واسو پہلے شہزاد رائے کو ہی کیوں نہ ملے، وجہ بتا دی گئی

’میں گذشتہ دس سالوں سے واسو سے مستقل رابطے میں تھا۔ لیکن جب میرے پورے خاندان کو کرونا ہو گیا تو واسو نے مجھے فون نہیں کیا کیوں کہ وہ مجھے زیادہ پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے اور وہ اس بار حکومت سے مدد چاہتے تھے۔'

(ٹوئٹر)

معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کے ٹی وی پروگرام 'واسو اور میں' سے شہرت پانے والے بلوچی گلوکار واسو خان ان دنوں ’انتہائی غربت‘ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

2011 میں شہزاد نے یوٹیوب پر بلوچستان کے ایک گاؤں سے واسو خان کو ڈھونڈا تھا جو اپنی ویڈیوز میں عموماً پاکستانی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

شہزاد رائے نے ان کے ساتھ مل کر مشہور گانا  ’اپنے الو‘ بنایا، جس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام کی وجہ سے واسو کافی مقبول ہوئے تھے۔ لیکن پھر سب کچھ بدل گیا اور وقت کے ساتھ واسو گمنامی کی اندھیرے میں غائب ہو گئے۔

کئی برسوں بعد حال ہی میں علی عمران جونیئر کے ٹوئٹر ہینڈل سے بلوچی گلوکار کی تصویر شیئر کی گئی اور لکھا کہ ’گلوکار شزاد رائے کا پرانا دوست واسو دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر ہے، کوئی شہزاد رائے کو جگا دے۔‘

اس ٹویٹ کو بے شمار لوگوں نے لائیک اور ری ٹوئیٹ کیا۔

اس ٹویٹ کے بعد شہزاد رائے کی جانب سے رد عمل سامنے آیا جس میں انہوں نے واسو کے نہ ملنے کی وجہ بتاتے ہوئے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے واسو کا ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا۔

اس پیغام میں بلوچی گلوکار کا کہنا تھا کہ ’میں نے 2018 میں ایک ڈرامے میں کام کیا تھا۔ شہزاد بھائی نے مجھے گھر لے کر دیا پھر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے بیج دیا۔ انہوں نے میرے بیٹے کو نوکری بھی دی تاہم وہ بیمار ہو گیا اس طرح وہ کام بھی چھوٹ گیا۔ ہمارا علاج معالجہ شہزاد بھائی کراتے رہے اور ہماری مالی مدد بھی کرتے رہے۔ پھر کرونا وائرس آیا تو مجھے شہزاد کو تنگ اچھا نہیں لگا اس لیے کوئٹہ چلا آیا اور اپنا تھوڑا بہت علاج معالجہ بھی کرایا اور پھر لیاقت شوانی صاحب آئے جنہوں نے میرے گھر کا مشاہدہ کیا جس کا کرایہ دس ہزار ہے لیکن اوپر چھت بھی نہیں ہے۔‘

واسو اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ جان کمال سے درخواست  کرتے ہیں کہ حکومت بلوچستان ان کو گھر خرید کر دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے ویڈیو پیغام میں شہزاد رائے نے کہا: ’میں گذشتہ دس سالوں سے واسو سے مستقل رابطے میں تھا۔ لیکن جب میرے پورے خاندان کو کرونا ہو گیا تو واسو نے مجھے فون نہیں کیا کیوں کہ وہ مجھے زیادہ پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے اور وہ اس بار حکومت سے مدد چاہتے تھے۔ میں واسو سے ملنے کوئٹہ آیا ہوں۔ انہوں نے مجھے وزیراعلیٰ کے پاس لے جانے کے لیے کہا تھا۔ میں اور واسو آج چیف منسٹر سے ملے۔ انہوں نے جام کمال کو بتایا کہ وہ اپنا گھر فروخت کر چکے ہیں جو میں انہیں خرید کر دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے واسو کو مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘

شہزاد رائے کی حالیہ ٹوئٹ میں انہیں واسو کی امداد پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل