متحدہ عرب امارات مریخ پر مشن بھیجنے والا پہلا عرب ملک

متحدہ عرب امارات سے پہلے امریکہ، بھارت، سابق سوویت یونین اور یورپی سپیس ایجنسی مریخ کے لیے مشن بھیج چکے ہیں جبکہ چین بھی اپنا پہلا مریخ مشن روانہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

گذشتہ سال حضاالمنصوری وہ پہلے اماراتی شہری تھے جو خلا کے سفر پر گئے، ان کا یہ مشن آٹھ دن پر محیط تھا(اے ایف پی)

جوہری بجلی پروگرام اور خلا میں انسان بھیجنے کے بعد متحدہ عرب امارات کی نظریں اب مریخ پر ہیں۔

متحدہ عرب امارات سے پہلے امریکہ، بھارت، سابق سوویت یونین اور یورپی سپیس ایجنسی مریخ کے لیے مشن بھیج چکے ہیں جبکہ چین بھی رواں مہینے کے آخر تک اپنا پہلا مریخ مشن روانہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اپنے اتحاد کی 50 ویں سالگرہ پر متحدہ عرب امارات پرامید ہے کہ وہ 15 جولائی کو جاپان سے بھیجے جانے والے راکٹ سے اپنا ہدف حاصل کر لے گا۔ اس راکٹ پر کوئی انسان سوار نہیں ہو گا۔

دبئی اس سے پہلے 50 کروڑ درہم کی لاگت سے ایک خیالی مارشین سٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے جو اس کے صحرا کو 'سائنس سٹی' میں تبدیل کر دے گا۔

گذشتہ سال حضاالمنصوری وہ پہلے اماراتی شہری تھے جو خلا کے سفر پر گئے، ان کا یہ مشن آٹھ دن پر محیط تھا۔

دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے منگل کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: 'ہمارے اجداد سفر کے دوران ستاروں کا تعاقب کر کے فتوحات حاصل کرتے تھے اور ہماری آنے والی نسلیں ان پر اپنا مستقبل تعمیر کریں گی۔'

یو اے ای کی سپیس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل محمد الاحبابی کہتے ہیں: 'یو اے ای جان چکا ہے کہ خلا ہماری ترقی اور استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔'

 مریخ مشنز کے 60 سال

گذشتہ 60 سال میں تقریباً 40 مریخ مشن روانہ کیے جا چکے ہیں جن میں سے نصف کامیاب رہے۔ یہاں ہم مشنز کی مختصر تفصیلات درج کر رہے ہیں۔

مریخ پر پہلا تحقیقی مشن سابق سوویت یونین نے 1960 میں روانہ کیا لیکن یہ اس کے بعد بھیجے جانے والے کئی مشنز کی طرح ناکام رہا۔ 1964 میں بھیجا جانے والا مشن وہ پہلا موقع تھا جب مریخ کا قریب سے مشاہدہ کیا گیا لیکن اس مشن میں کوئی تحقیق نہ کی جا سکی۔

15 جولائی، 1965 کو امریکی خلائی جہاز میرین چار نے اس وقت تاریخ رقم کر دی جب یہ سرخ سیارے کے اوپر سے گزرا اور اس کی بھیجی جانے والی 20 تصاویر میں سرخ سیارے کی صحرا نما سطح کو دیکھا گیا۔ جس کے بعد میرین چھ اور سات نے بھی 1969 میں درجنوں تصاویر حاصل کیں جبکہ میرین نو نے 1971 میں مریخ کے گرد چکر لگا کر پہلی بار وہاں موجود آتش فشاں پہاڑوں اور دریا کی تفصیلی تصاویر فراہم کیں۔

دسمبر 1971 میں سابق سوویت یونین کا خلائی جہاز مارس تھری وہ پہلا سپیس کرافٹ تھا جس نے مریخ پر سافٹ لینڈنگ کی لیکن 20 سکینڈز بعد اس کا زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

جولائی 1976 میں بھیجا جانے والا خلائی جہاز وائیکنگ وہ پہلا خلائی جہاز تھا جس نے مریخ پر کامیابی سے لینڈ کرتے ہوئے اپنا مشن مکمل کیا جس کے بعد ستمبر میں وائیکنگ ٹو کو روانہ کیا گیا۔ ان دونوں مشنز میں 50 ہزار سے زائد تصاویر پر مبنی مریخ پر زندگی نہ ہونے کے شواہد حاصل کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1990 کی دہائی سے مریخ کی جانب دوبارہ توجہ دی جا رہی ہے اور اب تک سات مشنز ناکام ہو چکے ہیں لیکن امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1997 میں دو کامیابیاں حاصل کیں، جن میں جولائی میں مریخ پر بھیجا جانے والا مارس پاتھ فائنڈر اور ستمبر میں بھیجے جانے والا مارس گلوبل سرویئر شامل ہیں۔

یہ دونوں مشینز مریخ سے متعلق معلومات کے حصول اور وہاں موجود معدنیات کی تلاش میں کامیاب رہے۔ دسمبر 2003 میں یورپی سپیس ایجنسی کا بھیجا جانے والا تحقیقی مشن ابھی تک فعال ہے جبکہ منی لینڈر بیگل ٹو نے سیارے پر زندگی کے آثار سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

امریکہ کے جیولوجیکل روبوٹس سپرٹ اور اوپرچیونٹی 2004 سے 2010 اور 2010 سے 2018 کے درمیان کامیابی سے اپنے مشن مکمل کر چکے ہیں۔ اوپرچیونٹی نے مریخ پر اب تک طویل ترین 45 کلو میٹر کا سفر کرتے ہوئے دو لاکھ سے زائد تصاویر حاصل کیں۔ 2012 میں بھیجے جانے والا روبوٹ کیوروسٹی مریخ پر موجود وہ واحد گاڑی ہے جو اب تک فعال ہے۔

مئی 2008 میں امریکی خلائی گاڑی فینکس نے مریخ پر منجمد پانی کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ بھارت بھی ستمبر 2014 میں کامیابی سے مریخ کے مدار میں تحقیقی سیارہ بھیج چکا ہے۔

روسی یورپین مشن ایگزومارس بھی رواں سال میں مریخ پر کھدائی کے لیے مشن روانہ کرنے کی تیاری کر رہے تھا جسے کووڈ 19 کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تکنیکی مشکلات کی وجہ سے 2022 تک موخر کر دیا گیا ہے۔ تاہم رواں ماہ جولائی میں مریخ کی جانب روانہ کیے جانے والے تین مشنز کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں وہ پہلا ملک ہو گا جو مریخ کی جانب مشن روانہ کرے گا جب کہ چین بھی اپنے مریخ مشن تیانوین ون اور امریکہ اگلے مشن 'پرزروینس' کی تیاری کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق