'ہم نے جو تھپڑ اب تک کھائے، کوشش ہے وہ کوئی اور نہ کھائے'

نسرین اور رضیہ نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھر کی بیٹھک میں ایک سلائی سینٹر کھولا ہے، تاکہ مستحق خواتین ہنر سیکھ کر چند روپے کما سکیں اور خود کو گھریلو تشدد سے بچا سکیں۔

اس  سلائی سینٹر میں 10 لڑکیاں صبح اور آٹھ شام کے وقت آتی ہیں (تصویر:  نسرین)

'اس لاک ڈاؤن کے دوران مجھے عورت کی اصل حقیقت کا پتا چلا۔ اگرعورتیں پیسہ کما کر گھر کے خرچے میں حصہ نہیں ڈالتیں تو یہ بیچاری عورتیں کسی کام کی نہیں۔ خود کماؤ اور کھلاؤ تو اچھا، نہ کماؤ تو برا، پھر مار بھی کھاؤ اور عزت نفس بھی گنواؤ۔'

یہ کہنا تھا کہ پشاور کے علاقے حیات آباد کی نسرین (فرضی نام) کا، جوانڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تھوڑی جذباتی ہوگئیں۔ نسرین نے اپنی بہن رضیہ (فرضی نام) کے ساتھ مل کر لاک ڈاؤن کے دوران مئی میں اپنے گھر کی بیٹھک میں ایک سلائی سینٹر کھولا ہے، جہاں وہ علاقے کی غریب، یتیم یا بیوہ خواتین کو سلائی کا کام سکھاتی ہیں تاکہ وہ یہ ہنر سیکھ کر  کرونا کے دنوں میں گھر سے نکلے بغیر چند روپے کما سکیں اور خود کوجسمانی اور ذہنی گھریلو تشدد سے بچا سکیں۔

نسرین اور رضیہ خود بھی گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔ نسرین نے اپنی آپ بیتی کچھ یوں سنائی، 'ہمارے والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ دادا دادی نے بڑا کیا مگر وہ بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکے، پھر میں نے اور رضیہ نے ایک دوسرے کو سہارادیا۔ بھائی ہیں مگر وہ بھی غریب ہیں، سہارا نہیں بن سکتے تھے تو ہم دونوں اپنا بوجھ خود اٹھاتی ہیں۔'

نسرین شادی شدہ  اور دو بچوں کی ماں ہیں جبکہ رضیہ کی شادی ابھی نہیں ہوئی اور وہ ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ نسرین نے بتایا: 'لاک ڈاؤن سے پہلے رضیہ ایک نجی سکول میں نوکری کر رہی تھیں۔ وہ بھائیوں کے ساتھ رہتی تھیں لیکن وہاں حالات ایسے تھے کہ آپ کمائیں اور ہم کھائیں۔

'لاک ڈاؤن ہوا تو سکول بند ہوگئے اور رضیہ کی نوکری چلی گئی۔ مسئلہ پیسوں کا بنا کیونکہ رضیہ کو آخری تنخواہ نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے وہاں گھر میں جھگڑا ہو گیا۔ میرے بھائی اور بھابھیوں نے رضیہ پر جسمانی تشدد کیا اور انہیں ڈرایا دھمکایا، یہاں تک کہ مجھے رضیہ کو وہاں سے نکالنے کے لیے پولیس سے مدد لینی پڑی۔

'مجھے ڈر تھا کہ رضیہ وہاں رہیں تو انہیں مزید مارا جائے گا۔ پولیس کے سامنے بھائیوں نے کہہ دیا کہ اب ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی لیے میں رضیہ کو اپنے ساتھ گھر لے آئی۔'

نسرین نے خود پر کیا بیتی وہ بھی بیان کیا، 'میں پہلے گاؤں میں اپنے سسرال کے ساتھ رہتی تھی تب مسئلہ نہیں ہوا۔ میرے شوہر سرکاری ڈرائیور ہیں وہ کماتے تھے اور میں گھر میں دو بچے پال رہی تھی۔ گزارا چل رہا تھا، لیکن جب ہم سسرال سے الگ ہوئے تو میرے شوہر نے کہا کہ میں کچھ کام کروں، میں کام کرنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ بچے چھوٹے تھے انہیں کون پالتا؟ مگر شوہر نے کہا کہ نہیں تم کام کرو اور پھر انہوں نے روزانہ مجھے طعنے دینے شروع کر دیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'وہ مجھے گھر کے خرچے کے لیے 100 روپے بھی دیتے تو 100 مرتبہ اس کا حساب ہوتا۔ ہماری بہت لڑائیاں ہوتیں اور میں نے بہت بے عزتی سہی۔ آخر کار میں نے  پولیو ویکسینیٹر کے طور پر درخواست دی اور مجھے نوکری مل گئی، میری تنخواہ 18 ہزار روپے ہے، جس سے کچھ گزارا ہوا۔

'میں گھر کا سارا کام کرتی ہوں، بچوں کو سنبھالتی ہوں، پولیو ویکسینیٹر کا کام بھی کرتی ہوں اور یہاں میں اور رضیہ بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور اب سلائی سکھانے کا کام بھی کر رہے ہیں۔'

کرونا کی وبا پھیلی تو لاک ڈاؤن کے دوران نسرین کے علاقے میں کافی مسئلہ ہوا۔ 'لاک ڈاؤن کے دوران کوئی حکومتی اہلکار ہماری مدد کو نہیں آیا ، نہ کوئی راشن ملا نہ پیسے۔ میں نے علاقے کی غریب، یتیم اور بیوہ خواتین کے شناختی کارڈ اکٹھے کیے اور علاقہ ناظم کے پاس گئی مگر کچھ مدد نہیں ہوئی، پھر کچھ این جی اوز سے بھی رابطہ کیا مگر وہاں سے ہونے والی امداد بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔

'اسی دوران ایک این جی او کے دفتر میں میری ملاقات سماجی کارکن سدرہ ہمایوں سے ہوئی، جنہوں نے خود اپنی جیب سے ہمارے علاقے میں راشن کا بندوبست کیا۔ سدرہ نے مجھے یہ صلاح دی کہ مجھے خود کچھ کرنا چاہیے۔ بس پھر مئی کے دوسرے ہفتے میں میں نے اپنے ہی گھر کی بیٹھک میں ایک سلا ئی سینٹر کھول لیا۔'

نسرین کہتی ہیں کہ یہ بات صرف کہنے کی حد تک ہے کہ پشاور میں خواتین کو گھروں پر رکھا جاتا ہے اور ان سے کام نہیں کروایا جاتا۔ 'یہاں کے مختلف علاقوں کی غریب خواتین کاموں میں مصروف رہتی ہیں، جس میں وہ لوگوں کے گھروں میں صاف صفائی یا ادویات، ماچسں وغیرہ بنانے کی فیکٹریوں میں نوکری کرتی ہیں۔

'آج کل فیکٹریاں بھی بند ہیں جبکہ امیر گھروں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ نوکر ہے اس سے کرونا لگ جائے گا، یا تو مستقل ہمارے گھر پر رہو اگر گھر سے باہر جانا ہے تو پھر چھٹی کرو۔ اب گھر کے خرچے میں حصہ تو ڈالنا ہے اور جب ایسا نہیں ہوتاتو گھر پر مار پڑتی ہے۔'

 یہی حالات دیکھ کر نسرین نے سلائی سینٹر کی ابتدا کی۔ 'میں نے یہ سوچا کہ یہ حال ہے تو میں کیوں نہ ایسا کام شروع کروں جس سے خواتین گھرمیں بیٹھ کر ہی اپنے لیے کچھ کر سکیں۔ جب یہ لوگ سلائی سیکھ جاتی ہیں تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے گھر میں بیٹھ کر پانچ سے چھ سو روپے فی سوٹ کما سکتی ہیں۔

'ایک دن میں تین سوٹ بھی سی لیں توروزانہ 1500 روپے  آرام سے کما سکتی ہیں۔ میرے خیال میں خواتین کے پاس کسی اور چیز کے لیے پیسے ہوں نہ ہوں کپڑوں کے لیے بہت پیسے ہوتے ہیں۔'

نسرین نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس سات سلائی مشینیں ہیں جن میں سے کچھ کو خریدنےکے لیے انہیں سدرہ نے پیسے دیے، کچھ ان کے اپنے پاس پیسے تھے جبکہ ان کی کچھ  مدد ایک دو اور جاننے والوں نے کی۔

'میرے پاس 10 لڑکیاں صبح اور آٹھ شام کے وقت آتی ہیں، انہیں دو سے تین گھنٹے کی سلائی کی تربیت دی جاتی ہے۔ چونکہ سلائی مشینیں کم اور سیکھنے والے زیادہ ہیں تو ہم باری باری انہیں مشینوں پر کام سکھاتے ہیں۔

'اس دوران باقی خواتین کٹنگ اور ہاتھ سے سلائی کی تربیت لیتی ہیں۔ میرے پاس سلائی سیکھنے والی خواتین کی عمریں 12 سے 50 سال کے درمیان ہیں جبکہ کچھ یتیم اور بیوہ بچیاں اور خواتین بھی ہیں۔ وہ خواتین جن کے مالی حالات قدرے بہتر ہیں ان سے ہم مہینے کے 500 روپے فیس لیتے ہیں۔ ان پیسوں سے ہم دھاگے، سوئیاں، بکرم، بٹن وغیرہ منگواتے ہیں۔'

نسرین نے بتایا کہ جو لڑکیاں تربیت لینے کے لیے آتی ہیں وہ کبھی کبھار گھر سے کوئی کپڑا یا دوپٹہ لے آتی ہیں ورنہ ان کے گھر کے سامنے کباڑیے کی دکان ہے جہاں سے وہ روزانہ 50 روپے کے ردی اخبار خریدتی ہیں جن پر کٹنگ وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ 'اب تک چھ خواتین تربیت لے کر جا چکی ہیں لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیشتر سلائی کی تربیت لینے والی خواتین کے پاس سلائی مشین خریدنے کے پیسے بھی نہیں۔

'ایک نئی سلائی مشین پانچ ساڑھے پانچ ہزار روپے جبکہ پرانی مشین تین ہزار روپے تک مل جاتی ہے۔ ہمارے پاس بھی اس وقت پرانی مشینیں ہی ہیں۔ دل بہت دکھتا ہے کہ کاش ہمارے اتنے وسائل ہوتے کہ یہاں سے فارغ ہونے پر ہم انہیں ایک ایک سلائی مشین ساتھ دے کر بھیجتے تاکہ وہ گھر میں اپنا کام شروع کر سکیں۔ ورنہ وہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تربیت لے کر بھی انتظار میں ہی بیٹھی رہیں گی کہ مشین ہو تو کام شروع کریں۔'

نسرین کے خیال میں پشاور میں لاک ڈاؤن کے بعد خواتین پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے، 'کیونکہ مرد گھر پر رہتے ہیں اور کام نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی اضطراب کا شکار ہیں، جو مرد عادی ہیں کہ عورت بھی کام کرے  اور گھر کا خرچہ آدھا آدھا ہو وہ بھی اس وقت ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خواتین ان کے ہاتھوں ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں۔ '

نسرین کہتی ہیں 'ہمارے ہاں عورت کمزور بنے تو سارا معاشرہ اس کے سر پر چڑھ جاتا ہے۔ حکومت تو کہتی ہے کہ عورت آزاد ہے، آزادی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ عورت کو آزادی نہیں کچھ ایسا چاہیے کہ وہ آرام سے اپنا کام کر سکے، وہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں وہ اپنا ہنر سیکھیں، اس کے لیے خواتین کو مدد کی ضرورت ہے باتوں سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین ہنر سیکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوں تاکہ جو تھپڑ بچپن سے لے کر اب تک میں نے اور میری بہن نے کھائے وہ کوئی اور لڑکی نہ کھائے۔'

سماجی کارکن سدرہ ہمایوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ مارچ میں انہوں نے اپنی ایک ذاتی تحقیق کے سلسلے میں پشاور میں 10، 10 خواتین کے دو گروپس کے ساتھ فوکس گروپ ڈسکشن کی جس میں انہوں نے گھریلو تشدد کے حوالے سے ان سے کچھ سوالات پوچھے۔

سدرہ کہتی ہیں، 'ان گروپس میں سبھی خواتین کا کہنا تھا کہ گھروں میں سکون نہیں، ہم مار کھاتے ہیں، ہر وقت ہماری بےعزتی ہو رہی ہوتی ہے اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم ایک بوجھ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زندہ ہی نہیں رہنا چاہتیں۔'  

سدرہ کے خیال میں اس سب کی بڑی وجہ وہاں کا کلچر اور صنفی تشدد ہے۔ عورت اگر گھرمیں  رہ رہی ہے تو اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ وسائل کی کمی بھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ نسرین کے علاوہ ان جیسی 50 خواتین سے ملیں جن کا تعلق صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تھا۔ 'ان خواتین کے معاشی اور معشرتی مسائل بہت زیادہ تھے۔ وہ اپنا کوئی کام کرنا چاہتی تھیں۔'

ان کے خیال میں کرونا وبا لوگوں کے لیے موقعے بھی لائی ہے۔ وہ لوگ جو گھروں پر بیٹھے ہیں وہ گھر پر ہی کام کر سکتے ہیں جیسے نسرین کر رہی ہیں اور یہ موقع ہمارے ملک کی کاٹیج انڈسٹری کے لیے خوش آئند ہو سکتا ہے۔

ایک سماجی کارکن ہونے کے ناطے سدرہ کم از کم 84 اخباروں کو مانیٹر کرتی ہیں۔ 'میری اس مانیٹرنگ کے مطابق صرف پنجاب میں گذشتہ تین ماہ کے لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے 50 کیس رپورٹ ہوئے۔ یہاں تک کہ مجھے خود ہر صوبے سے مدد کے لیے خواتین کی دو دو تین تین کالزآئیں۔'

سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نامی ایک سماجی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں 200 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے ہر قسم کے گھریلو تشدد کو وبا کے دنوں میں 'شیڈو پینڈیمک' کا نام دیا ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی