پشاور کی سو سالہ کپور حویلی کا مستقبل کیا؟

صوبائی حکومت نے 2018 میں ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اس حویلی کی مرمت کرکے اسے سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تاہم قیمت پر اختلاف رائے رکھتے ہوئے حویلی کے مالک نے اس کی جگہ کمرشل پلازہ تعمیر کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔

پشاور اندرون شہر بازار میں واقع چھ منزلہ کپور حویلی آج کل پھر خبروں میں ہے کیونکہ حویلی کے موجودہ مالک نے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد وہ اس عمارت کو گرا کر اس پر ایک کمرشل پلازہ کھڑا کرنے والے ہیں۔

اس خبر نے جہاں خیبر پختونخوا حکومت کو ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس عمارت سے متعلق جلد از جلد کوئی فیصلہ کرے، وہیں ان افراد میں بے چینی پھیل گئی ہے جو پرانی عمارتوں کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہوئے انہیں تا ابد آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔

کپور حویلی 1922 میں پرتھوی راج کے والد نے تعمیر کی تھی۔ جو کہ بالی ووڈ کے معروف اداکار رشی کپور اور رندھیر کپور کے پردادا تھے۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب پشاور میں ہندوؤں کی بہت بڑی آبادی تھی اور زیادہ تر بڑے کاروباروں کے مالک بھی ہندو تھے۔ تاہم تقسیم ہند کے بعد زیادہ تر ہندو پشاور سے کوچ کر گئے، انہیں میں سے ایک کپور خاندان بھی شامل تھا۔

اس زمانے میں اس حویلی کے پاس آباد زیادہ تر لوگوں کے گھروں کی جگہ دکانوں اور پلازوں نے لے لی ہے ۔ بعض افراد وقت کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں۔

تاہم ایک گھر ایسا ہے جو پرتھوی راج کے والد کے وقتوں سے یہاں آباد ہے۔

اس گھر کے مکین، 74 سالہ اکرام الدین، کا کہنا ہے کہ جس زمانے میں کپور خاندان بھارت چلا گیا اسی زمانے میں ہی وہ پیدا ہوئے تھے۔ لہذا انہیں اس حویلی سے متعلق ساری باتیں والدین سے ہی پتہ چلی ہیں۔

کپور حویلی کے حوالے سے صوبائی حکومت نے 2018 میں ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اس عمارت کی مرمت کرکے اسے سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

تاہم قیمت پر اختلاف رائے رکھتے ہوئے حویلی کے مالک حاجی محمد اسرار نے اس کی جگہ کمرشل پلازہ تعمیر کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کپور حویلی اپنے وقت کی ایک بہترین تعمیر ہے جو آج بھی اپنی پرانی شان شوکت سے نئے آنے والوں کو مرعوب کر دیتی ہے تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اس کے درودیوار اب مزید  موسموں کے وار سہنے کی سکت نہیں رکھتے۔

حویلی کی آخری دو منزلیں پہلے ہی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جب کہ باقی دیواریں بھی یا تو گر چکی ہیں اور یا گرنے کے قریب ہیں۔

اس مکان کے نیچے گلی میں آمنے سامنے کئی دکانیں ہیں۔ ان ہی میں سے ایک لطیف نامی درزی کی بھی دکان ہے۔

لطیف نے حویلی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھا یہی ہوگا کہ اس مکان کی مرمت کی جائے۔

انہوں نے کہا: 'لیکن اگر اس کو بناتے نہیں ہیں تو پھر اس کو گرا دیں ۔ کیونکہ یہ بالکل خستہ حال ہے، یہ خطرہ ہے، یہاں سے پتھر بھی نیچے گرتے ہیں، لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ محکمہ اوقاف والے آتے ہیں، ہم ان کو کہتے ہیں اس کو ٹھیک کر دو، سب ہاں کہتے ہیں لیکن عمل کوئی نہیں کرتا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان