مانگ مانگ کر نوکریاں لینے والے

مجھے سفارت کاری میں صحافیانہ دلچسپی کے علاوہ کوئی اور کشش نظر نہیں آتی۔ نہ میں نے کبھی سفیر بننے کا سوچا، نہ کبھی کسی سیاسی جماعت نے مجھے بالواسطہ یا بلا واسطہ اس قسم کی کوئی تجویز یا اشارہ دیا۔

آج کل یہ قسم برساتی مینڈکوں اور بے ذائقہ آموں کی طرح ہر کونے میں دستیاب ہے۔

چول اسم بھی ہے اور فعل بھی۔ بحالت اسم اس سے مراد وہ شخص ہے جو بےمغز باتیں کرنے کا ماہر ہو۔ نہ اس کو اپنی عزت اور ساکھ کی پرواہ ہو اور نہ صداقت سے کوئی رغبت۔

بشکل فعل اس سے مراد لغو گوئی کے تمام عناصر ہیں۔ ہر انٹ شنٹ اور گھٹیا و غیرمعیاری بیانیہ اس زمرے میں آتا ہے۔ جب اسم اور فعل مل جاتے ہیں تو چول اعظم جنم لیتا ہے۔

آج کل یہ قسم برساتی مینڈکوں اور بے ذائقہ آموں کی طرح ہر کونے میں دستیاب ہے۔ اسی قبیلے کے ایک فرد نے پچھلے دنوں یہ بے پر کی اڑائی کہ میں کسی دور میں امریکہ کا سفیر لگایا جانے لگا تھا۔ اس چول کی حقیقت بیان کرنے سے پہلے میں کچھ پس منظر سے آگاہی فراہم کر دوں۔ یہ بےتکی افواہ دو اڑھائی سال سے گردش میں جان بوجھ کر رکھی ہوئی ہے۔

اس کے اڑانے والے وہی مخصوص ذرائع ہیں جو ذرائع ابلاغ میں اپنے گھس بیٹھیوں کے ذریعے خالی کارتوسوں کے ہوائی فائر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چند ایک اعلی عہدیداران نے بھی یہ افواہ میرے سامنے خفیہ خبر کی طرح رکھی اور جب ان کو بتایا گیا کہ یہ سستے واٹس ایپ گروپوں میں گھومنے والی رد کی ہوئی کہانی ہے تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔

انہی اعلی عہدیداران میں سے ایک نے مجھ پر یہ گولہ اڑھائی سال بعد پھر پھینکا اور جب ان کو دوبارہ سے یاد کروایا گیا کہ پہلے کی طرح اب بھی اس کٹی پتنگ میں کوئی تن نہیں ہے اور یہ کہ وہ میاں بھلکڑ کی طرح اس کو بار بار دھرا کر اپنے عہدے کی ساکھ متاثر کر رہے ہیں تو وہ اصرار کرنے لگے کہ انہوں نے تو یہ بات پہلی مرتبہ سنی اور کہی ہے۔

ستم ظریفی یہ تھی کہ یہ موصوف خود اپنی نوکری کے لیے منت ترلے کر کے اس مقام تک پہنچے تھے جہاں سے بیٹھ کر وہ دوسروں کو  سیاسی طور پر متعصب ہونے کے طعنے دے رہے ہیں۔

اس مضحکہ خیز بیانیے کی مرکزی سازش یہ ہے کہ کسی طرح یہ ثابت کیا جائے میں بطور صحافی اپنے قلم اور کام کو بہتر معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔ لہذا بطور سفیر متعین کیے جانے والی کہانی بطور نام نہاد ثبوت بنائی گئی اور پھر وقفے وقفے کے بعد بطور چول کسی نہ کسی چول کے ذریعے نشر کی جاتی رہی۔

مجھے سفارت کاری میں صحافیانہ دلچسپی کے علاوہ کوئی اور کشش نظر نہیں آتی۔ نہ میں نے کبھی سفیر بننے کا سوچا، نہ کبھی کسی سیاسی جماعت نے مجھے بالواسطہ یا بلا واسطہ اس قسم کی کوئی تجویز یا اشارہ دیا۔ ویسے بھی سیاسی طور پر سفیر بننا کون سا بڑا کمال ہے۔ دو، چار خوش آمدی اکٹھے کر لیں اور ایک آدھ فون کروا دیں تو سفیر بن سکتے ہیں۔ اس میں کون سی بڑی سائنس ہے۔ یہ کیا کارنامہ ہے؟

لیکن تاریخ کی درستگی کے لیے میں آپ کو بتا دوں کہ مجھے ایک مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کے لیے کہا گیا اور وہ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف کے کابینہ کے اہم رکن نے بطور لالچ کے یہ تجویز پیش کی تھی۔ میں نے شکریہ کہہ کر انکار کر دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے 2013 اور 2018 کے انتخابات کروانے والی نگران حکومت میں وزارت لینے کو نہ کر دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسے پچھلی حکومت میں صحافیانہ خدمات پر صدارتی ایوارڈ کو اور چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے میڈیا کالونی میں سستے داموں کارنر پلاٹ کو ہاتھ جوڑ کر پرے کر دیا۔ صحافی کا کام مراعات لینا نہیں۔ اس کا کام اس کا مرتبہ ہے۔ اس کی ساکھ اس کا عہدہ۔

اگر کسی کو اپنا پیشہ بدلنے کا شوق ہے تو وہ یہ شوق صحافت کو چھوڑ کر پورا کر سکتا ہے۔ لیکن پھر جو لوگ صحافت چھوڑ کر مراعات لیتے اور پھر واپس صحافی بن جاتے ہیں ان کی ترجیحات بھی کافی گڈمڈ ہوئی ہیں۔

ریاست اور حکومت کی نمائندگی اور عوام کے حقوق اور آرا کو بیان کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں۔ آپ ایک وقت میں یا یکے بعد دیگرے دونوں کام نہیں کر سکتے۔ ایک کو چننا پڑتا ہے۔

لیکن چونکہ پاکستان میں مکس چورن بک جاتا ہے لہذا اس قسم کے ملے جلے پیشہ ور آپ کو ہر شعبے میں ملتے ہیں۔ مجھ پر بطور سفیر متعین ہونے کی بےسروپا خبر نما تہمت لادنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ان چولوں کے ذریعے اگلے پاؤں پر کھیلتے ہوئے کی جانے والی تنقید کو کسی طرح سے متنازع ثابت کیا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ خود کو معتبر اور نقادوں کو متعصب قرار دے کر اپنی اور اپنی جماعت کی پھیلائی ہوئی نحوستوں کو برکتوں میں بدل سکتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ چولیں مارنے والے یا تو خود بیرونی شہریت لینے کے لیے گورا صاحب کے پاؤں پڑنے پر ہر وقت تیار ہوتے ہیں یا اپنا تمام خاندان ملک سے باہر بھجوا کر پاکستان میں حب الوطنی کے جھنڈے صرف اس وقت تک بلند رکھتے ہیں جب تک ان کی نوکری کی مدت ختم نہیں ہو جاتی۔

نوکری کی ذمہ داریوں سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہی نہ ان کو پاکستان کا مفاد یاد رہتا ہے نہ کشمیر کے عوام کی امنگیں۔ ان کے خون کو گرماتی ہیں۔ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے شوکت عزیز کی طرف سے کوئی بیان سنا؟ کیا اس شخص نے کبھی کشمیریوں کے لیے کوئی فنڈ اکٹھا کیا؟ کوئی ایک ٹویٹ، کوئی ایک میٹنگ؟

کیا وہ اب بھی اپنے کوٹ پر پاکستان کا چھوٹا سا جھنڈا لگاتے ہوں گے؟ کیا وہ مودی کے مظالم کے بارے میں سوچتے ہوں گے۔ اور وہ جنرل پرویز مشرف کدھر ہیں آج کل؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مظلوم کشمیریوں کے لیے اپنی رنگین محفلوں میں سے لابنگ کرنے کے لیے کچھ وقت صرف کیوں نہیں کرتے۔ جنرل راحیل شریف بھی خاموش ہیں۔ ان کے پاس تو اسلامی دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ عسکری ساز و سامان کی ریل پیل، اتنا دبدبہ، اتنا رعب اور ایک ایسے لشکر کی سربراہی کہ جس کے بارے میں سعودی عرب سے نوکری لیتے وقت ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلم دنیا کے تمام دشمنوں کو نیست و نابود کر دے گا۔ وہ کیوں خاموش ہیں؟ بڑھ چڑھ کر کیوں نہیں بولتے؟ جنگ کی نہ سہی امن کی بات ہی کر لیں۔

لیکن ایسی آواز آپ کو صرف اس وقت سنائی دے گی جب ان کو کسی ٹی وی چینل پر انٹریو کا موقع ملے گا۔ یہ کیسا جذبہ ایمانی ہے جو کیمرے اور نوکری کی مرہون منت ہے۔ یہ سرزمین سے کیسی محبت ہے کہ خاندان کے خاندان ملک سے باہر رکھے ہوئے ہیں لیکن مراعات اس بیچارے ملک سے کھینچ کر اپنی جیب میں ڈال رہے ہیں۔

مانگ مانگ کر نوکریاں لینے والے جب دوسروں پر فائدہ اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں تو چول لگتے ہیں۔ اگرچہ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا جو کہ ایک بہت بڑی سزا ہے۔ اگر وہ جان پائیں تو۔

آہستہ آہستہ پاکستان میں اکثر سیاستدانوں کی جگہ چول دانوں نے لے لی ہے۔ جو اپنے افکار اور اعمال کی وجہ سے اب اتنے نمایاں ہو گئے ہیں کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

ان کو جاننا اور پہچاننا صرف اس وجہ سے ضروری ہے کہ  ہم یہ ذہن نشین کر لیں کہ چول اسم بھی ہے اور فعل بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ