پاکستان کی پہلی خاتون سٹیشن منیجر ایک دن بھی چارج مکمل نہیں کر پائیں

پاکستان ریلوے کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر یونین کے دباؤ میں  پی آر لاہور ڈویژن میں اسسٹنٹ ٹرانسپورٹ آفیسر 1 (اے ٹی او 1)  سیدہ مرضیہ زہرہ کو سٹیشن مینجر کا دیا گیا اضافی چارج کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے لیا۔

سیدہ مرضیہ زاہرہ پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان سے تعلق رکھتی ہیں۔

پاکستان ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار سٹیشن منیجر کا چارج لینے والی خاتون کو چند گھنٹوں بعد ہی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

موقر اخباری ذرائع کے مطابق سیدہ مرضیہ زہرہ لاہور سٹیشن منیجر کا چارج ایک دن بھی برقرار نہیں رکھ سکیں کیونکہ مبینہ طور پر سٹیشن ماسٹرز کی ایک طاقتور یونین نے ان کی تقرری پر سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر یونین کے دباؤ میں  پی آر لاہور ڈویژن میں اسسٹنٹ ٹرانسپورٹ آفیسر 1 (اے ٹی او 1)  سیدہ مرضیہ زہرہ کو سٹیشن مینجر کا دیا گیا اضافی چارج کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے لیا۔

جمعے کو پی آر انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں سیدہ مرضیہ زہرہ کو لاہور سٹیشن منیجر کا اضافی چارج سونپا گیا تھا۔

اس کے ردعمل میں سٹیشن ماسٹرز ریلویز ایسوسی ایشن (سمپارس)  نے سٹیشن منیجر کی نشست پر ایک سی ایس ایس آفیسر کی تقرری کے فیصلے پر احتجاج کیا۔

خاتون سٹیشن مینیجر کی تقرری پر مزاحمت کیوں کی گئی؟

سیدہ مرضیہ زہرہ کی تعیناتی کے فورا بعد سٹیشن ماسٹرز ریلویز ایسوسی ایشن (سمپارس) کے چیئرمین محمد عرفان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا تھا کہ ریلوے قوانین کے مطابق سٹیشن مینیجر کے عہدے پر تقرری کسی بھی سٹیشن ماسٹر کی ہوسکتی ہے لیکن مینجمنٹ یا آپریشنز شعبہ سے کمیشنڈ آفیسر کو تعینات نہیں کیا جاسکتا ہے۔

'اے ٹی او سیدہ مرضیہ کی تعیناتی پر بھی اسی لیے اعتراض تھا کیوں کہ یہ سٹیشن ماسٹرز کی حق تلفی اور خلاف قانون تھی۔'

اس تعیناتی پر ان کا موقف تھا کہ اس بارے میں ریلوے حکام کو تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے اگر انہیں ہٹا کر سٹیشن ماسٹر کو تعینات نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ٹرین آپریشن جام کر دیں گے۔

’ریلوے حکام سٹیشن ماسٹرز کو سائیڈ لائن کر رہے ہیں۔ سٹیشن مینیجر جیسے اہم ترین عہدے پر ناتجربہ کار خاتون کی تعیناتی نظام میں خرابی کا سبب بنے گی۔ کیونکہ سٹیشن ماسٹر کو ٹرینوں کی تیاری، بکنک آفس، فریڈ سمیت پورے عملہ کی کارکردگی پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مذکورہ گفتگو میں یہ بھی کہا تھا کہ ’اس سے پہلے الیاس بھٹی سٹیشن ماسٹر کو ترقی دے کر لاہور کا سٹیشن مینیجر لگایا گیاتھا لیکن افسران نے سٹیشن کی گھڑیاں خراب ہونے کا بہانہ بناکر انہیں عہدے سے ہٹا کر اے ٹی او خاتون کو تعینات کر دیا ہے۔‘

سیدہ مرضیہ زاہرہ کون ہیں؟

سیدہ مرضیہ زاہرہ پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادن خان سے تعلق رکھتی ہیں۔

انہوں نے مینجمنٹ میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ ریلوے لاہور ڈویژن میں بطور اسسٹنٹ ٹریفک آفیسر ون کام کر رہی ہیں جس کے ساتھ ساتھ اب انہیں سٹیشن مینیجر لاہور کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا۔

سیدہ مرضیہ زاہرہ نے اپنی تعیناتی کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ریلوے کی تاریخ میں وہ سٹیشن مینیجر کے عہدے پر کام کرنے والی پہلی خاتون افسر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری محنت سے کام کر رہی ہیں اور ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

’مشکلات کے باوجود دفتری کاموں کے ساتھ پورے سٹیشن پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہی ہوں اور اس میں مزید بہتری کی کوشش کر رہی ہوں۔‘

ان کے مطابق وہ ریلوے حکام کی جانب سے اس تقرری پر فخر محسوس کرتی ہیں چاہے ان کی تعیناتی عارضی ہو۔

وہ اس سے قبل بھی انکوائری، پلیٹ فارمز کا معائنہ اور ٹرینوں کی آمدورفت بروقت یقینی بنانے کا کام بخوبی کر رہی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر