چین کی برطانیہ کو ’دھمکی‘ اور ہانگ کانگ میں پھر سے احتجاج

چین نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ہانگ کانگ کے شہریوں کی برطانوی شہریت میں توسیع کے لیے مزید زور دیا تو وہ بھی جوابی کارروائی کرے گا۔

چین نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ہانگ کانگ کے شہریوں کی برطانوی شہریت میں توسیع کے لیے مزید زور دیا تو وہ بھی جوابی کارروائی کرے گا۔

لندن میں چین کے سفارت خانے نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے طے شدہ معاملات میں یک طرفہ طور پر تبدیلیاں کی ہیں جن سے اس کے مؤقف اور وعدوں سمیت بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کی قدروں کی خلاف ورزی ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

چین کی طرف سے نئے قانون کے نفاذ کے بعد برطانیہ نے ایسے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت ہانگ کانگ کے شہریوں کی بیرون ملک مقیم برطانوی شہری کی حیثیت برقرار رہے گی تاکہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ نئی جگہ منتقل ہو سکیں اور بالآخر شہریت کے لیے درخواست دے سکیں۔

برطانیہ نے نئے قانون کو ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے سے قبل طے ہونے والی شرائط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جن کے تحت ایک ملک دو نظام کا اصول طے پایا تھا۔

اس اصول کے تحت ہانگ کانگ کے شہریوں کو پہلے سے حاصل حقوق، عدالتی اور قانون سازی کا نظام 2047 تک برقرار رکھا جانا تھا۔

خبر رساں ادارہ اہ ایف پی کے مطابق ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے نئے قانون کے نفاذ پر چین کو خاص طور پر مغربی ملکوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ نئے قانون کے تحت تخریبی کارروائی، علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور غیرملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے جرم قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

برطانیہ واحد ملک نہیں ہے جس نے ہانگ کانگ کے شہریوں کو پناہ اور ترک وطن کے زیادہ حقوق دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ نئے قانون کے تحت نیم خود مختار شہر کے مستقبل کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہے۔

جمعرات کو آسٹریلیا کے وزیراعظم سکاٹ موریسن نے کہا کہ وہ ہانگ کانگ کے شہریوں کو محفوظ پناہ فراہم کرنے کے لیے تیزی سے غور کر رہے ہیں۔

تائیوان نے ہانگ کانگ کے ایسے شہریوں کے لیے دفتر قائم کر دیا ہے جو فرار ہونا چاہتے ہیں۔

جبکہ امریکہ میں ایک قانون بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت ہانگ کانگ کے شہریوں کو پناہ فراہم کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا