پاکستانی کالے ریچھ کے بچوں کی ماں کو کس نے مارا؟ 

ایشیائی کالا ریچھ، جسے تبتی کالا ریچھ، ہمالیائی کالا ریچھ اور چاند ریچھ بھی کہا جاتا ہے ایک درمیانہ قامت، تیز پنجوں اور کالے رنگ کا حامل ریچھ ہے۔ جس کی پہچان اس کے سینے پر سفید رنگ سے انگریزی حرف 'V' جیسا نشان بنا ہوتا ہے۔

وادی نیلم کے گاؤں لڑی پالڑی کے لوگ باقی علاقوں کی طرح گرمیوں میں چار ماہ کے لیے اپنے مال مویشی لے کر اپنی بہکوں (ڈھوکوں) میں جاتے ہیں۔

اپریل کے مہینے میں ان لوگوں کو کالے ریچھ کے دو بچے ملتے ہیں جو ابھی تک اپنی آنکھیں بھی نہیں کھول سکتے۔

ان لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات کے سپروائزر کو مطلع کیا کہ یہاں ریچھ کے دو بچے ہیں اور ان کی ماں کہیں بھی نہیں ہے یہ بہت شور کرتے ہیں شاید یہ بھوکے ہوں۔

محکمہ جنگلی حیات کے سپروائزر سردار منظور نے بتایا کہ 'جب ہمیں یہ اطلاع ملی تو میں اپنی ساتھیوں کے ساتھ اس جگہ گیا۔ ہم نے دو دن ان کی نگرانی کی۔ لیکن دو دن گزرنے کے باوجود ان کی ماں اپنے بچوں کے پاس نہ آئی تو ہمیں یقین ہو گیا کہ ان کی ماں کہیں مر چکی ہے کیونکہ مادہ ریچھ اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی ہے اور اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو ایسے نہیں چھوڑتی۔ '

سردار منظور نے بتایا کہ ان کی ماں کے مرنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک انڈین گولہ باری اور دوسرا کوئی شکاری۔

'ہم نے اپنے مخبروں سے پتہ کیا لیکن کسی شکاری کے شکار کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ '

'جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈین آرمی کی طرف سے فائر کیے گے اکثر مارٹر گولے جنگلوں میں گرتے ہیں جن کی وجہ سے جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور قوی امکان یہی ہے کہ ان کی ماں بھی کہیں انڈین فائرنگ کی زد میں آ کر مر چکی ہے۔ ہم ابھی تک اس کی ڈیڈ باڈی کی تلاش میں ہیں لیکں ابھی تک مردہ ماں کہیں نہیں ملی۔ '

 اسسٹنٹ وارڈن محکمہ جنگلی حیات محمد اشرف نے بتایا کہ 'ہم نے ان بچوں کو دواریاں میں مچھلیوں کے فارم پہ رکھا ہوا ہے۔  جب ان کو لے کر آئے تو ان کو فیڈر سے دودھ پلاتے رہے ہیں۔ ان کے لیے ایک لکڑی کا پنجرہ بھی بنایا ہوا ہے جس میں رات کو انہیں بند کر دیتے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے فنڈ نہیں ہیں کہ ہم ان کو عالمی معیار کے مطابق خوراک دے سکیں یا ان کے لیے پنجرہ بنا سکیں۔'

'پہلے یہ چھوٹے تھے صرف دودھ پیتے تھے اب ہم نے ان کو روٹی بھی کھلانی شروع کر دی ہے۔ پانی میں بھگو کر روٹی رکھتے ہیں تو یہ خوشی سے کھا لیتے ہیں۔ '

محمد اشرف نے مزید بتایا کہ 'اب تو یہ بڑے ہو گے ہیں اگر وقت پر کھانے کو نہ دو تو شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ فش فارم میں شہتوت کے درخت ہیں ان پر چڑھ کر شہتوت بھی کھاتے ہیں یہاں پر اکثر لوگ ان کو دیکھنے آتے ہیں وہ بھی ان کے لیے گوشت اور کیلے وغیرہ لے آتے ہیں۔' 

'ان بچوں کو کھانا دینے پر ایک ملازم مامور ہے، یہ اس کے ساتھ کافی مانوس ہو گئے ہیں۔ ایک دن تو ایسا ہوا کہ یہ دروازہ کھلا دیکھ کر اس کے پیچھے اس کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اس ملازم کا گھر بالکل ساتھ ہی ہے۔ '

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ 'ابھی ہم ان کو جنگل میں نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ان کو پیر چناسی چڑیا گھر میں شفٹ کریں گے جہاں لوگ ان کو دیکھنے بھی آئیں گے اور ان کی افزائش نسل بھی ہو گی کیونکہ یہ ایک نر اور ایک مادہ کا جوڑا ہے۔' 

ایشیائی کالا ریچھ، جسے تبتی کالا ریچھ، ہمالیائی کالا ریچھ اور چاند ریچھ بھی کہا جاتا ہے ایک درمیانہ قامت، تیز پنجوں اور کالے رنگ کا حامل ریچھ ہے۔ جس کی پہچان اس کے سینے پر سفید رنگ سے انگریزی حرف 'V' جیسا نشان بنا ہوتا ہے۔ یہ امریکی کالے ریچھ سے قریبی تعلق رکھتا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ میں ان کے اجداد مشترک تھے۔

وادی نیلم کے گھنے جنگلات میں کالا ریچھ پایا جاتا ہے لیکن ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔  

شکاری ان کا غیر قانونی شکار بھی کرتے ہیں اور ان کی چربی اور کھال کو مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ اب تو شکاری اس کوشش میں بھی ہوتے ہیں کہ کسی طرح کالے ریچھ کے بچے ہاتھ آ جائیں تو بلیک مارکیٹ میں بیچ کر اچھے پیسے کما سکیں۔ کالے ریچھ کے بچے کو پکڑنا انتہائی مشکل کام ہے۔ 

ریچھ کی ماں اپنے بچوں سے انتہائی محبت کرتی ہے اور اس کی دکھ بھال اپنی جان سے بڑھ کر کرتی ہے۔ ماں کی موجودگی میں اس کا بچہ اس سے چھینا نہیں جاسکتا اس لیے بچے کو پکڑنے کے لیے ریچھ کے شکاری پہلے اس کی ماں کو مارتے ہیں اور پھر ریچھ کو پکڑا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا