عربی زبان پر مہارت سے عرب لیڈروں کو حیران کرنے والی ڈاکٹر لبنیٰ

بیشتر پاکستانی اور عرب سرکاری وفود کے دوروں میں مترجم کے فرائض انجام دینے والی ڈاکٹر لبنیٰ فرح کا کہنا ہے کہ ایک ایسے دورے میں ان کے تلفظ سے سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے انہیں سعودی ہی سمجھ لیا۔

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز (نمل) میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ فرح گذشتہ تیس سال سے درس و تدریس کے علاوہ عربی مترجم کے طور پر کام کر رہی ہیں۔  

انہوں نے بیشتر پاکستانی اور عرب سرکاری وفود کے دوروں میں مترجم کے فرائض انجام دیے ہیں۔  

ڈاکٹر لبنیٰ جزیرہ نما عرب کے ممالک میں بولی جانے والی عربی کے تمام لہجوں پر عبور رکھتی ہیں۔ ان کی شستہ عربی سے کئی عرب رہنما بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کئی ایسے واقعات سنائے جب عرب وفود کے اراکین نے ان کی زبان عربی پر گرفت کی تعریف کی۔ 

سعودی اور پاکستانی وفود کی ایک ملاقات کا واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی رہنماوں نے روانی سے مقامی عربی زبان بولنے پر ان کی بہت تعریف کی۔ 

وہ بتاتی ہیں: 'عربی رہنما حیران ہوئے کہ میں مکہ میں بولی جانے والی مقامی عربی پر کیسے عبور رکھتی ہوں اور کتنے عرصے سے سعودی عرب میں مقیم ہوں؟ میں نے جب انہیں بتایا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان ہی میں رہتی ہوں تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔'

اسی طرح قطر کے ایک سرکاری دورے کے دوران بھی ڈاکٹر لبنیٰ نے قطری عہدے داروں سے داد و تحسین حاصل کی۔ 

ڈاکٹر لبنیٰ نے بتایا کہ وہ مختلف عرب ملکوں میں بننے والے ڈرامے دیکھتی ہیں۔ اور اس سے ان کی مقامی زبانیں سیکھتی ہیں۔ 

ڈاکٹر لبنیٰ نے مشہور پاکستانی ڈرامے 'دھوپ کنارے' کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے جو مختلف عرب ممالک میں دیکھا اور پسند کیا گیا۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین