ہمیں خطرہ استادوں سے ہے یا کم علمی سے؟

پرویز ہود بھائی، محمد حنیف اور عمار جان سماجی تحریکوں میں سرگرم رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں۔

ایک اچھی یونیورسٹی کے لیے ضروری ہے کہ استاد مختلف نظریات رکھنے والے ہوں ناکہ سب ایک ہی نظریہ کے ماننے والے۔

سقراط انسانی تاریخ کا ایک اہم استاد گزرا ہے۔ اس کے شاگردوں میں افلاطون بھی شامل تھا جس کا شاگرد ارسطو بھی بہت مشہور ہوا۔

سقراط پر اس کے شہر کے لوگوں نے الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کے ذہن کو پراگندہ کر رہا ہے اور انہیں اپنے مذہب سے انحراف اور شہر کے حاکموں کے خلاف تحریک پر اکسا رہا ہے۔

جب مقدمہ چلا تو سقراط کو موقع دیا گیا کہ اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے اور آئندہ ایسا کام نہ کرنے کا وعدہ کرے تو اس کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔ اس کے شاگردوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ  شہر سے بھاگ کر اپنی جان بچائے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ بلاآخر شہری عدالت سے مجرم ٹھرا اور سزا کے طور پر زہر کا پیالہ پی کر اس دنیا سے رخصت ہوا۔

ہم اکثر سینہ پھلا کر کہتے ہیں کہ ہم سنت رسول پر عمل کرنے والے لوگ ہیں مگر حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔ حضور نے ایک غزوہ میں جب کفار قریش کو قیدی بنایا تو ان کی رہائی کے لیے شرط لگائی کہ ہر قیدی 10 مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے۔

انہیں یہ فکر نہیں تھی کہ یہ کفار مسلمانوں کو ذہنی طور پر اپنے مذہب سے دور لے جائیں گے بلکہ ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کی اُمّہ علم سے مالا مال ہو جو اسی وقت ممکن ہے جب انہیں لکھنا پڑھنا آتا ہوگا۔

امریکہ کی کیلی فورنیا ریاست کی ایک یونیورسٹی کی استاد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک انتہائی سخت بیان دیا جو کسی مہذب شخص کے لیے بھی تکلیف دہ تھا۔ ایک شور اٹھا اور لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس استاد کو برطرف کر دیا جائے، مگر یونیورسٹی نے یہ مطالبہ ماننے سے مکمل انکار کر دیا اور بیان دیا کہ کسی بھی پروفیسر کو یہ مکمل اختیار ہے کہ جو چاہے سیاسی بیان دے، اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے اساتذہ کے بیانات پر پابندی نہیں لگا سکتے۔

میں نے یہ تین مثالیں آپ کو انسانی تاریخ کے مختلف ادوار سے دیں ہیں۔ جن معاشروں میں اساتذہ کو مکمل آزادی دی جاتی ہے وہی معاشرے دنیا میں اپنا مقام بھی پیدا کرتے ہیں اور ان کی روایات یاد بھی رکھی جاتی ہیں۔ ہمیں اساتذہ کی تعیناتی میں بہت احتیاط کرنی چاہیے مگر ایک دفعہ جب انہیں یہ ذمہ داری دی جائے تو ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کی جان، مال محفوظ ہو اور نظریات کی مکمل آزادی ہو۔

کسی اعلیٰ تعلیم کے استاد کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ کلاس روم میں جائے اور طالب علموں کو رٹا لگوا کر گھر چلا جائے۔ ایک استاد اور شاگر کے درمیان ایک روحانی رشتہ بھی ہوتا ہے جس کی آبیاری کوئی آسان کام نہیں۔ ایک استاد کو اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ ظلم، استحصال اور ناانصافی کے خلاف آنکھیں بند نہیں کرسکتا بلکہ اتنی ہمت رکھتا ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے چاہے اس عمل میں کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے۔

ایک اچھی یونیورسٹی میں یہ بھی ضروری ہے کہ استاد مختلف نظریات رکھنے والے ہوں ناکہ سب ایک ہی نظریہ کے ماننے والے ہوں۔ نظریات پر بحث سے ہی معاشرے کے مسائل کے حل نکلتے ہیں، نئی ایجادات ہوتی ہیں اور ملک ترقی کرتا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی ہم عصر تھے مگر ان میں نظریاتی فرق تھا جس کی وجہ سے دو مختلف نظام سامنے آئے۔ اسی طرح امام شافعی اور امام حنبل ایک ہی دور میں تھے مگر ان میں بھی اختلاف تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے معاشرے میں اختلاف رائے کو بڑوں کی بےعزتی کرنے سے جوڑا جاتا ہے جو ایک غلط روایت ہے۔ باہمی عزت کرتے ہوئے اختلاف رائے ہی علم کو آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ سوال کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ شاگرد میں علم کی تڑپ ہے اور وہ اسے گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے جبکہ ہمارا رویہ یہ ہے کہ جو شاگر زیادہ سوال کرے اسے ہم کوڑ مغز سمجھتے ہیں۔ کم علم پروفیسروں کا رویہ یہ ہے کہ سوالات کو شاگردوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور نتائج میں ان کے نمبر سزا کے طور پر کاٹے جاتے ہیں۔

پاکستان کا معاشرہ اس وقت پستی کی طرف گامزن ہے جس کی ایک وجہ استادوں پر پابندیاں اور قدغن بھی ہے۔ چند دنوں سے اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں کہ مختلف پروفیسروں پر الزامات لگائے گئے اور انہیں اپنے رزق حلال سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پرویز ہود بھائی، محمد حنیف اور عمار جان سماجی تحریکوں میں سرگرم رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں۔

دو کو پچھلے دنوں ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں اپنی نوکریاں چھوڑنی پڑیں جبکہ تیسرے کو کراچی کی ایک یونیورسٹی میں پڑھانے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح سندھ اور جنوبی پنجاب کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ پر توہین کے الزامات کی خبریں بھی ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ ایک طرف تو ہم آزادانہ رائے رکھنے والے اور قابل اساتذہ کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں اور دوسری طرف ایسے اساتذہ کو پروفیسر بناتے ہیں جن کی ڈگریاں تک مشکوک ہیں یا وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے نہیں کرتے۔

اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ان اساتذہ کو عزت اور احترام دینا ہوگا جو علم کے ساتھ ساتھ اپنے شاگردوں کے کردار کی بھی تعمیر کرتے ہیں۔ ارسطو نے زہر کا پیالہ پیا مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ شہر کو نقصان اس نے نہیں بلکہ ان لوگوں نے پہنچایا جو ذہنوں پر قدغن لگانا چاہتے تھے۔ یونانی سلطنت اس کے بعد کبھی طاقت ور نہ ہو سکی۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کی پروفیسر کے بیان نے امریکہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا صدر ٹرمپ کی جہالت اور تکبر نے پہنچایا۔ پاکستان اور اسلام کو خطرہ کم علمی اور جہالت سے ہے، ان استادوں سے نہیں جن کے نظریات سے ہمیں اختلاف ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ