سونے کا سفر: انگوٹھی سے چوڑیوں اور نیکلس تک

 شادیوں میں دلہن کو سونا دینے کا سلسلہ تو بہت عام ہے، لیکن شاید بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ آخر یہ رواج کب اور کیسے شروع ہوا۔  

بھارت دنیا میں چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سونے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے (اے ایف پی)

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں روز بروز اضافے کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی فی تولہ قیمت تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ 

ایسے میں زیادہ فکر ان لوگوں کو ہوتی ہے جو اپنی شادی کے لیے سونا خریدنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ شادیوں میں دلہن کو سونا دینے کا سلسلہ تو بہت عام ہے، لیکن شاید بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ آخر یہ رواج کب اور کیسے شروع ہوا۔  

گولڈ ورلڈ کونسل کے مطابق بھارت دنیا میں چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جہاں سونے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور اس میں 60 فیصد تک استعمال شادیوں کے موقعے پر ہوتا ہے۔

مورخین کے مطابق شادیوں میں دلہن کو سونے کی انگوٹھی یا دیگر زیورات دینے کے رواج کے بارے میں وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کتنی پرانی روایت ہے تاہم بعض تاریخ دانوں کے مطابق یہ رواج تقریباً چھ ہزار سال پرانا ہے اور کچھ اسے تین سے چار ہزار سال پرانا بھی کہتے ہیں۔

چارلز پناتی نے اپنی کتاب Extraordinary origins of everyday things میں لکھا ہے کہ شادی میں دلہن کو سونے کی انگوٹھی دینے کا رواج تقریباً تین ہزار سال پرانا ہے اور اس کا پہلا استعمال فراعنہ مصر کے تیسرے دور میں ہوا تھا۔

اس کے بعد مصنف کے مطابق اس کا استعمال سلطنت روم میں بہت عام ہوا اور اسی زمانے میں ہی سونے کو شادی کی انگوٹھی بنانے میں استعمال کرنے کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے لوہے کی انگوٹھی بھی دی جاتی تھی۔

اس کتاب میں مزید درج ہے کہ انگوٹھی کی گول شکل کو شادی میں استعمال کرنے کا تعلق سلطنت مصر کے صدیوں پرانے عقیدے سے ہے جس کے مطابق گول شکل نہ ختم ہونے والے رشتے کی عکاسی کرتی تھی اور انگوٹھی کے درمیان خالی جگہ ایک نئی زندگی میں داخل ہونے کا دروازہ سمجھی جاتی تھی۔

اس تھیوری کے ساتھ دلہا اور دلہن ایک نئی زندگی کا سفر شروع کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ عمر بھر رہنے کا عزم کرتے تھے۔

اس  صدیوں پرانے رواج کے آثار یورپ میں بھی دریافت ہوئے ہیں جہاں مخلتف جگہوں سے دو اور تین ہزار سال پرانی  انگوٹھیاں کھدائی کے دوران نکلیں اور انہیں عجائب گھروں میں محفوظ کر لیا گیا۔

انگوٹھی تیسری انگلی میں کیوں پہنی جاتی ہے؟

تاریخی کتب کے مطابق سلطنت مصر کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اس انگلی میں موجود ایک شریان سیدھی دل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

اس انگلی میں انگوٹھی پہننا ان کے نزدیک شادی شدہ جوڑے کی محبت اور وفاداری کو عیاں کرنا تھا اور انہیں امید ہوتی تھی کہ اس عمل سے ان کی باہمی محبت میں مزید اضافہ بھی ہوتا ہے۔

اس شریان کو 'وینا ایموریز' یعنی 'وین آف لو' کہا جاتا تھا۔

تاہم طب کے چند ماہرین اس تھیوری سے متفق نہیں ہیں، وہ اس رواج کو زیادہ پرانا نہیں سمجھتے۔

ایک تھیوری اس حوالے سے یہ بھی موجود ہے کہ اس انگلی کا استعمال کام کرنے کے دوران کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انگوٹھی خراب ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

شادی کی انگوٹھی کا استعمال مصر کے بعد روم میں عام ہوا، تاہم روم میں بنیادی عقیدہ مصر سے تھوڑا مختلف تھا۔

تاریخی اوراق میں درج ہے کہ روم کے لوگ اس انگوٹھی کو دلہن کی محبت کی نشانی نہیں بلکہ ملکیت کی نشانی سمجھتے تھے۔

دلہا جب کسی دلہن کو انگوٹھی پہناتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ خاتون اب اس مرد کی ملکیت ہوگی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انگوٹھیوں پر مختلف نقش ونگار بھی روم سے ہی شروع ہوئے جو آج بھی پوری دنیا میں عام ہیں۔

اس کے بعد مورخین کے مطابق 860  قبل مسیح سونے کی ایسی انگوٹھیوں کا استعمال شادیوں میں شروع ہوا جن پر  کبوتر، دو ہاتھ یا دیگر نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔

کبوتر کو امن جبکہ دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر رکھنے کی تصویر سے وفاداری کا مطلب لیا جاتا تھا۔

تاہم چرچ اس نقش و نگاری کو برا سمجھتا تھا اور اس کو جاہلیت کے رواج سے تعبیر کرتا تھا۔

13ویں صدی عیسوی میں اس نقش و نگاری کو سادہ اور سوبر بنادیا گیا اور بشپ اس انگوٹھی کو دو دلوں کے درمیان اتفاق کی نشانی سے تشبیہہ دیتے تھے۔

پاکستانی شادیوں میں سونے کا استعمال

پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی شادی میں دلہن کو سونا دینے کا رواج صدیوں پرانا ہے۔

بعض علاقوں میں دلہن کے گھر والے جبکہ بعض میں لڑکے والے دلہن کے لیے سونے کا بندوبست کرتے ہیں اور یہ شادی کا ایک ضروری جزو سمجھا جاتا ہے۔

پوری دنیا میں سونے کی خرید و فروخت  کو دیکھنے والے ادارے ورلڈ گولڈ کونسل کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 170  ٹن سونا استعمال کیا جاتا ہے  اور اس کی سالانہ قومی سطح پر ویلیو تقریباً دس بلین ڈالر یا ایک کھرب  روپے سے زیادہ  ہے۔

 اسی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سونے کے استعمال کی تقریباً دو فیصد کھپت پاکستان میں ہوتی ہے۔

پاکستان کے مقابلے میں اگر بھارتیوں میں سونے کا استعمال دیکھا جائے تو اسی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2018  کے دوران بھارت میں سونے کی ڈیماںڈ تقریباً 690 ٹن تھی۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دنیا کے 50  فیصد سے زیادہ سونے کا استعمال چین اور بھارت میں کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیر عالم شینواری کلچر کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور کئی سالوں سے مختلف انگریزی اخبارات میں کلچر پر آرٹیکلز لکھتے ہیں۔

انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ روم  اور بنی اسرائیل کے دور سے لے کر آج تک سونے کا استعمال شادیوں میں کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ ہر ایک علاقے اور معاشرے میں الگ الگ ہے۔

عالم نے بتایا کہ پہلے زمانے میں سونے کی انگوٹھی کو محبت اور اتفاق کی نشانی کے طور پر سمجھا جاتا تھا، لیکن آج کل بالخصوص ہمارے معاشرے میں سونا دینا کسی بھی دلہن کے لیے ایک سوشل سکیورٹی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بغیر شادی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا: 'مختلف معاشروں میں سونے کا استعمال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی اسے بطور محبت دلہن کو دیتا ہے جبکہ کچھ معاشرے بظاہر تو محبت کے طور پر دیتے ہیں لیکن اس کے پیچھے بنیادی طور پر خاتون کی سوشل سکیورٹی کا عنصر ضرور ہوتا ہے۔'

شیر عالم کے مطابق سونے کو اس مقصد کے لیے اس لیے چنا گیا ہے کیونکہ یہ خراب نہیں ہوتا اور نہ اس کو زنگ لگتا ہے اور ایک قسم کی مستقل دولت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جو کوئی بھی خاتون کسی بھی مشکل وقت میں فروخت کرسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج کل اس کی شکلیں تبدیل ہو گئی ہیں یعنی پہلے زمانے میں صرف انگوٹھی ہوتی تو آج کل انگوٹھی کے ساتھ نیکلس (ہار)، چوڑیاں اور جھومر وغیرہ بھی بنائے جاتے ہیں۔

تاہم شیر عالم کے مطابق اس کلچر نے بہت سے مسائل بھی معاشرے میں پیدا کیے ہیں جس میں لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونا بھی شامل ہیں کیونکہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو استطاعت نہیں رکھتے۔

آج کل شادیوں میں کتنا سونا دیا جاتا ہے؟

نہایت بی بی کا تعلق پشاور کے ایک نواحی علاقے سے ہے اور ان کی شادی کو تقریباً 35 سال ہوگئے ہیں۔

وہ 20 سال کی تھیں جب ان کی شادی  ہوئی۔ اپنی شادی کو یاد کرتے ہوئے نہایت بی بی نے بتایا کہ 'جس زمانے میں میری شادی ہوئی تھی اس وقت سونے کی قیمت  تین ہزار روپے تھی اور میرے سسرال والوں نے میرے لیے ایک تولہ سونا دیا تھا۔'

انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں یہی ایک سے تین تولہ سونا دینے کا رواج تھا لیکن اس زمانے میں یہ بھی بہت بڑی رقم تھی۔

تاہم بعد میں جوں جوں اس کی قیمت بڑھتی گئی تو ساتھ میں شادیوں میں سونا دینے کا حساب بھی زیادہ ہوتا گیا۔

انہوں نے بتایا: 'پانچ سال پہلے میرے ایک بیٹے کی شادی ہوئی ہے اور ہم نے اس کے لیے دس تولہ سونا خریدا تھا۔ یہ ہمارے اوپر ایک بوجھ ضرور تھا اور ہم نے کئی سالوں کی بچت کرکے یہ خریدا تھا لیکن دینا مجبوری تھا کیونکہ ہم نے منگنی کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم دس تولے سونا دیں گے۔'

شیر عالم سمجھتے ہیں کہ 'اس قسم کے رسوم و رواج نے معاشرے میں غریب طبقے پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے اور زندگی مشکل کر دی گئی ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین