لاہور کی مقتولہ صحافی جن کا اخبار نکالنے کا خواب ادھورا رہ گیا

آر ایس ایف نے لاہور کی صحافی عروج اقبال کے قتل کی تحقیقات کیں، ان کے خاندان، رفقا اور پولیس سے پوچھ گچھ کی تاکہ اس قتل پر روشنی ڈالی جاسکے جس میں کسی کو سزا نہیں ہوئی – ایک المناک واقعہ جو روایات اور رویوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

(آر ایس ایف)

سر میں ایک ہی گولی لگنے سے نوجوان پاکستانی صحافی عروج اقبال کی لاہور میں نومبر 2019 کو جان چلی گئی۔

صحافتی تحفظ کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے آج جاری اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کی تحقیقات کیں، عروج کے خاندان، رفقا اور پولیس سے پوچھ گچھ کی تاکہ اس قتل پر روشنی ڈالی جاسکے جس میں کسی کو سزا نہیں ہوئی – ایک المناک واقعہ جو روایات اور رویوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

وہ پاکستان کی پہلی خاتون صحافی بننا چاہتی تھیں جو اپنا اخبار شروع کرسکیں۔ ان کا خواب انتہائی پرتشدد طریقے سے قتل ہونے کی وجہ سے شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ عروج اقبال پاکستان کی تاریخ میں پہلی خاتون صحافی بن گئی ہیں جن کو ان کے کام کی وجہ سے مارا گیا۔

’چائس‘ نامی اخبار کے پہلے شمارے کی اشاعت سے چند گھنٹے قبل جس کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی، اس 27 سالہ خاتون کی میت 25 نومبر کو لاہور ایک ایک گلی میں خون میں لت پت ملی۔ آر ایس ایف کی مطابق سب سے بڑا مشتبہ شخص اب بھی ان کا سابق شوہر ہے۔

تحفظ کا فقدان

آر ایس ایف کے ایشیا پیسفک ڈیسک کے سربراہ ڈینیل باسٹرڈ نے کہا کہ ’عروج اقبال کا قتل پاکستان میں فعال خواتین صحافیوں کی زندگیوں میں تحفظ کے مکمل فقدان کی غمازی کرتا ہے۔ وہ سینیئر مردوں کی مسلسل نفرت، تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ رہتی ہیں۔‘

انہوں نے پاکستان کی اعلی عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمے میں سزا سے بچنے کے استثنا پر توجہ دیں۔ ’ہمیں خدشہ ہے کہ اگر چیزیں تبدیل نہ ہوئیں تو مزید خواتین صحافی ہلاک کی جاسکتی ہیں۔‘

آر ایس ایف نے عروج کی والدہ طاہرہ بیگم سے پرانے لاہور میں واقع دو کمروں کے مکان کے صحن میں ملاقات کی۔ ان کا فورا کہنا تھا کہ ’عروج کو اس کے صحافتی کام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ’آخری مرتبہ جب ہماری بات ہوئی تھی تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اگلے روز اپنا دفتر کھولنے کی اس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ بدقسمتی سے اسے ایسا کرنے سے پہلے ہی مار دیا گیا۔‘

عروج کے بھائی یاسر اقبال کو دکھ بھری کال 25 نومبر کی رات 10 بج کر 44 منٹ پر موصول ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں سر میں گولی ماری گئی ہے۔ اگلی صبح انہوں نے جائے وقعوں سے قریب ترین قلعہ گجر سنگھ پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائی۔

تشدد اور ہراسیت

یاسر کے مطابق عروج کا مبینہ قاتل اور کوئی نہیں ان کا سابق شوہر دلاور علی تھا جو ’اینٹی کرائم‘ نامی اخبار کا مالک تھا۔ عروج اس جرائم کی کہانیوں کی خصوصیت والے اخبار میں کام کیا کرتی تھی۔ یاسر نے قتل کے ایک ہفتے بعد آر ایس ایف کو بتایا کہ ’وہ (دلاور) اپنا اخبار شروع کرنے سے منع کر رہا تھا۔‘ ان کی ایف آر میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ دلاور نے میری بہن کو مارا ہے یا مروایا ہے۔‘

قتل سے تین روز قبل، عروج نے اسی تھانے میں دلاور کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کی شکایت درج کروائی تھی۔ ان کی ایف آئی آر دلاور کے تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کی لمبی فہرست ہے۔ اگلے روز یعنی 23 نومبر کو عروج اپنے خاندان کے پاس آئی اور بتایا کہ اسے خوف ہے دلاور اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

عروج نے دلاور کی شادی کی پیشکش قبول کرنے سے قبل ڈیڑھ سال تک اینٹی کرائم میں کام کیا تھا۔ عروج کی والدہ کے مطابق حالات شادی کے فورا بعد سے خراب ہونا شروع ہوگئے تھے کیونکہ دلاور پرتشدد اور ایک ’برا شوہر‘ تھا۔

ماسٹرمائنڈ؟

ان کے خلاف تمام شواہد کے باوجود دلاور کو نہ کبھی گرفتار کیا گیا اور نہ ان پر کوئی مقدمہ بنایا گیا۔ انہوں نے پولیس کو ایک جواز دیا ہے کہ وہ عروج کے قتل کی شام مالدیپ میں تھا اور پاکستان اگلے دن یعنی 26 نومبر کو پاکستان لوٹا تھا۔

لیکن دلاور کے مالدیپ میں ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کے قتل کا انتظام نہیں کرسکتا تھا۔ عروج قتل کیس کی تحقیقات میں شامل ایک پولیس افسر محمد اقبال نے آر ایس ایف کو بتایا کہ ’یہ واقعی ممکن ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ انہیں کئی ایسے دیگر واقعات معلوم ہیں جن میں ’ملزم بیرون ملک چلا گیا یا کسی چھوٹے سے جرم میں گرفتار بھی ہوگئے تاکہ اپنے نہ ملوث ہونے کو ثابت کرسکیں۔‘  

خواتین پاکستان میں صحافیوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے چھوٹی اقلیت ہیں۔ ملک کے 19000 سے زائد صحافیوں میں خواتین کی تعداد محض 750 ہے یعنی محض 4 فیصد۔

آر ایس ایف نے ایک ریٹائرڈ سینیئر پولیس افسر کو یاسر کی ایف آئی آر کی نقل دکھائی۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ ’مقتولہ کو کوئی خطرہ سمجھ رہا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ان کے پاس کچھ راز ہو سکتے ہیں اور اگر یہ راز عام کر دیئے جاتے تو یہ اس شخص کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتے تھے۔‘ انہوں نے اپنے مفروضے میں حقیقت ملائی کہ عروج اپنا آن لائن اخبار شروع کر کے اپنے سابق شوہر (اور سابق مدیر) کے مقابلے میں آ رہی تھیں۔

خاندان کو مسلسل دھمکیاں

مختصر یہ کہ کئی قابل یقین شبہات مل کر تھوڑا شک چھوڑتے ہیں کہ قتل کی وجہ کیا تھی اور ممکنہ طور پر دلاور ماسٹرمائنڈ تھا۔ لیکن دلاور کافی طاقتور ہے۔

دلاور کے خلاف شکایت درج کروانے کے فورا بعد یاسر کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ’مجھے تسلسل سے دلاور اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں، اور میرے چھوٹے بھائی کو سڑک پر ٹھگوں کے ایک گروہ نے روکا بھی جنہیں نے اسے بتایا کہ اگر وہ اپنے الزامات سے واپس نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

 دھمکیوں کے تسلسل نے عروج اور یاسر کی ماں کو ڈرا دیا۔ اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا حصول ایک خوفناک خواب ثابت ہو رہا تھا۔ والدہ نے کہا کہ ’ہمیں مسلسل نئی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ میں خوفزدہ ہوگئی۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا خاندان ایک اور صدمے سے دوچار ہو۔ عروج کے قتل کے بعد کا وقت بہت تناؤ والا تھا جس سے مجھے عارضہ قلب لاحق ہوگیا ہے۔‘

پولیس کا کردار

پنجاب جہاں کا لاہور دارالحکومت ہے سرداری نظام اب بھی معاشرے کے کئی پہلوؤں پر حاوی ہے۔ سیاسی اشرفیہ اکثر بدعنوانی کے الزام کا سامنا کرنے والی پولیس کی مدد سے چلتی ہے۔ اپنی موت سے تین روز قبل درج کوائی گئی اپنی شکایت میں عروج نے ’بعض پولیس اہلکاروں پر دلاور کے مفادات ‘ کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ اقبال خاندان جن حالات سے گزرا ہے اس سے واضح ہے کہ معاشرتی درجہ بندی میں کم تر درجے کے لوگ کس طرح طاقتوروں کی وجہ سے مصیبتیں برداشت کرتے ہیں۔

عروج کے قتل کے الزام سے بچنے کی خاطر دلاور نے ایسی حکمت عملی اختیار کی جس سے وہ دوہرا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وہ موت کو اس کے بھائیوں کو ڈرانے اور صوبائی اسمبلی سے تعلق کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے رکن اسمبلی چوہدری شہباز سے رابطہ کیا اور ان کے ذریعے خاندان سے عدالت سے باہر مک مکا کروانے کی کوشش کی۔

متوازی انصاف

شہباز نے مقامی کونسل یا ’پنچایت‘ کا استعال کیا۔ یہ وہ نظام ہے جسے امیر اکثر سزا سے بچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پھر تیز پیش رفت ہوئی۔ قتل کے چھ ہفتوں بعد 15 جنوری 2020 کو عروج کے بھائی یاسر، والدہ طاہرہ بیگم اور مشتبہ شخص دلاور نے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ آی ایس ایف نے اس کا کاپی حاصل کی ہے۔ ایک مقام پر یہ کہتا ہے کہ ’میں حلفا کہتا ہے کہ میں اور میرا خاندان دوسرے فریق (دلاور علی) کو ملزم مانتے ہیں جس نے میری بہن عروج اقبال کو قتل کیا یا اسے قتل کروایا۔ پنچایت میں فریق اول (یاسر) اور اس کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ فریق دوئم کو معاف کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ سے معافی مانگ سکے۔ دستخط: یاسر اقبال۔‘

’مکمل طور پر کمزور‘

اسلامی روایت سے اخذ کریمنل قانون کے تحت جس کا پنچایت حوالہ دیتی ہے تنازعات قصاص اور دیت کے ذریعے حل کیئے جاتے ہیں۔ قصاص کے تحت ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ جبکہ دیت میں مجرم شخص متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کو مالی معاوضہ ادا کرتا ہے۔

یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس کو یاسر اقبال سے زبردستی منوایا گیا۔ بہن کی قتل کا معاوضہ اسے دس لاک روپے (تقریبا 5200 یوروز) جو اسے دلاور علی نے دیے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے نا چاہتے ہوئے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ’چونکہ دلاور انہیں اتنا زیادہ ڈرا دھمکا رہا تھا اور وہ خطرے میں تھے اور چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ نظام (انصاف) مکمل طور پر بےاثر ہے۔ اس لیے ہم نے دستخط کیئے۔‘

جب ایک خاتون صحافی کا قتل ’غیرت‘ کے نام پر جرم کے طور پر دیکھا جائے جو مالی ادائیگی سے طے ہوسکتا ہے تو قانونی حکام کے لیے کیا رول رہ جاتا ہے؟ ان عورتوں کے تحفظ کے لیے جنہیں گھروں یا دفتروں میں تشدد کا سامنا ہے پنجاب کی صوبائی حکومت نے ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ (ڈبلیو ڈی ڈی) قائم کیا۔

بےاختیار حکام

ڈبلیو ڈی ڈی کے نائب سیکرٹری جنرل آصف الرحمان کا کہنا ہے کہ ’ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ کی نگرانی کرتے ہیں۔‘ جب ان سے آر ایس ایف نے عروج اقبال کے کیس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اس بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا۔ ’ہمیں کارروائی کے آغاز کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر متاثرہ فریق نے کوئی شکایت نہیں کی ہے تو ہم کارروائی نہیں کرسکتے ہیں۔‘

پیشہ ورانہ علیحدگی

عروج کے قتل پر صحافیوں کے تحفظ کی تنظیموں کی جانب سے بہت تھوڑا یا مکمل طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کی والدہ نے شکایت کی کہ ’ہماری صحافتی برادری سے کوئی مدد کچھ بھی نہیں ملا ہے۔‘

پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر قمر بھٹی نے اعتراف کیا کہ ’ہم نے عروج کا قتل اس طرح کور نہیں کیا جس طرح سے کیا جانا چاہیے تھا۔‘ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پنجاب کے صحافیوں، یونینوں اور پریس کلبوں نے خواتین صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔‘

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عروج اقبال پیشے کے اندر قدرے اکیلے پن کا شکار تھیں۔ وہ شاید صحافتی یونین یا پریس کلب میں شمولیت سے آگاہ نہیں تھیں جو پاکستان کے اکثر مرد صحافی کرتے ہیں۔

گھبراہٹ

یونین یا پریس کلب کا رکن ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ صحافی اپنے ساتھیوں کے مدد سے خطرے کے پہلے اشارے پر حکام پر دباؤ ڈالنے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ فری لانس تحقیقاتی صحافت کرنے والی خاتون صحافی عفیفہ نصر اللہ کہتی ہیں کہ ’انہوں نے واضح طور پر یونین اور پریس کلب کو مدد کے بنیاد کے طور پر نظر انداز کر کے ایک بڑی غلطی کی۔‘

’میرا نہیں خیال کہ عروج نے کوئی حفاظتی تربیت حاصل کی ہوگی جو اسے خطرے کی اعلامات اور اپنی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد دیتی۔ دراصل کسی بھی خاتون صحافی نے جو یونین اور پریس کلب کی رکن ہیں ایسی کوئی تربیت حاصل کی ہے۔ عروج کے قتل سے لاہور کی صحافی خواتین گھبرائی ہیں اور اس نے پنجاب میں دیگر خواتین صحافیوں کو غیرمحفوظ ہونے کا احساس دلایا ہے۔‘

اقلیت

خواتین پاکستان میں صحافیوں کی مجموعی تعداد کے اعتبار سے چھوٹی اقلیت ہیں۔ چند اعدادوشمار کے مطابق ملک کے 19000 سے زائد صحافیوں میں خواتین کی تعداد محض 750 ہے یعنی محض 4 فیصد۔ اس کے نتیجے میں ان کے مخصوص حقوق بحثیت خاتون صحافی نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔

میڈیا سپشلسٹ عدنان رحمت کے بقول ’یہ نا قابل قبول ہے۔ خواتین صحافیوں کو بھی مناسب تکنیکی وسائل جیسے کہ جسمانی اور ڈیجٹل سکیورٹی سے آگہی مگر خصوصی طور پر ان کی ضروریات کے مطابق تربیت کا حق ہے۔‘ ایسے حالات میں ایسی تربیت خواتین صحافیوں کی یکجہتی اور نیٹ ورکنگ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہونی چاہیے۔ ’کئی شہروں میں خواتین صحافی پہلے سے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ واٹس ایپ پر غیرروایتی گروپ تشکیل دی رہی ہیں تاکہ ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بڑا چیلنج

عدنان کا مزید کہنا تھا کہ ’باضابطہ اور باقاعدہ رابطے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں تمام خواتین صحافیوں کی تربیت کی جاسکے اور پیشہ ورانہ مدد کا نظام جس میں شکایت ریکارڈ کرنے کا نظام، تیز سکیورٹی فراہم کرنے کا نظام، خطرے کے الرٹس، دستاویزی شکل، ذہنی کونسلنگ اور اس حد تک کہ قانونی مدد کے لیے مالی مدد شامل ہو تیار ہوسکیں۔‘

اپنے خاندانی مکان کے صحن میں طاہرہ بیگم نے بتایا کہ وہ کیا تھا جس نے ان کی بیٹی کو صحافی بننے پر مجبور کیا۔ ’وہ ہمیشہ سیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے تعلیم میں بہت دلچسپی لی اور کام کرکے اپنی مدد خود کی اور وہ میری بھی گھر کے کاموں میں مدد کیا کرتی تھی۔ اپنا اخبار نکالنا اس کا خواب تھا۔‘

لیکن یہ خواب صحافتی برادری کے اندر سے ٹوٹ گیا۔ والدہ نے بتایا کہ ’ان پر پہلے بھی دو حملے ہوچکے تھے۔ ایک مرتبہ اس نے بتایا کہ اس پر جان لیوا حملہ ہوا تھا لیکن وہ بچ گئی۔ میں اسے جواب میں صحافی بننے سے روکتی تھی لیکن وہ کہتی تھی کہ اماں سب ٹھیک ہے۔ کچھ نہیں ہوگا۔‘ اس نے یہی جملہ 23 نومبر کو بھی دوہرایا تھا۔ دو دن بعد اسے سر میں گولی مار دی گئی۔

پاکستان دنیا کے 180 ممالک کی فہرست میں آر ایس ایف کے 2020 ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں 145 ویں نمبر پر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر