ہمارا ماضی، حال، مستقبل

طاقت کے اس کھیل میں دوست یار کوئی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو وہ جو مکمل طور پر راز و نیاز کے جالے میں خود بھی بری طرح پھنسا ہوا ہو۔

یاد ماضی عذاب تو ہے مگر مضبوط حافظہ اور مفصل نوٹس ایک صحافیانہ نعمت سے کم نہیں۔

آرمی چیف بننے کے بعد جنرل پرویز مشرف کچھ عرصے تک نواز برادران کے سب سے بڑے مداح اور مددگار بن کر کام کرتے رہے۔ راولپنڈی میں ہونے والی ایک نشست میں اپنی تمام ٹیم کے ساتھ جن میں سے اکثر بعد میں نواز شریف کا تختہ الٹنے میں پیش پیش تھے جنرل مشرف دونوں بھائیوں کی ایسے وکالت کر رہے تھے کہ جیسے مریم اورنگزیب  ہوں۔ انہوں نے اپنے خیر اندیش ہونے کے تمام ثبوت فراہم کیے۔

سید طلعت حسین کا یہ کالم آپ ان کی آواز میں بھی سن سکتے ہیں:

 

میرے اس سوال سے تلملا اٹھے کہ فوج کو کیوں نہروں کی صفائیوں اور واپڈا کے بلوں کو اکٹھا کرنے پر متعین کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ کراچی میں کام کرنے والی فوجی عدالتوں کے ذریعے ایک متوازی نظام بنا کر اصل مسئلے کے حل کو کیوں موخر کیا گیا ہے۔ فرمانے لگے کہ سویلین حکومت کے احکام بجا لانا ان کا آئینی فریضہ ہے اور موجودہ قیادت بالخصوص شہباز شریف ایسے وژن کے تحت کام کر رہی ہے جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان سے پہلے ہٹائے گئے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے بہتر فیصلہ سازی کے لیے قومی سلامتی کے فورم کی بات کی تھی تو انہوں نے اپنے روایتی انداز میں جنرل کرامت کی نا سمجھی کو تمسخرانہ انداز سے رد کر دیا ۔ کہا ملک میں آئینی فرائض کے تحت صرف اور صرف سویلین حکومت ہی قومی سلامتی کے معاملات پر حتمی فیصلے کر سکتی ہے ۔ بولے فوج پر فرض ہے کہ وہ چاہے بھل صفائی ہو یا بجلی کے بلوں کی وصولی تمام قومی پالیسیوں میں حکومت کی معاونت کرے۔

 پھر چند ماہ بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا وہ حصہ ہے جس کے عینی شاہدین اس قوم کے تمام شہری ہیں۔ جنرل مشرف نے معاونت کو مخاصمت میں بدلا اور نواز شریف کے ’پھٹے چک‘ کر اسلام آباد کو جاہ و جلال سے ایسے فتح کیا جیسے یہ سری نگر اور وہ صلاح الدین ایوبی ہوں۔

بھل صفائی کرتے کرتے جنرل مشرف کو جمہوریت کو صاف کرنے کا خیال کیسے آیا؟ اس وقت کے حالات و واقعات کو یاد کریں تو معلوم ہو گا کہ جنرل صاحب نے اس موقع کے لیے پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی۔ ’جہاز کے اغوا‘ کا معاملہ تو بہانہ بنا۔ جس سبک رفتاری  کے ساتھ ان کی کور ٹیم نے دھمیال کیمپ سے پنڈی اور پنڈی سے دارالحکومت کی طرف مارچ کیا اور جس ذہانت سے کراچی ائرپورٹ پر معاملات پر قابو پایا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام کاغذی کارروائیاں پہلے سے ہی کی جا چکی تھیں ۔ بس حالات حاضرہ کو ایسے رخ  پر لے کر جانا مقصود تھا کہ جس کے بعد ایکشن کی چھوٹی سی گنجائش ہی کافی ہو۔ ایسے ہی ہوا۔

نواز شریف کے آخری گھنٹوں میں کیے جانے والے اقدامات بھونڈے اور بےاثر تھے۔ جنرل مشرف کے ساتھیوں نے ان کو چلتا کرتے وقت اپنے پیٹی بھائی جنرل ضیا الدین کو بھی دھکا دے کر پرے کر دیا۔ جنرل مشرف کی ٹیم  کا ایک ایکشن سیاسی حکومت کے خلاف تھا اور دوسرا اپنے ادارے کے ان ممبران پر جو ان کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

یہ دہری کارروائی تھی۔ اس طرح کی ہر کارروائی ایسے ہی ہوتی ہے۔ ایک اندر۔ ایک باہر۔ اگر میاں نواز شریف تاریخ کے ان اوقات میں سے کسی فیصلے کو دوبارہ سے لکھنا چاہیں گے تو وہ جنرل مشرف کی تعیناتی کے بعد ان سے نہروں کی صفائی اور بجلی کے بلوں کی وصولی کروانے کا فیصلہ ہوگا۔ مگر پھر کچھ پتہ نہیں۔ نواز شریف نے کون سا سبق سیکھ لینا ہے۔

اگر کسی کرشمے کے ذریعے وہ طاقت میں واپس آ بھی گئے تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنے پرانے اعمال دوبارہ سے دہرائیں اور اس وجہ سے پھر منہ کی کھائیں۔ ان کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے طالب علموں کے لیے بہرحال اس مثال سے سیکھنے اور نظام کو اندر سے جاننے کے  بڑے واضح اشارے اور مواقع موجود ہیں۔ جنرل مشرف نے طاقت پر قبضے کے بعد نواز شریف کے خاندان کو سعودی معاونت کے ساتھ ملک بدر تو کیا ہی مگر انہوں نے اپنی ٹیم کے سرکردہ کھلاڑیوں کو بھی ’کھڈے لائن‘ لگا کر عملا فارغ کر دیا۔

طاقت کے اس کھیل میں دوست یارکوئی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو وہ جو مکمل طور پر راز و نیاز کے جالے میں خود بھی بری طرح پھنسا ہوا ہو۔ جنرل محمود جو جنرل مشرف کا دایاں بازو سمجھے جاتے تھے اور جن کی مونچھوں کے تاؤ سارے ملک میں مشہور تھے ’فارغ‘ کر دیے جانے کی اعلی مثال بنے۔

صرف راشد قریشی جو بعد میں جنرل بنائے گئے جنرل مشرف کے ساتھ جڑے رہے اور ابھی تک ان سے محبت کے تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ جنرل مشرف کو جہاز سے اتار کر تخت پر بٹھانے والے سب ادھر ادھر ہو گئے۔ کوئی نمازی ہوگیا ہے تو کوئی غازی۔ کوئی افغانستان میں جہاد پر چلا گیا اور کوئی ملک سے باہر۔

اس سے پتہ چلتاہے کہ سویلین نظام کا تختہ کرنے والی ٹیم اور اس کے بعد طاقت سے مستفید ہونے والی ٹیم کوئی اور ہوتی ہے۔ سربراہ ایک ہی رہتا ہے۔ اس عمل  میں ذاتی مفادات حاوی رہتے ہیں۔ ان کو بیان کرنے میں قومی سلامتی والے قاعدے سے ہر جملہ مستعار ضرور لیا جاتا ہے کیوں کہ ذاتی مفادات کو ملکی سلامتی سے نتھی کیے بغیر بات بنتی نہیں ہے۔ لہذا ہر چیز کے لیے پاکستان کے تحفظ کا جھنڈا بلند کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنرل مشرف نے یہ بہت مرتبہ کیا۔ وہ اس وقت بھی یہی کر رہے تھے  جب امریکیوں کی مدد کی تلاش میں کیمرے پر کہتے ہوئے یہ سنے گئے کہ اگر ان کو واپس لانے کا اہتمام کیا جائے تو معاملات سدھر جائیں گے۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ طاقت پر چھا جانے کا آغاز عموماً چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہوتا ہے۔ بالکل ویسے جیسے امریکی خلا باز نیل آرمسڑونگ نے چاند پر اترتے ہوئے کہا تھا کہ ایک انسان کے لیے ایک چھوٹا قدم انسانیت کے لیے بہت بڑی چھلانگ ہے۔ چونکہ ہمارے یہاں سائنسی تجربات اپنی سرزمین پر ہی کیے جاتے ہیں لہذا چھوٹے اقدامات اور ہاتھ بٹانے کا اہتمام حکومت کے ساتھ تعاون کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بعد میں ان چھوٹے اقدامات کو ایک بڑے بوٹ میں ڈال کر مضبوط قدم گاڑے جاتے ہیں۔

اب یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر مرتبہ تاریخ خود کو مکمل طور پر ایک ہی طرز پر دہرائے مگر فوجی مداخلت  کے اصولوں پر مبنی غیر رسمی کتاب جو ہر سربراہ کے سرہانے دھری رہتی ہے اس قسم کی ہدایات سے پر ہے جن پر عمل کرتے ہوئے جنرل مشرف نے خود گل چھرے اور ملک کے پر خچے اڑائے۔

ان سے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان اور ضیا الحق نے ان کے لیے جو ماڈل تیار کر گئے تھے انہوں نے زمانے اور ذاتی ضرورت کے تحت تھوڑے سے رد و بدل کے بعد ان کو جی جان سے اپنا لیا۔ پاکستان سب سے پہلے کہتے ہوئے پھر سے لندن اور دبئی میں ڈیرے ڈال دیے۔ ماڈل پرانا ہے صرف سال مختلف ہیں۔ کچھ نہیں بدلا۔

ماضی حال بھی ہے اور مستقبل بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ