سرکاری اداروں کے سیاسی مقاصد: پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں

بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں بہت سے ایسے موقعے آئے جہاں احتساب کے نام پر اداروں کو استعمال کیا جا رہا۔

لیاقت علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1949 میں پروڈا نامی قانون بنایا جس کا مقصد اپنے مخالفوں کو نااہل کرواناتھا (پبلک ڈومین)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو روز قبل روز خواجہ برادران کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’نیب انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے۔ نیب کو لکیر کے اُس پار کچھ نظر نہیں آتا۔ نیب سیاسی جماعتوں کے بندے توڑنے کا کام کر رہا ہے۔‘

بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے کسی سرکاری ادارے کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا یہ الزام نیا نہیں۔ اس ملک کو دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہونے کے ساتھ ہی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے حکومتیں مختلف ناموں سے ادارے بناتی رہیں، جن کے ذمہ ایک کام لگایا جاتا کہ وہ سیاسی مخالفین پر مقدمات بنائیں تاکہ وہ سیاست سے توبہ کرکے گوشہ نشین ہو جانے کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی سیاست سے دور رہنے کی وصیت کر جائیں۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم سکہ بند جمہوری رہنما لیاقت علی خان نے بھی مخالفین کو کچلنے کے لیے جنوری 1949 میں ایک قانون نافذ کیا تھا جسے ’پروڈا‘ کہا جاتا تھا۔

قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی کو اکثر اپنی تقریروں میں تنقید کا نشانہ بناتے۔ 11 ستمبر 1950 کو قائد اعظم کا دوسرا یوم وفات ہوتا ہے۔ قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کراچی میں ایک تقریب منعقد ہوتی ہے۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں آئین ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین، ایوب کھوڑو، یوسف خٹک کے علاوہ وزیراعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔ لیاقت علی خان نے سہروردی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’مسٹر سہروردی آج کل ہر روز تقریریں کرنے اور بیانات جاری کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ وہی صاحب ہیں جو ہندوستان کے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کے بعد یہاں تشریف لائے۔ ان صاحب نے پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں مسلم لیگ ہند نہیں بننے دی اور اس موقف کا پرچار کیا کہ ہندوستان میں اب فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں۔ سہروردی کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اتحاد ختم کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ستم کے خلاف آواز نہ اُٹھا سکیں۔ اب تک ان کا سب سے شاندار کارنامہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بات ہو رہی تھی لیاقت علی خان کے قانون کی۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ’پروڈا کی زد میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ایسے وزیر، نائب وزیر اور پارلیمانی سیکریٹری آئے جن پر اقربا پروری اور جانبداری کے الزام لگائے گئے۔ اس قانون کے تحت سب سے زیادہ گرفتاریاں سندھ میں ہوئیں کیونکہ سندھ میں ایک وزیر کو چھوڑ کر باقی ساری کابینہ ایک سیاسی جماعت کی تھی۔ اس قسم کے قانون کا نفاذ بلاشبہ برمحل نظر آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قانون ایک سیاسی ہتھیار کی حثییت سے عالم وجود میں آیا اور سیاسی مقصد کے لیے استعمال بھی ہوا۔‘

ایوب خان اقتدار میں آتے ہیں تو سیاست دانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے دو قانون نافذ کرتے ہیں۔ پہلا قانون عرف عام میں ’پوڈو‘ کہلایا اور دوسرا ’ایبڈو۔‘ ان کا اطلاق صرف سیاسی عہدے داروں پر ہوتا تھا اور فرد جرم ثابت ہونے پر 15 سال تک سیاسی عہدوں پر فائز ہونے سے نااہلیت تھی۔ ایوب خان کا مقصد صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل تمام عناصر کو کانٹے کی طرح نکال باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔ اس کا انہوں نے پورا فائدہ اٹھایا اور بڑے بڑے جغادری سیاست دان اس کی زد میں آئے۔

 پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار بھٹو بھی سیاسی مخالفین کے حق میں اپنے پیش روؤں سے مختلف ثابت نہ ہوئے۔ راؤ رشید اپنی کتاب ’جو میں نے دیکھا‘ میں رقم طراز ہیں کہ انہوں نے مخالفین کو کچلنے کے لیے مختلف ادارے بنائے اور حزب اختلاف کو بے رحمی سے نشانہ بنایا۔ اہم اپوزیشن رہنماؤں کو مدتوں پس زنداں رکھا۔ ان پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔ کئی بہادر صحافیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ پریس شکنجے میں آیا۔ زیر عتاب آنے والے صحافیوں میں الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر اعجاز قریشی، مجیب الرحمٰن شامی اور دیگر شامل تھے۔ حسین نقی تو بھٹو کے دوست اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تھے انہیں بھی بھٹو نے پس زنداں کیا۔

ممتاز کالم نگار عامر خاکوانی نے لکھا کہ سیاسی کارکنوں کو جس بے رحمی سے بھٹو دور میں نشانہ بنایا گیا اس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ بےداغ اور کھرے سیاست دان سردار شیرباز مزاری نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ’ہم نے بھٹو دور میں بھی جیل گزاری اور ضیا الحق دور میں بھی، فرق یہ تھا کہ ضیا دور میں سیاسی کارکن جیل جاتے تھے، ان کے گھر والوں کی عزتیں محفوظ رہتی تھی لیکن بھٹو دور میں گھر والوں کی عزتیں بھی خطرے میں رہتیں۔ یہ صرف سیاسی مخالفین کے ساتھ نہیں تھا بلکہ اپنے کسی اکھڑ رکن اسمبلی کو سبق سکھانا مقصود ہوتا تو اس کی بیٹی اٹھا لینے کی دھمکی دی جاتی اور اس کام کے لیے باقاعدہ ایک فورس بنائی گئی تھی جسے نتھ فورس کا نام دیا گیا تھا۔‘

نواز شریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں احتساب کا ادارہ بنایا اور اس کا سربراہ سیف الرحمٰن کو بنایا۔ سیف الرحمٰن کی سربراہی میں بننے والے اس ادارے نے سیاسی مخالفین کو ناکوں چنے چبوائے کہ لوگ انہیں ’احتساب الرحمٰن‘ کہنے لگے۔ سیف الرحمٰن نے پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاوند سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف اتنے مقدمات بنائے کہ آصف زرداری تو جیل میں چلے گئے اور محترمہ مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں ایک دن کراچی دوسرے دن لاہور اور تیسرے دن اسلام آباد ہوتیں۔

مشرف، نواز شریف کو حکومت سے نکال باہر کرتے ہیں اور خود اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ مشرف سیاست دانوں کو قابو کرنے کے لیے ’نیب‘ بناتے ہیں۔ جنرل شاہد عزیز نیب کے سربراہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب ’یہ خاموشی کہاں تک‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں جب نیب چیئرمین تھا تو انتخابات کی تیاریاں شروع کرنے کا وقت تھا، جس میں نیب کو استعمال کرنے کا ارادہ تھا۔ ان دنوں مجھ سے حکومت نے ان سیاست دانوں کے نام مانگے جن کے خلاف تفتیش چل رہی تھی۔ میں نے نام دینے سے معذرت کر لی۔ میں جانتا تھا کہ یہ نام سیاسی سودے بازی کے لیے مانگے جا رہے ہیں۔ مجھ پر کافی دباؤ رہا۔‘

’جب کہیں سے بات نہ بنی تو ایک پارلیمنٹری کمیٹی سے مجھے خط لکھوایا گیا کہ یہ نام پارلیمنٹ کو چاہییں، میں نے نام نہیں دیے۔ مجھے اعلیٰ سطح پر سمجھایا گیا کہ تم پارلیمنٹ کی اتھارٹی کو شاید سمجھتے نہیں ہو، تم انکار کر کے اپنے لیے مشکل کھڑی کر رہے ہو۔ میں نے کہا کہ ہمارا آئین ہر شہری کی عزت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ میرے نام دینے سے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اگر میں حد سے تجاوز کر رہا ہوں تو مجھے کورٹ لے جائیں، عدالت حکم دیتی ہے تو میں نام دے دیتا ہوں۔ میں نے اخبار میں خبر دی کہ اس مرتبہ نیب انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا۔ مقصود یہ تھا کہ اس سلسلے میں دباؤ ڈالا گیا تو بات عوام میں کھل جائے گی۔‘

نیم سیاسی حکومت ہو یا فوجی، ہر ایک نے سیاسی مخالفین کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے اس طرح کے اداروں کا سہارا لیا۔ ہر حکومت کا ایک مشن رہا، جو جتنا زیادہ بولتا ہے اس طرح کے اداروں کا سہارا لے کر اس کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ ماضی میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی حکومتیں رہیں مگر انہوں نے اس پر قانون سازی نہیں کی۔ دونوں اطراف سے بیانات میڈیا کی زنیت بنتے رہے کہ نیب قوانین میں تبدیلی لا رہے ہیں اور یہ صرف بیان بازی تک محدود رہا۔

آج تحریک انصاف نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے تو کل یہی ادارہ ان کے خلاف استعمال ہو گا۔ ضرورت ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر اس نیب قوانین میں تبدیلی لائے اور اسے سیاسی دسترس سے مکمل آزاد کرے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ