ٹک ٹاک پر دوستی کے بعد ’زیادتی‘ کا مقدمہ درج کرانے والی لڑکی غائب

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک بیوٹی پارلر پر کام کرنے والی لڑکی نے مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست تو دی تاہم اب وہ خود منظر سے غائب ہیں۔

متعلقہ پولیس اہلکارکے مطابق انہوں نے درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید کارروائی کی جا رہی ہے ۔(تصویر: پولیس سٹیشن ملت پارک)

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک بیوٹی پارلر پر کام کرنے والی لڑکی نے مبینہ طور پر گن پوائنٹ پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست تو دی تاہم اب وہ خود منظر سے غائب ہیں۔

تھانہ ملت پارک میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیراز نامی لڑکے سے ان کی 15 سے 20 روز پہلے دوستی ہوئی جنہوں نے ملاقات کے لیے بلایا اور گن پوائنٹ پر ایک دوست کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کی جانب سے مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے مگر درخواست میں اس لڑکی نے جو اپنا موبائل نمبر درج کیا وہ کسی نامعلوم شخص کا ہے جبکہ ملزم کا دیا گیا نمبر بھی مسلسل بند ہے۔

متعلقہ پولیس اہلکارکے مطابق انہوں نے درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

ایف آئی آر میں مریم نامی لڑکی کی جانب سے جو نمبر دیا گیا ہے وہ کسی نامعلوم شخص کا تھا جنہوں نے اپنا نمبر درج کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ ایف آئی اے میں لے جانے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ پولیس اے ایس آئی عبدالوحید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خاتون رات کے وقت تھانے آئیں اور جو درخواست دی اس کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا مگر درخواست میں موجود دونوں نمبر بند ہیں۔

پولیس کو موصول ہونے والی درخواست کے مطابق مریم فیاض نے موقف اپنایا کہ انہوں نے شیراز سے ٹک ٹاک پر دوستی کی جنہوں نے بعد میں گذشتہ روز 13 جولائی کو سکیم موڑ ملاقات کے لیے بلایا تو وہ رکشہ میں اکیلی وہاں چلی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ’وہ(شیراز)  انہیں اندر محلہ میں لے گیا اور وہاں ایک گھر میں لے جا کر پستول نکال لیا۔ اس کے ساتھ ایک اور دوست آصف بھی موجود تھا۔‘

درخواست گزار کے مطابق ان دونوں نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر رات گئے گاڑی میں لے کر مختلف جگہ گھومتے رہے اور ملتان روڑ پر صبح پانچ بجے گاڑی سے اتار کر فرار ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر احتیاط کیسے ہوسکتی ہے؟

سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھر ی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے استعمال نے والدین اور بچوں میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے جس سے والدین بچوں پر اور بچے اپنی تعلیم وتربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ  اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال ہے۔ نوجوانوں کی ایسے لوگوں سے بھی دوستیاں ہو جاتی ہیں جن کا انہوں نے چہرہ بھی نہیں دیکھا ہوتا۔ اس لیے سوشل میڈیا کے ذریعے دوستیوں کی آڑ میں روز بروز مختلف قسم کے جرائم رونما ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پر قابو پانے کے لیے اپنی استعداد کار بڑھالی ہے۔

’ایسی درخواستوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جن میں سوشل میڈیا پر خواتین کو جال میں پھنسانے اور بلیک کرنے کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ایف آئی اے تو قانونی کارروائی کر رہا ہے لیکن والدین اور نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ خود احتیاط سے کام لیں۔

ان کے خیال میں نہ صرف تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کا انتظام ہو بلکہ قانون سازی بھی سخت ہونی چاہیے جو لوگ سوشل میڈیا کےذریعے دوسروں کو نقصان پہنچائیں انہیں عبرتناک سزا ہونی چاہیے۔

سائبر کرائم میں اضافہ اور اس کا تدارک

آصف اقبال چودھری نے بتایاکہ گذشتہ چھ ماہ میں پاکستان بھر سے 39 ہزار کے قریب مختلف کرائم کی درخواستیں ایف آئی اے کو موصول ہوئیں جن میں 20 ہزار سوشل میڈیا سے متعلق تھیں جن میں سوشل میڈیا کے ذریعے کسی نہ کسی طرح لوگ جرائم پیشہ افراد کا شکار بنے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرناک حد تک بڑھتی ہوئے جرائم کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی اے سائبر ونگ نے نئے ایس او پیز تیار کیے ہیں جن میں عام لوگوں کو سوشل میڈیا پر جرائم پیشہ افراد سے بچنے کے طریقے اور انہیں پکڑوانے سے متعلق آگاہی بھی شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان