انتخابات میں شکست کی پیش گوئی، ٹرمپ نے کرونا پر موقف بدل لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی وبا جسے وہ اکثر 'معمولی' قرار دیا کرتے تھے، اس میں بہتری آنے سے پہلے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے شہریوں کو ماسک  پہننے  کی بھی ہدایت کی ہے (تصویر: اے ایف پی)

امریکہ میں نومبر کے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کی پیش گوئی کے حوالے سے ایک عوامی سروے کے بعد امریکی صدر کے لہجے میں سنجیدگی آ گئی ہے اور انہوں نے اعتراف  کیا ہے کہ ملک میں کرونا (کورونا) وائرس کی وبا جسے وہ اکثر 'معمولی' قرار دیا کرتے تھے، اس میں بہتری آنے سے پہلے صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شہریوں کو ماسک پہننے کی بھی ہدایت کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں تقریباً تین ماہ میں کرونا وائرس پر پہلی رسمی بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا: 'ملک کے کچھ حصوں میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے اور بعض میں کم اچھا ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے صورت حال بہتر ہونے سے پہلے شاید مزید خراب ہو گی۔'

صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کو بیماری کے خاتمے کے لیے گھر میں استعمال ہونے والا جراثیم کش محلول پلانے کی بات کی تھی جس پر ان کا مذاق اڑایا گیا۔ اس صورت حال کے بعد انہوں نے اپریل کے آخر میں وبا پر وائٹ ہاؤس میں ہونے والی روزانہ بریفنگ ترک کر دی تھی۔ اب ان کی بریفنگ میں واپسی کرونا وائرس کے خلاف مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکہ میں کرونا کی وبا کے خلاف غیرسنجیدہ اقدامات کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار ہو چکی ہے۔ ملک کے جنوبی اور جنوب مغربی حصوں میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور مسلسل آٹھ روز میں کرونا وائرس کے 60 ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

عوامی رائے کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوتہائی امریکی شہری وبا کے معاملے میں ٹرمپ کی قیادت پر اعتبار نہیں کرتے۔ سروے کے مطابق وبا کے خلاف ان کے رد عمل کی وجہ سے ووٹروں کا رجحان نمایاں طور پر ٹرمپ کے مخالف صدارتی امیدوار جوبائیڈن کی طرف ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ صدارتی الیکشن میں محض 100 سے کچھ ہی زیادہ دن رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وبا کی سنگینی کو نظرانداز کرنے اور باربارعلاج کے الٹے سیدھے طریقے بتانے کے بعد ٹرمپ کوامید ہے کہ ان کا نیا سنجیدہ اور حقیقت پر مبنی رویہ میڈیا کی شہ سرخیاں تبدیل کردے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ دو ماہ تک چہرے  پر ماسک کے ساتھ تصویر بنوانے سے انکار کرتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی سفارشات کے مطابق ماسک لگائیں کیونکہ یہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں اہم رکاوٹ ہے۔

ٹرمپ نے کہا: 'ہم سب سے کہہ رہے ہیں کہ جب آپ سماجی دوری اختیار نہیں کر سکتے تو ماسک پہنیں۔'

کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے خوش خبری کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'ویکسین کسی کی سوچ سے بھی بہت پہلے بن جائے گی۔' ساتھ انہوں نے بار بار کہا جانے والا اپنا یہ جملہ بھی دہرایا کہ 'وائرس کسی نہ کسی طرح غائب ہو جائے گا۔'

ایک طرف جہاں ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے وہیں دوسری جانب امریکی کانگریس بڑے اقتصادی امدادی بل پر بحث کا آغاز کرنے والی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی بے روزگاری اور کاروبار کے ٹھپ ہوجانے کے بعد معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ