ریپ اور قتل کی جعلی پوسٹ: بچوں کی تصاویر شیئر کرنا کتنا محفوظ ہے؟

چند روز قبل سوشل میڈیا پر پشاور کی ایک بچی اور تین لڑکوں کی تصاویر پر مشتمل پوسٹر وائرل ہوا، جس کے مطابق بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا، تاہم وہ پوسٹر بعدازاں جعلی ثابت ہوا۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کچھ آسان طریقے سیکھ کر کسی بھی خبر کے اصل اور جعلی ہونے کا پتہ چلا سکیں۔(تصویر: پکسا بے)

چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک بچی کی تصویر وائرل ہوتی ہے۔ بچی کی تصویر کے ساتھ تین لڑکوں کی تصاویر لگا کر ایک پوسٹر بنایا جاتا ہے جس کے ساتھ کیپشن لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ ان تین نوجوانوں نے ریپ کے بعد بچی کو قتل کردیا ہے۔

فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس ایپ پر یہ تصویر اسی کیپشن کے ساتھ وائرل ہوگئی۔ حتیٰ کہ کچھ سیاسی اور معتبر افراد کے اکاؤنٹس سے بھی یہی تصویر اسی کیپشن کے ساتھ شیئر کی گئی۔

بدھ کی شام خبر آجاتی ہے کہ بچی بالکل ٹھیک ہے، نہ اسے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی قتل کیا گیا۔ جس کے بعد بچی کے والدین نے اس جعلی پوسٹ کو وائرل کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

یہ پوسٹر جب پشاور پولیس کے نوٹس میں لایا گیا تو دوران تفتیش یہی بات سامنے آئی کہ یہ ایک جعلی خبر تھی جسے بغیر تصدیق کے وائرل کیا گیا تھا۔

پشاور پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بچی کے ساتھ ریپ اور قتل کے بارے میں جعلی پوسٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

پشاور پولیس کے ترجمان محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس نے اس کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی خدمات بھی حاصل کی ہیں اور پولیس اور ایف آئی اے مل کر جعلی پوسٹ وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

اسی واقعے کے حوالے ایس ایس پی آپریشنز پشاور منصور امان کا کہنا تھا کہ 'سوشل میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منفی اور جعلی خبریں پھیلانا قابل افسوس عمل ہے۔ حالیہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائےگا۔'

اس واقعے کے تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جنہوں نے بچی کی تصویر حاصل کرکے جعلی پوسٹر بنایا اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں بچی کی تصویر کہاں سے ملی؟

اس کا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ آج کل بیشتر والدین بھی اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں، تو کیا بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا غیر محفوظ ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں آن لائن سیفٹی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی' کے بانی اسد بیگ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال تو بہت زیادہ ہے تاہم سوشل میڈیا کے حوالے سے 'ویلیو سسٹم'  یعنی اس کے درست استعمال کے حوالے سے آگاہی کی بہت زیادہ کمی ہے۔'

انہوں نے بتایا کہ 'اب اس کیس کو دیکھ لیجیے کہ کسی کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس قسم کی جعلی پوسٹ کو پھیلا کر وہ بچے کو کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔'

اسد بیگ نے کہا: 'ہم نے بارہا اس حوالے سے عوام کو بتایا ہے کہ والدین بچوں کی تصاویر شیئر تو کرتے ہیں لیکن اس سے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان تصاویر کو مختلف غلط جگہوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فیس بک پر تو ایسے مختلف غیر اخلاقی گروپس بنے ہوئے ہیں جہاں پر یہی تصاویر استعمال ہو رہی ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت تو قانون پر قانون بنا رہی ہے لیکن عوام کو سوشل میڈیا کے بارے میں آگاہی دینے کی بہت ضرورت ہے۔

جعلی خبر یا پوسٹ کی پہچان کیسے کریں؟

بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں شاید اس واقعے کے بعد یہی سوال ابھرا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی جعلی خبر کی پہچان کیسے کی جائے؟

اس حوالے سے مختلف ادارے 'فیکٹ چیک' (حقائق کی جانچ) کے نام سے ویب سائٹس چلا رہے ہیں، جو اس طرح کی جعلی خبروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تاہم یہ ویب سائٹس زیادہ تر قومی یا بین الاقوامی سطح کی خبروں پر نظر رکھتی ہیں۔ اب اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کچھ آسان طریقے سیکھ کر کسی بھی خبر کے اصل اور جعلی ہونے کا پتہ چلا سکیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کے سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والے ثاقب تنویر اس حوالے سے کہتے ہیں کہ 'فیک نیوز کے حوالے سے سب سے اہم چیز خبر کی نوعیت ہوتی ہے۔ اگر کوئی بھی خبر بہت زیادہ اچھی ہے یا بہت زیادہ بری ہے تو اس کو ڈبل چیک کر لینا چاہیے۔'

انہوں نے بتایا کہ مختلف سروسز کے ذریعے ویڈیوز اور تصاویر کی اصلیت معلوم کی جاسکتی ہے۔ 'گوگل امیجز کے ذریعے آپ کسی بھی تصویر کو اپ لوڈ کر کے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تصویر کب کی ہے۔ اسی طرح ویڈیو کے حوالے سے بھی آپ پتہ چلا سکتے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی سروس InVID اس حوالے سے کارآمد ہے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ 'اگر کسی تصویر کے حوالے سے یہ معلوم کرنا ہو کہ اس سے چھیڑ چھاڑ تو نہیں کی گئی تو فوٹو فرانزیکس نامی سروس کے ذریعے آپ کو تصویر کی اصلیت کے بارے میں پتہ چل سکتا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل