اہل مذہب ہی سیکیولرزم کے سہولت کار ہیں

اگر ہمارے معاشرے نے کبھی سیکیولرزم اختیار کی تو اہلِ مذہب کا شمار اس جدوجہد کے اولین نقوش میں ہو گا اور سیکیولرزم ان پر ناز کیا کرے گا۔

مذہب کے نام پر ایک کشمکش ہے اور رکنے میں نہیں آ رہی۔ مساجد کی شناخت اب دین نہیں مسالک بن چکے۔ اور کوئی ایک مسلک ایسا نہیں جس کے دینی شعور اور عقیدے پر دوسرا مسلک سوال نہ اٹھاتا ہو (فائل تصویر: اے ایف پی)

 پاکستانی معاشرہ سیکیولرزم کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ معرکہ اہل مذہب کے نام ہے اور پاکستان کو سیکیولر ریاست بنانے میں اہل مذہب کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

مورخ لکھے گا کہ اہل مذہب نے بہت محنت اور قربانیوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکیولر ریاست بنایا ورنہ یہ اتنا آسان کام نہ تھا۔ آپ کو شاید میری بات سے حیرت ہو رہی ہو، میں وضاحت کیے دیتا ہوں۔

معاشرہ کب اور کیوں سیکیولر ہوتا ہے؟ مغربی معاشرہ ان وونوں سوالات کا جواب ہے۔ وہاں خدا اور بندے کے درمیان کلیسا آ گیا تھا۔ کلیسا کی تعبیر ہی دین تھا اور اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ جس نے کلیسا سے اختلاف کیا خدا کا باغی ٹھہرا۔ یہاں تک کہ کلیسا نے سائنسی تحقیقات کو بھی مذہبی لبادہ اوڑھا دیا اور اپنے ناقص سائنسی تصورات پر ایمان لانا بھی لازم قرار دے دیا۔ سائنس کی دنیا میں جب نئی تحقیقات سامنے آئیں تو پرانے تصورات کا ابطال ہو گیا۔ کلیسا نے اسے بھی دین سے بغاوت قرار دے دیا۔ طبیعات کے ماہر برونو کو اس لیے سزائے موت دی گئی کہ وہ دنیا کے علاوہ دیگر سیاروں پر بھی زندگی کا قائل تھا۔ گیلیلیو اس لیے زیر عتاب آیا کہ وہ سورج کے گرد زمین کی گردش کا نظریہ رکھتا تھا۔

کلیسا میں لالچ بھی بہت تھا اور طاقت بھی بہت۔ خود کلیسا کے پاس دولت کے انبار تھے لیکن لوگوں کو بتایا جا رہا تھا کہ سوئی کے ناکے سے اونٹ تو گزر سکتا ہے لیکن دولت مند کبھی جنت میں نہیں جا سکتا۔ طاقت کا عالم یہ تھا کہ شہنشاہ ہنری چہارم کو کانوسا کے قلعے میں پوپ کے سامنے ننگے پاؤں پیش ہونا پڑا۔ سماج بے بس ہو گیا تھا۔ تعبیر دین کے جملہ حقوق کلیسا کے پاس تھے اور اس تعبیر کے نام پر شعور انسانی کا ابطال کیا جا رہا تھا۔ چنانچہ سماج رد عمل میں، دھیرے دھیرے سیکیولرائز ہوتا چلا گیا اور ایک وقت آیا کہ مذہب کا ان کی اجتماعی زندگی میں کوئی عمل دخل نہ رہا۔ مغرب میں مذہب اب ایک فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔

یہ تحریر خود مصنف کی زبانی سنیے

 

غور کریں تو معلوم ہو گا کہ پاکستانی سماج بھی اسی عمل سے گزر رہا ہے۔ وہاں آدمی اور خدا کے درمیان کلیسا حائل ہو گیا تھا یہاں فرد اور خدا کے درمیان اہل مذہب نے مورچہ لگا لیا ہے۔ ریاست وہاں بھی کلیسا کے آگے بے بس تھی، ریاست یہاں بھی اہل مذہب کے آگے بے بس ہے۔ جو مخمصہ اس سماج کو درپیش تھا وہی مخمصہ ہمارے معاشرے کے دامن سے بھی لپٹ چکا ہے۔ انجام مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟

مذہب خیر خواہی کا نام تھا، ہمارے ہاں یہ خیر خواہی اب نظر نہیں آ رہی۔ مذہب کے نام پر ایک کشمکش ہے اور رکنے میں نہیں آ رہی۔ مساجد کی شناخت اب دین نہیں مسالک بن چکے۔ اور کوئی ایک مسلک ایسا نہیں جس کے دینی شعور اور عقیدے پر دوسرا مسلک سوال نہ اٹھاتا ہو۔ انہیں صرف چاند چڑھانے پر اصرار نہیں، ان کے نزدیک قربانی کے جانور کی آن لائن خریداری بھی ناجائز ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جدید دور میں شعور انسانی سوال اٹھاتا ہے لیکن عالم یہ ہے کہ جو جس درجے میں اختلاف کرے گا ان کی دین دوستی پر سوال اٹھ کھڑا ہو گا۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ مذہبی مباحث سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میں تو خود کو محض مسلمان کہتا ہوں کہ یہی میری شناخت ہے اور یہی مجھے کافی ہے لیکن جو دوست خود کو ’اسلامسٹ‘ کہتے ہیں وہ بھی اب مذہبی مباحث کو بھاری پتھر کی طرح چوم کر چھوڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس جنون کے عالم میں معقول بات کی ہی نہیں جا سکتی۔ اہل صحافت خیر خواہی میں ایک دوسرے کو سمجھاتے ہیں کہ لکھتے اور بولتے وقت مذہبی معاملات سے خود کو دور رکھو ورنہ کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ یہ کیا ہے؟ یہ سیکیولرزم کی دستک ہے۔

معلوم یہ ہوتا ہے یہاں اسلام کا صرف نام استعمال کیا گیا۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب دین مکمل ہو چکا تھا تو پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ کیسے قرار دیا گیا؟ تجربات تو وہاں ہوتے ہیں جہاں کوئی چیز یقین کے درجے میں نہ ہو۔

بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کسی نے اسلام نافذ کرنے کا نہیں سوچا، سب کی توجہ تجربے کرنے پر ہی رہی اور اہل مذہب ہر تجربے میں برابر کے شریک رہے اور فیض یاب ہوئے۔ بھٹو صاحب کے اپنے تجربات تھے اور ضیاء الحق صاحب کے اپنے۔ ضیاء صاحب کا پلڑا اس لیے بھاری رہا کہ ان کے تجربہ گاہ میں یہ اصول طے ہوا کہ اگر آپ کو اسلام چاہیے تو پھر قبلہ ضیاء الحق صاحب اگلے پانچ سال کے لیے صدر محترم ہوں گے۔

معاملات کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی بجائے اسلام کو اپنے مطالبات کے لیے استعمال کیا گیا۔ کبھی سیاست کے لیے، کبھی تزویراتی امور میں۔ بھٹو سے جان چھڑانی ہو تو تحریک نظام مصطفیٰ شروع ہو جاتی ہے، بے نظیر کا راستہ روکنا ہو تو عورت کی حکمرانی نا جائز ہو جاتی ہے اور نواز شریف کو لانا ہو تو آئی جے آئی اور مہران بنک کے سائے میں شریعت کی تحریک برپا ہو جاتی ہے۔ نواز شریف کو ہٹانا ہو تو طاہر القادری کفن پوش دستے لے کر اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں۔ سوویت یونین کے ساتھ الجھا جاتا ہے تو پرائیویٹ جہاد کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں اور سادہ لوح نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ روس تو لادین ہے اور امریکی تو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے لادین کے مقابلے میں اہل کتاب سے راو ہ رسم رکھنی چاہیے۔ پھر وقت بدلتا ہے تو تعبیر دین بھی بدل جاتی ہے۔

اجتماعی زندگی میں دین کے نفاذ کی بجائے اہل مذہب کو دین کے نام اشتراک اقتدار کی راہ دکھائی گئی۔ اب چاند بھی وہی چڑھاتے ہیں اور کشمکش اقتدار کے باقاعدہ حریف ہیں۔ اقتدار کی کشمکش میں اب خیر خواہی کیسی؟ چنانچہ ہر دوسرا حریف دین کا دشمن ہے اور تحفظ اسلام کانفرنس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی بات حکومت نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لی اور یہ فورم مختلف مسالک کے اہل مذہب کو ’ایڈ جسٹ‘ کرنے کا ایک ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔

حج کے پیسوں پر وزارت مذہبی امور سود لیتی ہے اور سود کی یہ رقم دوران حج حجاج کو سہولیات دینے پر خرچ فرمائی جاتی ہے۔ مذہب کے نام پر یہاں خیر خواہی کم ہوئی ہے اور لوگوں کو استحصال زیادہ ہوا ہے۔ مذہب سے زیادہ مذہب کارڈ سے لوگوں کو رغبت ہے۔ نواز شریف یہاں شریعت بل لے آتے ہیں اور عمران خان ریاست مدینہ بنانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ اہل مذہب سے جو ختلاف کرے یہودی ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے یا ”سو یہودی“کے وزن پر اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔

کچھ عجب نہیں ان حالات میں سماج سیکیولرزم ہی کو اختیار کر لے۔ ایسا ہوا تو اہل مذہب کا شمار سیکیولرزم کی جدوجہد کے اولین نقوش میں ہو گا اور سیکیولرزم ان پر ناز کیا کرے گا۔

------

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ