صرف چار دیواری کھڑی کر رہے تھے تاکہ قبضہ نہ ہو: لال چند مالھی

قومی اسمبلی میں حقوق انسانی کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی سمجھتے ہیں کہ چار دیواری کی تعمیر کے لیے کسی اجازت نامہ کی ضرورت نہیں، جب کہ پنچایت پہلے ہی سی ڈی اے کو چار دیواری کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق تحریری اطلاع دے چکی ہے۔

(ٹوئٹر)

وفاقی دارالحکومت میں ہندوؤں کی پہلی عبادت گاہ کے قیام کا معاملہ ہر گذرتے دن کے ساتھ پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مخالفت کر رہی ہیں۔

جمعے کے روز کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں چند روز قبل شروع ہونے والی شری کرشن مندر کی چار دیواری کی تعمیر رکوا دی۔  

شری کرشن مندر کی چار دیواری کا کام اسلام آباد کی ہندو پنچایت کے زیر اہتمام ہو رہا تھا۔

پنچایت کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعے کے روز سی ڈی اے کی ایک ٹیم نے سائٹ پر آکر کام رکوا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس مندر کی تعمیر کا اجازت نامہ موجود نہیں ہے۔

قومی اسمبلی میں حقوق انسانی کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند مالھی سمجھتے ہیں کہ چار دیواری کی تعمیر کے لیے کسی اجازت نامہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کہ پنچایت پہلے ہی سی ڈی اے کو چار دیواری کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق تحریری اطلاع دے چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مندر کے لیے پلاٹ ہندو پنچایت کو الاٹ ہو چکا ہے۔ اور زمین ہندو پنچایت کی ملکیت ہے۔ جب کہ فنڈز کے لیے درخواست اور مندر کی عمارت کا سائٹ پلان وزیر اعظم کے دفتر میں پڑا ہے۔

وزیر اعظم فنڈز کی منظوری دیں گے تو وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سی ڈی اے سے مندر کی عمارت کے سائٹ پلان کی منظوری لے کر ہی تعمیر شروع کرے گی۔

لال چند کا کہنا تھا: ہم صرف پلاٹ کے گرد چار دیواری کھڑی کر رہے ہیں کہ اس پر کوئی قبضہ نہ کر لے۔

یاد رہے کہ ہندو پنچایت نے فنڈز کے بغیر ہی شری کرشن مندر کی تعمیر کا افتتاح کیا تھا۔

دوسری طرف سی ڈی اے کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مندر کی تعمیر سے متعلق اٹھنے والے تنازع کی وجہ سے چار دیواری کی تعمیر روکی گئی ہے۔

تنازع ہے کیا؟

شری کرشن مندر کی چار دیواری کی تعمیر کا کام تقریبا دو ہفتہ پہلے شروع کیا گیا تھا۔

میڈیا میں اسلام آباد کے پہلے مندر کی تعمیر سے متعلق خبریں آنے کے بعد بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔

تاہم حالات نے سنجیدہ موڑ س وقت لیا جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری منظور الہی نے اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔

چوہدری منظور الہی نے اسلام آباد میں غیر مذہب کے عبادت خانہ کی تعمیر کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پہلے سے موجود پرانے مندروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔

اس کے بعد تو گویا مندر کی تعمیر کے مخالف بیانات کا تانتا ہی بندھ گیا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں ایک بھرپور مہم کیا آغاز ہوا۔ جس میں تحریک انصاف حکومت کی مندر کی تعمیر کی اجازت اور فندز کی فراہمی کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم وفاقی وزیر مذہبی امور اور مذہبی ہم آہنگی نور الحق قادری نے اس تنازع سے متعلق ایک ٹویٹ میں کہا: اسلامی تاریخ، تعلیمات اور پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ضامن ہیں۔۔۔۔ 50 لاکھ ہندو بھی پاکستانی ہیں۔

اسلام آباد میں ہندو اور مندر

ساٹھ کی دہائی میں تعمیر اور دارالحکومت قرار دئیے جانے والے شہر اقتدار اسلام آباد میں تقریبا تین ہزار ہندو خاندان آباد ہیں۔ جو یہاں کے مستقل رہائشی ہیں۔

اسلام آباد میں ہندو پنچایت کے سابق صدر چوہدری مہیش کمار کے مطابق: مستقل رہنے والوں کے علاوہ بھی ہندوؤں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو یہاں عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ ان میں طالب علم اور کاروباری لوگ شامل ہیں۔

لال چن مالھی کے مطابق: گذشتہ دو دہائیوں کے دوران اسلام آباد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم اتنی بڑی تعداد میں ہندوؤں کی موجودگی کے باوجود اسلام آباد میں کوئی فعال مندر موجود نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہندو پنچایت کے مطالبہ اور قومی کمیشن برائے حقوق انسانی کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے 2017میں مندر کی عمارت کی تعمیر کے لیے چار کنال کا پلاٹ مختص کیا۔ تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تعمیر کا کام ابھی تک شروع نہ ہو سکا۔

اسلام آباد شہر میں قیام پاکستان سے قبل کے کئی مندروں کی عمارتیں موجود ہیں۔ جن میں راول جھیل اور سید پور گاوں میں واقع مندر قابل ذکر ہیں۔

تاہم ان پرانے مندروں کی عمارتیں بہت چھوٹی اور ناقابل استعمال ہیں۔

لال چند مالھی کا کہنا تھا: پرانے مندروں کی عمارتوں میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ اور نہ وہ اس قابل ہیں۔ ان پر پیسہ لگانا فضول تھا۔ اسی لیے نئے مندر کی تعمیر بہت ضروری ہے۔

ہندو پنچایت اسلام آباد کے سابق صدر پریتم داس نے کہا کہ اسلام آباد میں رہنے والے ہندو عموما اپنے گھروں پر ہی عبادات کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور مخصوص مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں راولپنڈی جانا پڑتا ہے۔

مکیش کمار کا کہنا تھا کہ نئے شری کرشنا مندر میں عبادت کے علاوہ کمیونٹی ہال، شمشان گھاٹ اور دوسری سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان