کرونا وبا کا مرکز بننے والے ووہان شہر میں زندگی واپس لوٹ آئی

کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد ووہان اور اس کا صوبہ ہیوبئے 23 جنوری کو لاک ڈاؤن میں چلا گیا تھا تاہم اپریل سے پابندیوں میں نرمی لائی گئی جب برطانیہ اور باقی دنیا میں انفیکشن عروج پر تھے۔

ویک اینڈ پر ووہان مایا واٹر پارک ہزاروں لوگوں نے ایک الیکٹرک میوزک فیسٹیول میں شرکت کی۔(اے ایف پی)

 

چین کے شہر ووہان جہاں سے کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کا آغاز ہوا میں اب زندگی آہستہ آہستہ معمول پر واپس آ رہی ہے اور حالیہ دنوں میں ایک واٹر پارک میں ہزاروں لوگوں کی تصاویر سامنے آنے کے بعد لوگ حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ویک اینڈ پر ووہان مایا واٹر پارک ہزاروں لوگوں نے ایک الیکٹرک میوزک فیسٹیول میں شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصاویر میں ہزاروں لوگوں کو سویمنگ کاسٹیوم اور گوگلز پہنے اور ہوا سے بھرے سویمنگ رنگز میں کانسرٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔

تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سماجی دوری کا خیال نہیں ہے اور نہ ہی کسی نے ماسک پہنا ہوا ہے۔ ایک پرفارمر نے تو ایک واٹر جیٹ بورڈ پر شائقین کے اوپر اڑ کر بھی دکھایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد ووہان اور اس کا صوبہ ہیوبئے 23 جنوری کو لاک ڈاؤن میں چلا گیا تھا تاہم اپریل سے پابندیوں میں نرمی لائی گئی جب برطانیہ اور باقی دنیا میں انفیکشن عروج پر تھے۔ چینی حکام کے مطابق مئی کے وسط سے ہیوبئے میں کرونا وائرس کی مقامی منتقیلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہجوم کو کم ہی رکھنے کے لیے واٹر پارک نے گنجائش سے 50 فیصد کم لوگوں کو ہی داخل ہونے دیا۔ زیادہ لوگوں کو پارک آنے پر مائل کرنے کے لیے پارک کی مینجمنٹ نے ویک اینڈ پر آنے والی خواتین کو ڈسکاؤنٹ دیے جس سے ٹکٹ کی قیمت نصف ہوگئی۔

صوبائی حکومت بھی اپنے شہریوں کو گھروں میں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ معیشت بحال ہوسکے۔ اس سلسلے میں اس نے عارضی طور پر ہیوبئے میں 400 سیاحتی مقامات پر داخلے کی فیس بھی ختم کر دی ہے۔

پارک میں رش کی تصاویر آن لائن حیرت کا باعث بنی کیونکہ اب بھی دنیا کے کئی حصوں میں لوگ سخت پابندیوں میں رہ رہے ہیں اور ایک جگہ پر زیادہ لوگوں کا جمع ہونا منع ہے۔

حالانکہ چین میں حالیہ مہینوں میں کچھ کچھ جگہوں پر وائرس کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں مگر یہ زیادہ تر ان ہی لوگوں میں تھے جو دورسرے ملکوں سے چین آئے تھے۔ حکام نے کئی ایسے متاثرہ شہروں میں فوراً لاک ڈاؤن بھی لگائے جو مقامی منتقلی کو روکنے میں موثر ثابت ہوا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا