مطیع اللہ کیس: 'آئی جی پولیس خط بازی کی بجائے تحقیقات کریں'

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کیس میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی کو ہدایت کی ہے کہ جس ادارے سے معلومات لینی ہیں، وہاں جا کر معلومات لے کر آئیں۔

سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان مبینہ اغوا کیس کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے توہین عدالت کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی(فائل تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مطیع اللہ کے مبینہ اغوا کے کیس کی تحقیقات کے لیے متعلقہ  محکموں اور  اداروں کو مزید خطوط لکھنے کی بجائے جس ادارے سے معلومات لینی ہیں، وہاں سے جاکر معلومات لے کر آئیں۔

مطیع اللہ کے مبینہ اغوا کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے گذشتہ روز عدالت میں جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پولیس تحقیقات میں ابھی تک کسی محکمے نے جواب نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی اور مبینہ اغوا کے روز مطیع اللہ کے موبائل ڈیٹا کے لیے ایک درخواست متعلقہ محکمے کو لکھ دی گئی تھی ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد سیف سٹی کے کیمروں کے ریکارڈ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوئی،  البتہ مطیع اللہ کو جہاں پر چھوڑا گیا وہاں  سے آنکھوں پر باندھی گئی  کالی پٹی، ٹیپ برآمد کر لیے گئے لیکن ان چیزوں کی  بھی فرانزک رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی نادرا نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے ملزموں کی شناخت بارے کوئی جواب دیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت  کی  تو چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا: 'آئی جی صاحب! آپ کس زمانے میں بیٹھے ہوئے ہیں؟ اداروں کے درمیان خط بازی کا کیا مقصد ہے؟'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'ہر کیس میں تفتیش کا یہی حال ہے۔ مطیع اللہ مبینہ اغوا کیس میں پولیس نے ابھی تک کرائم سین کا نقشہ ہی نہیں بنایا۔'

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ 'پولیس نے معلومات کیوں اکٹھی نہیں کیں؟' ساتھ ہی انہوں نے آئی جی پولیس کو مخاطب کرکے کہا 'تحقیقات کے دوران وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ افسران کو بھاگ دوڑ کرنا ہوتی ہے لیکن لگتا ہے کہ آپ کو کام کرنا ہی نہیں۔'

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ 'جس ادارے سے معلومات لینی ہیں وہاں جا کر بیٹھ جائیں، آپ نے مزید خط بازی نہیں کرنی، 10 منٹ بھی نکل گئے تو ثبوت ضائع ہو جاتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ نے مطیع اللہ جان مبینہ اغوا کیس کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے توہین عدالت کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

آج کمرہ عدالت میں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور صحافی تنظیمیں بھی مطیع اللہ جان کی حمایت میں موجود تھیں۔واضح رہے کہ عدالت نے اس کیس کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کیس صحافی مطیع اللہ پر توہین عدالت کا ہے، جو اُن کی متنازع ٹویٹس کی وجہ سے ہوا  جبکہ اُن کے مبینہ اغوا کے بعد یہ معاملہ بھی عدالتی کارروائی کا حصہ بن چکا ہے۔

 توہین عدالت کیس میں مطیع اللہ نے عدالت میں اپنا جواب ابھی تک جمع نہیں کرایا جس پرعدالت نے استفسار کیا کہ انہوں نے اپنا جواب عدالت کو کیوں جمع نہیں کرایا؟ اس پر مطیع اللہ نے جواب دیا کہ وہ عید کی چھٹیوں اور مجسٹریٹ کے ساتھ اپنے کیس کے بیان کے سلسلے میں مصروف تھے۔

اس جواب پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ عدالت میں اپنا جواب جمع کروانے میں جتنی تاخیر سے کام لیں گے اس کا نقصان ہو گا، اس لیے جواب جلدجواب کروائیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان