ڈھائی من وزنی بوری اٹھا کر یوم آزادی منانے والے مزدور

اس ریلی میں کل 50 سے 60 مزدور حصہ لیتے ہیں جو 100 کلو گرام وزنی گندم کی بوری اٹھا کر منفرد انداز میں وطن سے محب کا اظہار کرتے ہیں۔

جہاں ملک بھر میں گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، مکانوں اور عمارتوں پر برقی قمقموں اور سبز ہلالی پرچم لگا کر پاکستان کا یوم آزادی منایا جاتا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو منفرد انداز میں یہ دن گندم کی بوریاں اٹھا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ سانگھڑ کا مزدور طبقہ ہے جن میں شامل بھیل ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں نے اس سال بھی ڈھائی من وزنی گندم کی بوری اٹھا کر شہر بھر کا چکر لگایا۔

شنکر لال شاکا بھیل بھی ایسے مزدور ہیں جو گذشتہ چند سالوں سے باقاعدگی کے ساتھ ریلی کا حصہ بنتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ریلی میں ہندو اور مسلمان مزدور مل کر حصہ لیتے ہیں۔

ریلی شہر کی اہم  شاہروہوں سے گزرتی ہے جس میں محنت کش تقریباً پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔

اس ریلی میں کل 50 سے 60 مزدور حصہ لیتے ہیں جو 100 کلو گرام وزنی گندم کی بوری اٹھا کر منفرد انداز میں وطن سے محب کا اظہار کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شنکر کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی باقاعدگی کے ساتھ حصہ لیتے آ رہے ہیں اور تقریباً 25 سالوں سے شرکت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرہ جشن آزادی کی خوشی میں ہوتا ہے۔ یہ گشت جشن آزادی اور ملک کی ترقی کا اظہار ہے۔

شنکر کا کہنا تھا کہ مزدور طبقہ ملک کی ترقی میں پہلے بھی کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کردار ادا کرتے رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو