'سینیٹ نے زندگی تماشا کو ریلیز کی اجازت دے دی'

پاکستان کی سینیٹ نے سینسر بورڈ کو فلم زندگی تماشا کو کرونا وائرس کے خاتمے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

فلم زندگی تماشا کی ریلیز کئی مرتبہ مختلف وجوہات کی بنا پر روکی جا چکی ہے (آئی جی سی گلوبل)

پاکستان کی سینیٹ نے سینسر بورڈ کو فلم زندگی تماشا کو کرونا وائرس کے خاتمے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

رواں سال کے آغاز میں صوبہ سندھ کے سینسر بورڈ نے پاکستانی فلمساز اور اداکار سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز یہ کہہ کر روک دی تھی کہ ’اس سے معاشرے کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال بگڑ سکتی ہے۔‘

تاہم آج پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس فلم کی ریلیز کی اجازت دے دی ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ٹویٹ میں کہا: ’سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق متفقہ طور پر سینسر بورڈ کے فلم زندگی تماشا کی سکیرننگ کی اجازت دینے کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمیں اس (فلم) میں کچھ غلط نہیں لگا۔ سینسر بورڈ کو ہماری طرف سے کرونا کے بعد اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد فراہم کر دی جائیں گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلم ’زندگی تماشا‘ کو رواں سال جنوری میں ریلیز کیا جانا تھا تاہم بعض مذہبی حلقوں کی جانب سے اعتراض کے بعد اس کی سکریننگ کو روک دیا گیا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں سینسر بورڈ نے اس فلم کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔

جبکہ فلمساز سرمد کھوسٹ نے کہا تھا کہ ان کی فلم ’زندگی تماشا‘ کو رکوانے کے لیے انہیں درجنوں دھمکی آمیز فون کالز اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے مداحوں سے سوال بھی کیا تھا کہ ’کیا میں ’زندگی تماشا‘ سے دستبردار ہو جاؤں؟‘

واضح رہے کہ فلم ’زندگی تماشا‘ ریلیز سے قبل ایشیا کے سب سے معتبر بشان فلم فیسٹیول میں 'کم جے سُک' ایوارڈ حاصل کر چکی ہے۔

جنوبی کوریا کے شہر بشان میں 24 ویں بشان فلم فیسٹیول میں سرمد کھوسٹ کی فلم 'زندگی تماشا' اور بھارتی ہدایت کار پردیپ کورباہ کی فلم ’مارکیٹ‘ کو مشترکہ طور پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جو کسی بھی پاکستانی فلم کو پہلی بار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم