیں۔ جبکہ جاپان سے بھی سلنڈرز آتے ہیں۔ لیکن وہ استعمال شدہ ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کے باعث دوسری اشیا کی طرح سلنڈرز کی درآمد و برآمد بھی بند ہے۔

رحمت علی کا کہنا تھا کہ تین چار مہینے پہلے تک جو آکسیجن سلنڈرز پاکستان پہنچ چکے تھے وہی اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں اور استعمال ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کے باعث سلنڈرز کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کے زیر اہتمام چلنے والے ہسپتال کے مہتمم الطاف شیر نے بتایا: ابھی تو ہمارے پاس آکسیجن سلنڈرز موجود ہیں لیکن ہم چاہ رہے ہیں کہ مزید دس سلنڈرز خرید لیے جائیں۔

تاہم الطاف شیر کا کہنا تھا کہ کافی کوشش کے باوجود انہیں مارکیٹ میں سے آکسیجن سلنڈر نہیں ملے۔

یاد رہے کہ آکسیجن عام سلنڈر میں نہیں بھری جا سکتی۔ بلکہ اس مقصد کے لیے زیادہ دباو برداشت کرنے والے خصوصی سلنڈرز استعمال کیے جاتے ہیں۔

آکسیجن سلنڈر کے ساتھ دوسرے لوازمات بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جن میں ریگولیٹر، پائپ اور سٹیند وغیرہ شامل ہیں۔

قیمتوں میں اضافہ

 آکسیجن سلنڈرز کی کمی کے باعث گذشتہ تین ہفتوں کے دوران پاکستان میں آکسیجن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

محمد رضا نے بتایا کہ جو سلنڈر دو مہینے پہلے تک دس ہزار میں مل جاتا تھا اب وہ اٹھارہ ہزار میں فروخت ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھروں پر ذخیرہ کرنے کی غرض سے آکسیجن خریدنے والے بڑے سلنڈرز کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس کی قیمت 35 ہزار روپے ہے۔

کامران محمد ملک نے کہا کہ اسلام آباد میں گذشتہ مہینے تک جس آکسیجن سلنڈر کی قیمت پانچ ہزار روپے تھی۔ اب وہ گیارہ سے بارہ ہزار روپے میں بک رہا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں دوائیوں کی بڑی دکانوں پر بھی اب آکسیجن کے بھرے ہوئے اور خالی سلنڈرز فروخت کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح کئی ایک آن لائن مارکیٹوں پر بھی نئے اور پرانے خالی آکسیجن سلنڈرز فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان میں او ایل ایکس سر فہرست ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان