کیا سیاہ فام خاتون امریکی نائب صدر بن سکتیں ہیں؟

جو بائیڈن نے رواں برس مئی میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وال ڈیمنگز کو نائب صدارتی امیدوار کے طور پر ایک ممکنہ امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔

(اے ایف پی)

امریکی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے جارج فلائیڈ کے بعد والے امریکہ میں کسی بھی متوقع نائب صدارتی امیدوار کے پس منظر پہ نظر رکھنا ضروری ہے۔

وال ڈیمنگز 1957 میں پیدا ہوئیں۔ وہ جیکسن ویل شہر کے غریب خاندان کے سات بچوں میں سے سب سے چھوٹی تھیں۔ ان کی والدہ گھروں میں کام کرتی تھیں اور ان کے والد مالٹے کے ایک باغ میں چوکیدار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان تین کمروں کے ایک مکان میں رہتا تھا اور ان کے پاس صرف ایک چولہا تھا جس میں لکڑیاں جلتی تھیں۔ کمروں میں باقاعدہ کھڑکیوں کی بجائے شٹرز تھے۔ ان خاندان سبزیاں اگاتا اور مرغیاں پالتا تھا۔ ڈیمنگز نے ایک الگ تھلگ ایلیمنٹری سکول میں تعلیم حاصل کی۔

ان کے ایک سوتیلے بھائی بینی وڈز نے اخبار اورلینڈو سینٹینل کو بتایا: 'جب وہ پولیس کی سربراہ بنیں تو ہمارا پہلا گھر ٹیلی ویژن شو دا بیورلےہلزبلیز کے کردار جیڈکیمپٹ کے گھر جیسا دکھائی دیتا تھا۔'

ڈیوپونٹ جونیئر ہائی سکول میں تعلیم کے دوران وہ نام نہاد کرزمہ کلب اور ایک ایتھلیٹکس ٹیم کی رکن تھیں۔ وہ سکول کے بعد ڈیری کوئن اور میکڈونلڈز پر کام کرتیں اور ایک نرسنگ ہوم میں برتن دھوتی تھیں۔

ہائی سکول میں ایک سینیئر کی حیثیت سے ایک مقابلہ حسن میں مس کونجینیئلٹی کا اعزاز جیتا۔

انہوں نے 1979 میں فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پولیس میں بھرتی ہونے سے پہلے کریمینالوجی میں ڈگری حاصل کی۔

گشت کے دوران ان کی ملاقات اپنے خاوند جیری سے ہوئی جو خود  بھی ایک پولیس افسر تھے۔ انہوں نے اورنج کاؤنٹی شیرف ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر ملازمت جاری رکھی۔ کاؤنٹی میں اورلینڈو کے کچھ حصے بھی شامل تھے۔ وہ اس عہدے پر کام کرنے والے پہلے افریقی نژاد امریکی تھے۔ اس وقت وہ اورنج کاؤنٹی کے میئر ہیں۔ جوڑے کے تین بچے ہیں۔ تصویروں میں وہ اکثر ہارلےڈیوڈسن موٹر سائیکل کی سواری کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ وہ باقاعدگی سے چرچ جاتی ہیں۔

 2012 میں ناکام رہنے کےبعد ڈیمنگز فلوریڈا سے امریکی کانگریس کے 10 ویں ڈسٹرکٹ سے ایوان کی رکن منتخب ہوئیں۔

ایک بار کانگریس میں انہوں نے اپنا بہت جلد تاثر قائم کر لیا تھا اور جب 2018 میں  ڈیموکریٹکس نے دوبارہ ایوان میں اکثریت حاصل کی تو سپیکر نینسی پلوسی نے انہیں جوڈیشری اور انٹیلی جنس دونوں کمیٹیوں کے لیے نامذ کر دیا تھا۔  پلوسی نے انہیں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ڈیموکریٹس کی کوششیوں کے حوالے سے سات پراسیکیوٹرز کی ٹیم کی رکن کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے بھی کہا تھا۔

جو بائیڈن نے مئی میں یہ انکشاف کیا کہ انہیں نائب صدارتی امیدوار کے طور پر ایک ممکنہ امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔ بائیڈن نے ان کے بارے کہا تھا: ’وہ اس فہرست میں شامل ایک درجن کے قریب حقیقی قابل اور باصلاحیت خواتین میں سے ایک ہیں۔

لیکن ڈیمنگز نے اپنی عاجزی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انہوں نے مقامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’ اے بی سی ‘ کو بتایا: ’یہ ان کے لیے نہایت اعزاز کی بات ہے۔ اور یہ وہ مواقع ہیں جو یہ دیکھنے والے ہر لڑکے اور لڑکی کو ملنے چاہیں، چاہے ان کی جلد کا رنگ کوئی بھی ہو، ان کے یا ان کے والدین کے پاس کتنا پیسہ ہے یا وہ اس ملک میں کہاں رہتے ہیں۔ ان سب کو ’امریکن ڈریم‘  جینے کا حق ہے۔

اور جب مینیا پولیس میں پولیس کے ہاتھوں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تب بھی وہ اپنے ماضی کے ریکارڈ سے متصادم ہونے سے باز نہیں آئیں۔

انہوں نے چار سال اورلینڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ کی چیف کی حیثیت سے اس وقت خدمات انجام دی تھیں جب ڈیپارٹمنٹ کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا۔

ڈبلیو ایف ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 2010 سے لے کر 2014 تک ڈیپارٹمنٹ نے کم از کم 47 مقدموں میں جھوٹے گرفتاریوں، ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور دیگر شکایات کے الزام میں 33 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی ادائیگی کی تھی۔

انہوں نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل کام کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے خود کو ملک کے پولیس نظام میں اصلاحات لانے کے لیے بھی پیش کر دیا ہے کیونکہ جو بائیڈن پر دباؤ ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہو جائیں تو انہیں ملک بھر میں پولیس کو ڈیفنڈ کرنے اور پولیس محکموں کی اصلاح کا وعدہ کرنا ہو گا۔

فلائیڈ کی موت کے چار دن بعد 29 مئی کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں ڈیمنگز نے لکھا: ’ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک سابقہ رکن کی حیثیت سے مجھے اپنی پارٹی کے بھائیوں اور بہنوں سے شروع کرنا چاہیے کہ تم (نسل پرستی کے خاتمے کے لیے) کیا کر رہے ہو؟‘

آئندہ امریکی انتخابات کے لیے ایسے لوگوں میں سے جو وال ڈیمنگز کو ڈیموکریٹ صدارتی امیدوارجوبائیڈن کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ آپ کو پرجوش اندازمیں گذشتہ موسم گرما کی ایک ویڈیو دیکھنے کا کہیں گے۔

اس ویڈیو میں وال ڈیمنگز خصوصی وکیل رابرٹ ملر سے اس وقت سوالات کرتے دکھائی دیتی ہیں جب انہوں نے ڈونلڈٹرمپ کے خلاف اپنی تحقیقات میں ایوان کی عدالتی کمیٹی میں گواہی دی تھی۔

 تریستھ سالہ ڈیمنگز مضبوط اور تیز ہیں لیکن وہ ملر کے بظاہر عملی انکار اور بار بار مخمصے کا شکار ہو جانے کی حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

ایسا لگتا ہے وہ جانتی ہیں کہ زیادہ دباؤ ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کی بجائے وہ ملر کو ایک کھلے سوال کے ساتھ چھوڑ دیتی ہیں کہ کیا صدر کے'جوابات سے یہ لگتا ہے وہ ہمیشہ سچ نہیں بولتے؟'

ملر نے مسکراتے ہوئے اتفاق کیا 'میں کہوں گا عام طور پر ایسا ہی ہے۔' یہ ان بنیادی اعترافات میں سے ایک تھا جس کی ڈیموکریٹس کو تلاش تھی۔

 دوسری لوگ اتنے ہی یقین کے ساتھ کہیں گے وہ ویڈیو جسے دیکھنے کی آپ سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایک مختلف ریاست میں ایک دہائی پہلے کی تھی جس میں ڈیمنگز نے ایک مختلف وردی پہن رکھی ہے۔

2007 میں ڈیمنگز کو ریاست اورلینڈو میں پولیس کے محکمے کی سربراہ مقررکیا گیا تھا۔ وہ ریاست کی 132 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون پولیس سربراہ تھیں۔ انہوں نے پولیس کے ریڈیو پیغامات کو خفیہ بنانے کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک متنازع اقدام تھا۔ عوام اور میڈیا کو یہ پیغامات سننا اور پولیس کی ریڈیو پیغام رسانی پر نظر رکھنا پسند تھا لیکن ڈیمنگز نے اپنے افسروں کے تحفظ کے لیے اس قسم کی رسائی روکنے کا فیصلہ کیا۔

 ایک عوامی اجتماع میں وہ واضح کرتی ہیں کہ وہ اس تشویش پر بات کرنا چاہتی ہیں جو لوگوں کو ہو سکتی ہے۔ انہوں نے رپورٹروں کو بتایا: 'ہم آپ کے ساتھ طویل عرصے سے موجود ہیں۔ ہم یقینی طور کہیں نہیں جا رہے اور ہمیں پتہ ہے آپ بھی نہیں جا رہے۔'

 ریاست فلوریڈا کی ایک لابسٹ کیلی کوہن نے دی انڈپینڈنٹ کو ایک ایک انٹرویو میں کہا: 'بائیڈن وال ڈیمنگز کو اپنی نائب صدر کے طور چن کر ناقابل یقین حد تک عقل مندی کا مظاہرہ کریں گے۔

آپ جانتے ہیں جیسا کہ (امریکی ٹیلی ویژن چینل کے آنجہانی صحافی) ٹم روسرٹ کہا کرتے تھے۔'فلوریڈا، فلوریڈا، فلوریڈا۔' اور آپ جانتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے معمے میں فلوریڈا ایک انتہائی اہم ٹکڑا ہے۔'

 وہ کہتی ہیں کہ یہ صرف جغرافیہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ایوان میں ان کی کارکردگی کو اہمیت دی گی ہے وہ مضبوط اور باریکی بینی سے سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو ابتدا میں بعض افراد کو خوف میں مبتلا کر سکتا ہے۔'

کوہن مزید کہتی ہیں: 'وہ واقعی ایک عوامی شخصیت ہیں۔ وہ بہت پرجوش ہیں اوران کا قہقہہ بھرپور ہوتا ہے۔ جب آپ ان کے قریب ہوتے ہیں تو وہاں ایک ہالہ بن جاتا ہے۔ وہ ایسی شخصیت ہیں جو سب کے ساتھ رابطہ رکھتی ہیں۔'

 وہ لوگ جو 'بائیڈن کا نائب صدر کون ہو گا' اس بارے میں کام کر رہے  ہیں انہوں نے یہ اور دوسری بہت سی ویڈیو کلپس دیکھ رکھی ہیں۔ دونوں کلپس میں ڈیمنگز کی بہت خوبیاں دکھائی دیتی ہیں جن کے بارے میں ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ انہیں انتخابی ٹکٹ دلوا سکتی ہیں۔

ان خوبیوں میں دوسروں کی بات سننے پر رضامندی کے ساتھ قوت فیصلہ اور دوسروں کو ساتھ ملانے کی صلاحیت شامل ہیں۔

وہ ایک افریقی نژاد امریکی خاتون ہیں جو بس اتفاق سے ساری زندگی ریاست فلوریڈا کے میدان جنگ میں رہیں اور کام کیا۔  

مزید یہ کہ 2007 کی ویڈیوایک اور مسئلے کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتی ہے جسے سابق صدر کی ٹیم کو احتیاط کے ساتھ نمٹانا ہو گا۔

کسی عام یا معمول کے مطابق ہونے والے انتخابی مرحلے میں فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی ایک سیاہ فام خاتون جنہوں نے پولیس افسر کےطور پر تقریباً 30 سال تک کام کیا ہو، اپنی خدمات جاری رکھنے کے لیے نائب صدر کی ناقابل شکست ڈیموکریٹ امیدوار دکھائی دے سکتی تھیں۔

لیکن یہ کوئی معمول کا سال نہیں ہے۔ پولیس کی حراست میں نہتے افریقی نژاد امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت اور اس کے بعد پولیس کی سیاہ فام افراد کے خلاف دوڑ اور اقدامات، بعض جائزوں کے مطابق ڈیمنگز کی قانون نافذ کرنے والے ادارے میں ملازمت ایک نقصان دہ امر ہو سکتا ہے۔  

نیویارک کی فوردھم یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر کرسٹینا گریر کہتی ہیں: 'ڈیمنگز کی نوکری اور موجودہ حالات کے بارے میں پارٹی کے ترقی پسند ونگ میں کچھ تحفظات موجود ہیں۔ 'میں نہیں سمجھتی کہ'بلیک لائیوز میٹر'کے دور میں ہم ایک سابق پولیس سربراہ کو اس عہدے پر منتخب کر سکتے ہیں جب تک ان میں کچھ بہت خاص نہ ہو۔'

بطور نائب صدر ان کا انتخاب اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس پوسٹ کے لیے کس قسم کی شخصیت کی تلاش ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صدارتی امیدوار اکثر اس امید پر اپنے نائب ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ اپنی ہی ریاست میں جیت حاصل کر سکیں اور فلوریڈا سے زیادہ اہم ریاست کوئی نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلوریڈا یونیورسٹی سیاست کی ماہر بیتھ روزسن کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں ڈیمنگز کی مدد ہو سکتی تھی لیکن پارٹی کا موڈ کسی اور ترقی پسند شخص کی تلاش میں ہوسکتا ہے جیسے جارجیا سے تعلق رکھنے والی سٹیسی ابرامس جو 2018 میں ملک کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بنتے بنتے رہ گئی تھیں۔

روزسن نے اس ہفتے نیویارک اور کینٹکی میں ڈیموکریٹک پرائمریز میں فتح حاصل کرنے والے جمال بومن کی مثال دیتے ہوئے ترقی پسندوں کی کامیابی اور پارٹی موڈ کی طرف اشارہ کیا ۔

انہوں نے مزید کہا’وہ ایک بہت ہی مخلص خاتون ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنا کیس مضبوط کرنے کی کوشش کریں گی۔ وہ یقینی طور پر پولیس کے لیے صرف ایک چیئر لیڈر نہیں ہیں بلکہ پارٹی کی بنیاد خاص طور پر افریقی امریکیوں کو اس بارے میں قائل کرنا مشکل ہو گا۔

کوہن جنہوں نے میئر کا انتخاب لڑنے کے دوران ڈیمنگز کے شوہر کے لیے کام کیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے ماضی کو پوشیدہ نہیں رکھتیں بلکہ وہ سب کے سامنے ہے۔ جب پولیس اور دیگر امور کی بات کی جائے تو قوم کو بہتر طور پر کام کرنے کی ضرورت کا اعتراف کرتی ہیں۔ ترقی پسندوں کو ٹرمپ کے مواخذے سے نمٹنے کے لیے ان کی کوششوں علاوہ کچھ اور دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

"انہوں نے کہا: ’اگرچہ ضروری نہیں کہ وہ پولیس چیف کی حیثیت سے اس کے ریکارڈ سے اتفاق کریں لیکن ان کی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے کوششیں کر کے خود کو ترقی پسند ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے دلیری کے ساتھ ٹرمپ کو للکارا تھا اور ان کے اعمال پر سوال اٹھائے تھے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین