اورنج لائن تو نہ چلی مگر ایان چل بسا!

ایان کی زندگی جتنی تھی اس نے جی لی مگر حکومتی نااہلیوں پر یہی دلیل دے کر تم کب تک پردہ ڈالو گے؟

اورنج لائن ٹرین(اے ایف پی)

لاہور کے مناواں علاقے میں رات دس بجے کے قریب پاکستان کی اب تک کی تاریخ میں کبھی نہ مکمل ہونے والی اورنج لائن کے بالکل نیچے ایک موٹر سائیکل حادثہ پیں آیا جس نے پورے خاندان کو تاحیات صدمے میں مبتلا کر دیا۔

ہوا کچھ یوں کہ عید قرباں کے تیسرے دن ہنستی مسکراتی ’بچے دو ہی اچھے‘ کے عین اصول پر پوری اترتی ایک فیملی دعوت پر جا رہی تھی۔ سات ماہ کے ایان کو ماں نے جیسے ہی کپڑے پہنائے تو باپ نے مسکراتے ہوئے کہا میرا بیٹا ڈاکٹر بنے گا۔۔۔اتنے میں دو سالہ شہریار بھی باپ کی ٹانگوں سے آ لپٹا۔ باپ نے اسے گود میں اٹھایا اور کہنے لگا۔۔۔میرے یہ دو بیٹے میرے دو بازو ہیں اس لیے میں کبھی بوڑھا نہیں ہوں گا۔

شکر بھرے لہجے میں بیگم نے ایان کو پاوڈر لگاتے ہوئے کہا اب چلیں بھی ورنہ رشتے دار منہ بنائیں گے۔ موٹر سائیکل سٹارٹ ہوئی اور باتیں کرتے ہوئے سب چل دیے۔

راستے میں شہریار نے جب جوس کی ضد کی تو طے ہوا کہ واپسی پر شہریار اور ایان جو چاہے خرید لیں۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ بلند و بالا اورنج لائن کے پاس سے موٹر سائیکل گزری اور پھر کئی میٹر تک وہ گھسیٹتی ہی چلی گئی۔ موٹر سائیکل کا پہیہ گٹر کے اس ڈھکن میں پھنس گیا جو تھا ہی نہیں۔ جی ہاں میرا مطلب ہے اورنج لائن کی تعمیر تو شاید کبھی مکمل نہ ہو لیکن اس کی تعمیر کی آڑ میں کھودی گئی زمین اور پڑی ہوئی باقیات کے چکر میں آس پاس کا علاقہ بنجر بن گیا ہے۔

اندھیرے میں اکثر یہ کھلے گٹر نظر ہی نہیں آتے۔ یہ علاقہ اورنج لائن کا وہی بدبخت حصہ ہے جس پر پہلے شہباز شریف نے جھولے لیے پھر ڈی جی خان سے اعلی افسری کا تجربہ لینے آئے عثمان بزدار نے بھی اس پر سیر کی مگر یہ تاحال کھلونا ہی ہے جسے دو بار ہی چلایا جا سکا ہے۔

خیر کہانی کی جانب واپس آیئے۔ جائے حادثہ پر چار جانیں بےسہارا پڑی تھیں۔ زخمی حالت میں کمزور جسم کی طاقتور مامتا نے فوری اپنے بچوں کو اٹھانے کی کوشش کی۔ ایمبولینس پہنچی۔ ماں کی ٹانگ زخموں سے چور تھی اور باپ کا بازو خون سے لت پت۔

شہریار اپنے پاؤں کے زخموں سے رستا خون دیکھ کر رو رہا تھا اور ننھا ایان کھوپٹری میں گہرے زخموں کی وجہ سے بے ہوش ہوگیا تھا۔ یہ منظر کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ ماں کو جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا اور باپ کو سرجری وارڈ جناح ہسپتال بھیجا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہریار کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور ایان کو چلڈرن ہسپتال شفٹ کرنا طے پایا۔ کیسے ایک ڈھکن نے پورے خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔

اب اس ملک کے نظام کا ایک اور سیاہ پہلو شامل داستان ہے۔ بچہ ایمرجنسی میں لایا گیا۔ سوچیں ذرا سات ماہ کا ننھا ایان۔ خون سے بھرا ہوا سٹی سکین کے لیے کمرے میں سٹاف موجود نہیں، الٹرا ساونڈ کے لیے ٹیکنیشن فون سننے باہر گیا ہوا ہے۔ ایمرجنسی میں موجود جونیئر ڈاکٹر بڑی ڈاکٹر بننے کے لیے کتاب پڑھ رہی ہے۔

’ارے کوئی تو میرے ایان کو دیکھو۔ دیکھو اس کا رنگ پیلا پڑ رہا ہے۔‘ لیکن سرکاری نظام میں سینہ کوبی کے علاوہ کیا ہی کیا جا سکتا ہے۔ جب کچھ نظر نہ آیا تو ایک فون گھمانا پڑا۔ افسر نے کہا بچے کو ذرا دیکھ لو۔ سٹاف کو ان کی بات کچھ سمجھ آئی تو اس کو ٹیکا لگایا۔ پتہ چلا اس کا خون بہت بہہ گیا ہے، دماغ کی شریان پھٹ چکی ہے اور خون پورے دماغ میں پھیل گیا ہے۔ اب یہ مسئلہ کہ سینیئر ڈاکٹر دیکھے گا تو بتائے گا کیا کرنا ہے لیکن رات کی ڈیوٹی پر سینیئر ڈاکٹر اپنے کمرے کا دروازہ ہی کھول لیں تو غنیمت ہے۔ خیر کہہ کہلوا کے یہ بھی کروایا۔

پھر آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔ اس ننھے معصوم کو جب وینٹی لیٹر پر ڈالا تو درجن نالیاں اس کے جسم میں ڈالی گئیں۔ رات بھر وینٹی لیٹر پر رہا۔ صبح امید تھی کہ زندگی کی نئی صبح ہوگی مگر بےسدھ پڑا ایان اگلے روز اس دنیا سے ناراض ہو کر چلا گیا۔

شہریار ابھی بھی اسی آس میں ہے کہ گھر جاتے ہوئے ایان اور وہ چیز لیں گے۔ لیکن اس بار ایان چار کاندھوں پر ماتم کرتا ہوا گیا اور یہ کہہ گیا کہ اور کتنے معصوموں کی جان لو گے۔ ایان کی زندگی جتنی تھی اس نے جی لی مگر حکومتی نااہلیوں پر یہی دلیل دے کر تم کب تک پردہ ڈالو گے؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ