’پچاس سال سے کم عمر افراد کرونا وائرس پھیلا رہے ہیں‘

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا وائرس کی وبا کے ’نئے فیز‘ کی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وائرس پھیلانے والے افراد وہ ہیں جنہں معلوم ہی نہیں کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

سڈنی میں ایک کار سوار کاکرونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)  کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسیفک کے ممالک میں اب 50 سال سے کم عمر افراد کرونا  وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بن رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق یہ افراد اس بات سے واقف نہیں کہ وہ کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے وبا کے 'نئے فیز' کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔

ڈبلیو ایچ اوکے مغربی پیسیفک ریجن کے ڈائریکٹر تیکاشی کاسائی نے آن لائن بریفنگ کے دوران بتایا کہ ان افراد میں سے بیشتر میں کرونا کی بہت کم یا کوئی علامات نہیں پائی جاتیں اور یہ افراد ادھیڑ عمر اور کم محفوظ افراد کو وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔'یہ وبا تبدیل ہو رہی ہے۔ وہ لوگ جن کی عمر 20، 30 یا 40 سال سے اوپر ہے وہ اس خطرے کو پھیلا رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد اس بات سے بے خبر ہیں وہ کرونا کی کچھ علامات سے متاثر ہیں یا ان میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔

'ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ کیسز کا دوبارہ سامنے آنا نہیں بلکہ میرا ماننا ہے کہ ہم ایشیا پیسیفک میں وبا کے ایک نئے فیز میں داخل ہو چکے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈبلیو ایچ او کے ڈیٹا کے مطابق وبا کے موجودہ مرحلے میں دیکھا گیا ہے کہ جاپان کے دو تہائی کرونا کیسز 40 سال سے کم عمر افراد کے ہیں۔ آسٹریلیا اور فلپائن میں سامنے آنے والے کیسز میں بھی نصف سے زائد تعداد اسی عمر کے افراد کی تھی۔

تیکاشی کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں اپنی کوششوں کو دگنا کرنا ہو گا تاکہ وائرس کہ غیر محفوظ طبقے میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔'

کچھ ممالک جہاں کسی حد تک کرونا کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا گیا تھا جیسے کہ نیوزی لینڈ، ویت نام اور جنوبی کوریا ،وہاں نئے کیسز کی بڑی تعداد سامنے آرہی ہے اور کئی شہروں میں دوبارہ سخت بندشیں اور لاک ڈاؤن بھی نافذ کیا جا چکا ہے۔ کاسائی کے مطابق خطے میں مخصوص اہداف منتخب کر کے بندشیں نافذ کرنے کی وجہ سے معاشی اور سماجی سطح پر کرونا کا دباؤ کم ہوا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ چیلنج باقی ہے 'جب تک وائرس پھیل رہا ہے اور ہم اس کے لیے امیونٹی نہیں پیدا کرتے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت