نیب کیس:کیا عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ واقعی خطرے میں ہے؟

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق آئندہ پیشی پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نیب کے سوالات کا جواب دے کر بے گناہ قرار پائیں گے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان کے جوابات سے نیب ٹیم مطمئن نہ ہوئی اور انکوائری شروع کی گئی تو انہیں عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

(اے ایف پی)

قومی احتساب بیورو(نیب)کی جانب سے مختلف سیاستدانوں پرکرپشن کے مقدمات پر سیاسی ہلچل گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن اور حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف نیب کی تحقیقات باخبر حلقوں میں زیادہ موضوع بحث بن رہی ہیں۔

مریم نواز کی پیشی پر ہنگامہ آرائی کے بعد وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی طلبی ہوئی اور 18اگست کودوبارہ پیش ہونے پر ایک سوال نامے کے ذریعے جوابات بھی مانگے گئے ہیں۔

عثمان بزدار کے خلاف نجی ہوٹل کو شراب فروخت کرنے کا غیر قانونی لائسنس جاری کرنے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اس کیس پر انہیں عہدے سے ہٹا کر نیا وزیر اعلی لانے کی خبریں بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق آئندہ پیشی پر وہ نیب کے سوالات کا جواب دے کر بے گناہ قرار پائیں گے جب کہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان کے جوابات سے نیب ٹیم مطمئن نہ ہوئی اور انکوائری شروع کی گئی تو انہیں عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے یا حکومت انہیں خود ہٹاکر متبادل وزیر اعلی لانے پر غور کرے کیونکہ انکوائری کی صورت میں ان کا عہدے پر رہنا غیر اخلاقی ہوگا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی میں وزارت اعلی کے متبادل ناموں کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔

وزیر اعلی سے نیب نے کیا جوابات مانگے ہیں؟

شراب لائسنس اجرا کیس میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو نیب حکام کی جانب سے بھجوائے گئے سوالنامے میں درج زیل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

-وزیر اعلی پنجاب سے ان کی تنخواہ، آمدن کے ذرائع اور اگر کوئی کاروباری آمدن ہے، یہ سب پوچھا گیا ہے۔

-گیس، بجلی ، ٹیلی فون، موبائل فون کے بلوں سمیت ملازمین کی تعداد سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

-وراثت میں حاصل کی گئی جائیدار سمیت منقولہ و غیر منقولہ جائیداروں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

-ایسے اثاثے جو خریدے گئے، لیز پر لیے گئے یا بذریعہ نیلامی و تحفے کی صورت میں وصول کیے گئے، ان کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ 

-ایسے اثاثے جوعثمان بزدار کی ملکیت نہیں رہے، وہ کب اور کسے فروخت کیے گئے ان کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ 

-وزیر اعلی پنجاب سے بیرون ملک دوروں کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ 

-وزیر اعلی پنجاب سے ان کے ذاتی بنک اکاونٹس سمیت اہل خانہ یا ان کے نام کریڈٹ کارڈز، قرضوں سمیت دیگر تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

-وزیر اعلی پنجاب سےبچوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر تفصیلات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

-عثمان بزدار سے پوچھا گیا ہے کہ وہ سیاست میں کب داخل ہوئے ، کون کون سے الیکشن میں حصہ لیا اور الیکشن اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

-ایسی جائیدادیں جو براہ راست ان کے نام نہیں یا کسی فیملی ممبر کے نام ہیں ان کی تفصیلات بھی پوچھی گئی ہیں۔

-سوالنامے میں واضح کیا گیاہے کہ تفصیلات نیب آرڈیننس کے سیکشن 19اور27 کے تحت طلب کی گئی ہیں۔

-غلط معلومات فراہم کرنے کی صورت میں نیب آرڈیننس کے شیڈول 4 کے تحت پانچ برس کی سزا ہو سکتی ہے ۔

ترجمان نیب لاہور ذیشان انور سے جب پوچھا گیاکہ کسی بھی کیس میں نیب کی جانب سے کتنی بار ملزم کو طلب کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ ہر کیس کی اپنی نوعیت ہوتی ہے۔اس لیے کوئی خاص فارمولا نہیں، جہاں ضرورت پڑتی ہے، بلالیاجاتاہے اور پھر انکوائری شروع کی جاتی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی کا کتنا امکان ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت مسترت جمشید چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ 'نیب کی جانب سے وزیر اعلی عثمان بزدار کو سوال نامہ دیاگیاہے۔وہ 18اگست کو دوبارہ نیب حکام کے سامنے سوالات کے جواب دیں گے جو اطمینان بخش ہوں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے سے متعلق وزیر اعلی کے پاس مکمل اور جامع جوابات ہیں اس لیے وہ بے گناہ قرارپائیں گے۔'

انہوں نے کہا کہ 'عثمان بزدارکی تبدیلی اور نئے وزیر اعلی کی نامزدگی سے متعلق پارٹی نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔'

تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 'جس طرح میاں نواز شریف کو انکوائری شروع ہونے پر وزارت عظمی کا عہدہ چھوڑنا پڑا ایسے ہی وزیر اعلی پنجاب اگر نیب کے سوالوں کا اطمنان بخش جواب نہیں دیتے اور ان کے خلاف انکوائری شروع ہوتی ہے تو انہیں یا خود استعفی دے دینا چاہیے یا وزیر اعظم کو خود انہیں ہٹا کر دوسرا وزیر اعلی بنانا چاہیے۔لیکن اگر وہ سوالات کے جوابات دیکر بے گناہ ثابت ہوتے ہیں پھر ان کے عہدے پر رہنے میں کوئی اعتراض نہیں۔'

امجد شعیب نے کہاکہ 'یہ کہنا قبل از وقت ہوگاکہ عثمان بزدار کے خلاف بننے والے کیس میں وہ ملوث ہوں گے یا نہیں۔کیونکہ ابتدائی طور پر کسی بھی الزام کا جواب مانگا جاتاہے اور جواب نہ ملنے پر ہی کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔اس لیے اخلاقیات کا تقاضا یہی ہے کہ اگر وہ اپنے اوپر الزامات کا جواب نہیں دیتے تو انہیں عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہے۔'

یاد رہے نیب کیس کے بعد وزیر اعلی پنجاب کی تبدیلی سے متعلق چہ مگویاں جاری ہیں۔کیونکہ سینئر وزیر عبدالعلیم خان اور صوبائی وزیر سبطین خان کو بھی نیب کیسوں میں گرفتاری سے پہلے مستعفی ہونا پڑا تھا۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ٹی وی ٹاک شو میں دعوی کیا کہ حکمران جماعت پنجاب میں تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے صوبہ میں دو مختلف سروے کرائے گئے ہیں جو کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق اطمنان بخش نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان