بھارت چین کشیدگی پر پاکستان نے 'غلط معلومات' پھیلائیں: بھارتی اخبار

بھارتی اخبار'دا ہندو' نے دعویٰ کیا ہے کہ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے کے بارے میں جو غلط معلومات پھیلائی گئیں ان کے تانے بانے پاکستان سے ملتے ہیں۔

'دا ہندو' کے مطابق صارفین نے ٹوئٹر میں پائی جانے والی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفائل نام اور ہینڈل تبدیل کیے(اے ایف پی)

بھارتی اخبار'دا ہندو' نے دعویٰ کیا ہے کہ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے کے بارے میں جو غلط معلومات پھیلائی گئیں ان کے تانے بانے پاکستان سے ملتے ہیں۔

اخبار کے مطابق کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر چینی اکاؤنٹس جنگلی کھبمیوں کی طرح سامنے آئے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ بھارت کو ہدف بنانے والی غلط معلومات کی مہم ایک مربوط حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔
خیال رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا آغاز مئی میں ہوا تھا، جو 15 جون کو وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ کی شکل میں عروج پر پہنچی۔ اس جھڑپ کے بعد سوشل میڈیا پر اطلاعات کی اپنی نوعیت کی پہلی جنگ کو ہوا ملی۔ بھارتی اور چینی اکاؤنٹس سے ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ ہوا جس کا مقصد بیانیے اورمیڈیا دونوں کی توجہ حاصل کرنا تھا۔
اخبارکے مطابق غلط معلومات دونوں فریقین نے پھیلائی لیکن 'چینی' اکاؤنٹس سے جو پوسٹس کی گئیں ان کے بارے میں صارفین کو معلوم نہیں تھا کہ درحقیقت وہ پاکستانی اکاؤنٹس تھے کیونکہ ٹوئٹر پر چین میں پابندی ہے، اگرچہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) یا پراکسی اکاؤنٹس کے ذریعے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اخبار نے الزام عائد کیا کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپ پر ٹوئٹر کے سب سے زیادہ فعال 'چینی اکاؤنٹس' کے تجزیے سے پتہ چلا کہ ماضی میں ان اکاؤنٹس کے پروفائل اور ہینڈل نام مختلف تھے، حتیٰ کہ ان میں بعض اکاؤنٹس راتوں رات چینی بولی مینڈارن میں تبدیل ہو گئے حالانکہ اس سے پہلے یہ اردو میں تھے۔
‘xiuying637’کے نام کا ایک اکاؤنٹ ماضی میں‘hinaarbi2’کے نام سے چلایا جا رہا تھا۔ بعد میں اس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چینی فوج اور سرحدی جھڑپ سے متعلق معلومات فراہم کرنی شروع کر دی گئیں۔ یہ اکاؤنٹ معطل تو کر دیا گیا لیکن تاخیر کے ساتھ۔
'دا ہندو' کے مطابق صارفین نے ٹوئٹر میں پائی جانے والی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پروفائل نام اور ہینڈل تبدیل کیے، انہوں نے حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے چینی فوجیوں کی پروفائل پکچرز استعمال کیں۔ سرحدی جھڑپ کے بعد فعال ہونے والے'چینی اکاؤنٹس' کے پہلے مختلف نام تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹوئٹر پروفائل نام اور ہینڈل کی تبدیلی کا سراغ لگا لیا گیا کیونکہ ان اکاؤنٹس میں سے بعض کے لاکھوں فالورز تھے اور اس سے پہلے انہیں ٹریک کیا جا رہا تھا۔ اخبار نے مزید لکھا کہZeping کے چینی نام اور‘sawaxpx’کے ہینڈل سے سرحدی جھڑپ سے پہلے اردو میں ٹویٹ کی جاتی رہیں، تاہم اب یہ ٹویٹس دستیاب نہیں۔ ‘Yasifxi’کے نام سے ایک اور اکاؤنٹ کا اس سے پہلے چینی نام تھا اور اس سے چینی زبان میں ٹویٹس کی گئیں لیکن جب اسے ٹریس کیا گیا وہ تو مبینہ طور پر پاکستانی نکلا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان ٹوئٹر اکاؤنٹس نے بھارت چین سرحدی جھڑپ کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائیں، زخمی ہونے والے فوجیوں کی جعلی تصاویر اور دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپ کی وہ ویڈیوز شیئر کیں جو پہلے کی سرحدی جھڑپ کی تھیں۔ چینی زبان میں چینی نام استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کرنے کی وجہ سے ان پوسٹس کو ایک لحاظ سے حقیقی سمجھا گیا۔
اخبار نے الزام لگایا کہ یہ حکمت عملی چینی شناخت اختیار کرنے تک محدود نہیں، مبینہ پاکستانی اکاؤنٹس نے حال ہی میں چینی اور سری لنکا کے صارفین ٹوئٹر نام بھی استعمال کیے۔ 'اس تمام کارروائی کا ایک ہی مقصد تھا غلط معلومات پھیلانا اور بھارت مخالف بیانیہ تیار کرنا۔'
پاکستان حکومت کے کسی ترجمان نے اب تک اس خبر پر ردعمل نہیں دیا۔ خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ایک میدان سوشل میڈیا بھی ہے، جس پر دونوں ملک متحرک رہتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل